شمسی توانائی پر منتقل ٹیوب ویلز کے کنکشن منقطع، زرعی صارفین برقی آلات کی واپسی میں تعاون کریں، کیسکو کی اپیل

کوئٹہ (یو این اے) کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کیسکو نے صوبے کے ان تمام زرعی ٹیوب ویل کنکشنز کو اپنے نیٹ ورک سے منقطع کر دیا ہے جنہیں حکومت کی جانب سے شمسی توانائی پر منتقلی(سولرائزیشن)کے منصوبے میں شامل کیا گیا تھا۔ حکومتی فیصلے کے تحت صوبے کے تمام رجسٹرڈ زرعی صارفین کو سولرائزیشن منصوبے کی مد میں فی کس 20 لاکھ روپے کی بھاری رقم فراہم کیے جانے کے بعد کیسکو کی ٹیموں نے متعلقہ ٹیوب ویلوں کے برقی کنکشنز کاٹ دیے ہیں۔ اس مہم کے دوران مختلف مراحل میں صوبہ بھر کے زرعی صارفین کے ٹرانسفارمرز اور ان سے منسلک برقی آلات اتار کر کیسکو کے اسٹورز میں جمع کرا دیے گئے ہیں، تاہم یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض زرعی صارفین نے شمسی توانائی پر منتقل ہونے اور حکومت سے رقوم وصول کرنے کے باوجود ابھی تک سرکاری ٹرانسفارمرز اور دیگر قیمتی برقی آلات کیسکو کی ٹیموں کے حوالے نہیں کیے ہیں۔کیسکو حکام نے واضح کیا ہے کہ سولرائزیشن منصوبے کے تحت حکومت کی جانب سے زمینداروں کو فی کنکشن 20 لاکھ روپے ملنے کے بعد تمام زرعی صارفین اپنے ٹرانسفارمرز، بجلی کے کھمبے اور دیگر برقی آلات کیسکو کو واپس کرنے کے قانونی طور پر پابند ہیں۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومت کی جانب سے "بلوچستان زرعی سولرائزیشن اور بجلی چوری کی روک تھام کا مسودہ قانون مصدرہ 2025” بھی منظور کیا جا چکا ہے، جس کے تحت سرکاری ٹرانسفارمرز، کھمبے اور برقی آلات واپس نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ زمینداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ کیسکو انتظامیہ نے شمسی توانائی پر منتقل ہونے والے تمام زرعی صارفین سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس قومی منصوبے کی شفاف تکمیل اور ملکی اثاثوں کے تحفظ کے لیے اپنے زرعی ٹرانسفارمرز، کھمبوں اور دیگر برقی آلات کی واپسی کے عمل میں کیسکو کی فیلڈ ٹیموں سے بھرپور تعاون کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں