بلوچستان حکومت پر اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے،نواب رئیسانی

اکوئٹہ:سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ورکن صوبائی اسمبلی نواب محمد اسلم خان رئیسانی نے کہاہے کہ جام کمال پر اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے،میں ساتھیوں کاساتھی،تحریک عدم اعتماد سیاسی جماعتوں کاکام ہے،اپوزیشن کابراہ راست فنڈز مانگنے کا بیان سراسر غلط ہے،صوبائی وزیر خزانہ مبالغہ آرائی سے کام لے رہے ہیں،اپوزیشن کامطالبہ ہے کہ حکومتی بینچز کے طرز پر اپوزیشن حلقوں کی بھی عوامی مفاد کے اسکیمات منظور ہوں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ نواب محمداسلم رئیسانی نے کہاکہ تمام اداروں اور پارلیمنٹ کا آئین کے مطابق حدود متعین ہے پی ڈی ایم کی جدوجہد سول بالادستی قائم کرناہے صوبائی حکومت احکامات پرچل رہی ہے صوبائی وزیر خزانہ ظہوراحمدبلیدی مبالغہ آرائی سے کام لے رہے ہیں اپوزیشن براہ راست فنڈز نہیں مانگ رہی،ہمارا مطالبہ ہے کہ جتنا حکومتی بینچز کو فنڈز ملتے ہیں اپوزیشن حلقوں کو بھی ان کا حق دیاجائے سفید کاغذ پرکسی کو گیس،سکول اپ گریڈ ہو عوامی مفاد کی اسکیمات منظور کی جائیں براہ راست فنڈز مانگنے سے متعلق بیان غلط بیانی ہے،میں ساتھیوں کاساتھی ہوں تحریک عدم اعتماد صرف سیاسی جماعتیں لا سکتی ہیں میں آزاد امیدوار ہوں جام کمال پر اسیٹبلشمنٹ کا ہاتھ ہے جب ہم تحریک عدم اعتماد کی بات کرتے ہیں توکیسز کی وجہ سے آواز اٹھانے والے خاموش ہوجاتے ہیں سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے جب اللہ چاہے گا تو جام کمال جام بھی ہوسکتے ہیں یا کہیں اور بھی جاسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ افغانستان ہم بلوچوں کا بھی وطن ہے، ہر زء شعور شخص چاہے گا اس کے وطن میں امن آسودگی اور ترقی ہو،افغان عوام اپنے سرزمین پہ بیرونی مداخلت کی ہر گز اجازت نہ دیں، اپنے درخشندہ روایات کا تسلسل برقرار رکھتے ہوے اپنے مسائل آپس میں مل بیٹھ کر گفت و شنید سے حل کریں۔ ہماری گزارش ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں