موجودہ صوبائی حکومت صوبے کی نااہل ترین حکومت ہے، مولانا عبدالواسع

کوئٹہ:جمعیت علما اسلام کے صوبائی امیر و رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ مو جو دہ صو با ئی حکومت صوبے کی نااہل ترین حکومت ہے عوامی مفادات کی بجائے اتحادی جماعتوں اور وزراء کو خوش کرنے کیلئے اربوں روپے کے فنڈز راتوں رات جاری کئے گئے، اتحادی اپنے مفادات اور جام کما ل کو خوش کرنے کیلئے عوامی مفادات کے برخلاف فیصلے کررہے ہیں آنیوالے وقت میں اتحادی جام کی حکومت کا حساب ضرو ردیں گے، قومی اسمبلی میں غیر جمہوری روایات کو کسی بھی صورت تسلیم نہیں کریں گے حکومت اجلاس چلانے کیلئے جمہوری طریقہ اپنا یاجائے۔اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہاکہ آج بلوچستان کے عوام نے ثابت کردیا کہ وہ حکومتی فیصلے کے خلاف ہر فورم پر احتجاج کریں گے حکومت نے آدھی بلوچستان کی نمائندگی کرنے والے اپوزیشن جماعتوں کا بجٹ غیر منتخب نمائندوں کے ذریعے تقسیم کرکے یہ ثابت کردیا کہ عوامی نہیں بلکہ سلیکٹڈ حکومت ہے اور حکومت کے اس عمل کے خلاف بلوچستان سراپا احتجاج رہا اور قومی شاہراہیں بند رہے جام حکومت اور اتحادی صوبے کی مفاد کی بجائے اپنے ذاتی فیصلے کررہے ہیں جس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے وقت آنے پر صوبے کے عوام ضرور ان سے حساب لیں گے انہوں نے کہاکہ وفاق میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے اگر عوام کی جیب خالی ہے تو بجٹ جعلی ہے، 383 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگنے جارہے ہیں، بجٹ سے مزید بدحالی آئیگی اور مہنگائی آسمان پر جائیگی بجٹ میں ایک سو بیس ار ب روپے کے نئے انکم ٹیکس عائدکیے جا رہے ہیں، آپ نیا پاکستان تو نہیں بناسکے، قوم کو کچھ توکرکے دکھاتے تقاریر اور باتوں سے قومیں نہیں بنتیں، دن رات محنت کرنی پڑتی ہے، یہ ڈکٹیٹر شپ یا فاشزم نہیں کہ ڈنڈے سے ہر چیز چلادیں انہوں نے کہاکہ ہمیں عوام نے اپنی نمائندگی اور مسائل کے حل کیلیے بھیجا ہے،کل اجلاس میں جو ہوا انتہائی افسوسناک تھا،ایوان کا ہر دن کا خرچ کروڑوں روپیکا ہے،ایک ایک لمحہ اور ایک ایک پائی ملک کی امانت ہے،اپوزیشن کافیصلہ تھا کہ ہم بات کریں گے،حکومت کی بات بھی سنیں گے، کل پوری دنیا میں بہت غلط پیغام گیا ہے انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے عوام آج بجٹ اجلاس میں بھی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ملکر حکومت کے ناروا رویہ کے خلاف اپنا بھرپور جمہوری حق ادا کریں اگر حکومت کا رویہ نہ بدلا توجمعیت علما اسلام سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور ہو گی جس کی تمام تر ذمہ داری سلیکٹڈ حکومت پر عائد ہو گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں