تھوڑا صبرکر لیں

اپوزیشن حکومت کا فوری خاتمہ چاہتی ہے مگر بوجوہ اس کی خواہش جلدبلکہ مزید دوسال کے دوران پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔ حالانکہ عوام مہنگائی کی وجہ سے حکومت کو جھولی پھیلا کر بددعائیں دے رہے ہیں۔ جب بھی کوئی ٹی وی نمائندہ بازاروں میں عوامی رائے جاننے کی کوشش کرتا ہے تو اکثریت ناراضگی کا اظہار کرتی ہے۔سبزی کے ٹھیلے پر کھڑی گھریلو خواتین اپنے کانوں کو ہاتھ لگاکر کہتی ہیں:”سبزی اتنی مہنگی ہو گئی ہے کہ خریدسے باہر ہے،ادرک،لہسن کے دام آسمان سے باتیں کر رہے ہیں، مہنگائی نے جینا حرام کر رکھا ہے!“وزیر اعظم عمران خان خود تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی حکومت مہنگائی پر قابو نہیں پا سکی۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اپوزیشن عوامی ناراضگی کو تاحال کیش نہیں کرا سکی۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان ہاؤس تبدیلی کے لئے جتنے اراکین درکار ہیں،اپوزیشن جمع کرنے میں تاحال ناکام ہے۔سڑکوں عوام نہیں آئے۔ایسٹبلشمنٹ نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے یا کسی وجہ سے ماضی جیسی محبت برقرار نہیں رہی،یااس میں دراڑ پڑ گئی ہے۔اپوزیشن کو مان لینا چاہیئے کہ عالمی تقاضے تبدیل ہو گئے ہیں۔جب فاصلے بڑھ جائیں،رنجشوں میں اضافہ ہوجائے،راز بے نقاب کرنے کی دھمکیاں اپنا اثر کھو بیٹھیں،عدالتوں کے فیصلے چیلنج ہوں تو اپیل میں جانے کی بجائے عدالت سے باہر معاملات طے کرنا پسند کیا جائے۔گویا بیک ڈور رابطوں کے ساتھ ہی اوپن ڈور رابطے بھی افادیت سے محروم نظر آنے لگیں تو اپوزیشن کے پاس ایک ہی آپشن رہ جاتا ہے کہ تھوڑا صبر کر لے۔پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن (پی پی پی کے علاوہ دیگر جماعتیں)استعفے بھی نہیں دیتے، الیکشن بھی لڑ رہے ہیں تو پی پی میں شامل ہو جائیں۔اپوزیشن لیڈرشہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ نون کو پی پی پی نہ صرف تسلیم کرتی ہے بلکہ بجٹ کے خلاف اپنے تمام ایم این ایز بھی چیئرمین بلاول نے غیر مشروط طور پر ان کے سپرد کردیا ہے۔ سیاسی مبصرین اس اعلان کو ایک اور پہلو سے بھی اہمیت دیتے ہیں، ان کے خیال میں آئندہ نون لیگ کی قیادت شہباز شریف کریں گے، مریم نواز نئے منظر میں کوئی فعال کردار ادا کرتی دکھائی نہیں دیتیں۔بڑے بھائی کے پیر پکڑ کر انہیں منانے والی باتیں سیاسی لفاظی سے زیادہ کچھ نہیں۔سیانے بہت پہلے کہہ چکے ہیں سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔جیسے جیسے یہ تأثر کمزور پڑے گا کہ ووٹ بینک نوازشریف کاہے اسی رفتار سے شہباز شریف کی نون لیگ پرگرفت مضبوط ہوتی جائے گی۔نواز شریف بیانیہ قبولیت حاصل نہیں کر سکابلکہ یہ بیانیہ نون لیگ کے اندر بھی جگہ نہیں بناسکا۔چوہدری نثار علی خان آج بھی اپنے مؤقف پرقائم ہیں، مریم نواز کو بچی کہتے ہیں،نون لیگ کی قائد تسلیم نہیں کرتے۔یہ رویہ درست تناظر میں دیکھا جائے، دوررس نتائج کا حامل ہے۔لندن کا قیام شریف فیملی کو مہنگا پڑے گا۔سیاسی قیمت چکانی ہوگی۔اگر نواز شریف دوسال لندن میں گزار سکے تو پاکستان میں پارٹی کی قیادت عملاً شہباز شریف کے پاس چلی جائے گی۔ مفرور اور سزا یافتہ مجرم ہونے کا لیبل نواز شریف پر پہلے ہی لگ چکا ہے، پاکستان میں ان کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد عدالتی حکم پرنیلام ہو گئی ہے۔یہ بھی ملحوظ خاطر رہے کہ اس دوران پی ٹی آئی کی حکومت اپنے بجٹ پر عملدرآمد کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔ بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اس بجٹ پر 75فیصد بھی عمل کرانے میں کامیاب ہوگئی توسر اٹھا کر اتخابات میں عوام کا سامنا کر سکے گی اور پی ٹی آئی یہ کہنے میں حق بجانب ہوگی کہ اس نے پاکستان کے عوام کے لئے ریلیف اور خصوصاً معاشی بحالی اور ترقی کا جو دعویٰ کیا تھا،پورا کر دکھایا اور عوام ایک بار پھر ان پر اعتماد کا اظہار کریں۔۔۔۔ لیکن اگر ان نعروں، دعووں اور اصلاحات پر پیش رفت نہ ہو سکی تو پھر حکومت کی رہی سہی مقبولیت اور ساکھ کا دیوالیہ نکل جائے گا۔لہٰذا اچھی توقعات کے ساتھ حکومت کے لئے دعا گو ضرور ہونا چاہیئے کیونکہ ملکی معیشت کا مسئلہ صرف پی ٹی آئی کا مسئلہ نہیں، پاکستان کا مسئلہ ہے۔تجزیہ کار ملکی تناظر میں بجٹ کو دیکھ رہے ہیں اسی طرح اپوزیشن کو بھی چاہیئے کہ جماعتی اور گروہی سطح سے بلند ہو کر بجٹ کی جانچ پڑتال کریں،عام آدمی کے مفادات کو بنیاد بنائیں۔انہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ بنگلہ دیش علیحدگی یا آزادی سے پہلے مشرقی پاکستان کہلاتا تھا مگر آزادی کے بعد اس نے معاشی اور تعلیمی لحاظ سے مثالی ترقی کی۔نیویارک ٹائمز کے کالم نگار نکولس کرسٹوف نے لکھا ہے:۔۔۔۔۔ ”بنگلہ دیش کا قیام آج سے پچاس سال قبل عمل میں آیا تھا،اس وقت وہاں بھوک کیسوا کچھ نہ تھا۔ہنری کسنجر نے اسے ” با سکٹ کیس“ قرار دیاتھا۔1974کی قحط سالی نے اس ملک کے لاعلاج ہونے پر مہرتصدیق ثبت کر دی تھی۔ پھر 1991میں ہولناک سمندری طوفان آیاجس میں ایک لاکھ سے زائد لوگ مارے گئے۔اس وقت بنگلہ دیش کو بدقسمت ملک قرار دیا گیا۔مگر گزشتہتین عشروں میں بنگلہ دیش نے غیر معمولی ترقی کی ہے۔معاشی شرح نمو میں اضافہ ہوا، عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق کووڈ سے پہلے مسلسل چار سال تک اس نے سات سے آٹھ فیصد سالانہ سے شرح سے ترقی کی منازل طے کیں،یہ چین سے بھی زیادہ تیز رفتار ترقی ہے۔بنگلہ دیش میں اوسط عمر72سال ہوگئی ہیجو امریکہ کے کئی علاقوں سے بھی بہتر اوسط عمر ہے۔80کی دہائی سے پہلے بنگلہ دیشی ایک تہائی شہری اپنی ایلیمنٹری اسکول تعلیم مکمل کر پاتے تھے، آج بنگلہ دیش کے 98فیصد بچے اپنی ایلیمنٹری تعلیم مکمل کرتے ہیں۔عالمی بینک بنگلہ دیش کو کامیابی کی ایک لازوال کہانی قرار دیتا ہے۔جہاں ڈھائی کروڑ سے زائد افراد کو خط غربت سے نکالنے میں صرف 15سال لگے۔1991 کی کمی کا مسئلہ صرف نصف رہ گیا اور بنگلہ دیش اس میدان میں بھارت سے بھی آگے نکل گیا ہے“۔۔۔۔۔پاکستانی سیاست دانوں کو سوچنا چاہیئے کہ پاکستان میں ایسی کون سی خرابی تھی اور ہے،جسے دور کئے بغیر پاکستان بنگلہ دیش جیسی ترقی نہیں کر سکتا۔جبکہ پاکستان میں بنگلہ دیش جیسی المناک قحط سالی اور ہولناک سمندری تباہی نہیں آئی،اس کے باوجود پاکستان معاشی دیوالیہ پن کی دہلیز تک کیسے پہنچا؟یاد رہے معاشی بدحالی خود بخود نہیں آئی، یہ دانستہ اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلط کی گئی ہے۔اب بھی پاکستان کے مسائل لاعلاج نہیں، دس پندرہ برسوں میں لوگوں کی معقول تعداد کو خط افلاس سے نکالا جا سکتا ہے۔اگر پی ٹی آئی کی حکمت ہمارے تجزیہ کاروں کی رائے کے مطابق 75فیصد بجٹ دعووں پر عمل کرنے میں کامیاب ہوگئی تو آئندہ انتخابات میں عوام کاسامنا کرنے کے قابل ہو جائے گی۔غیب کا حال اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں