بلوچستان بجٹ اجلاس، ہیلتھ کارڈ کے اجراء کیلئے 5.914بلین روپے کی رقم مختص

کوئٹہ : مالی سال 2021-22کے لئے بلوچستان کے بجٹ میں صوبے کے 18لاکھ 75ہزار خاندانوں کے تمام افراد کے لئے ہیلتھ کارڈ کے اجراء کے لئے 5.914بلین روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ جمعہ کے روز اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو کے زیر صدارت ہونے والے بجٹ اجلاس کے موقع پر صوبائی وزیر خزانہ نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 5.914 بلین روپے کی لاگت سے بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کا اجرا کرنے جا رہی ہے جس کے تحت تقریبا 18لاکھ 75ہزار خاندانوں کے تمام افراد کو10 لاکھ مالیت تک مفت علاج میسر ہوگااور غریب و نادار خاندانوں کو بہترین طبی سہولیات بالکل مفت میسرآسکیں گی اور وہ مہنگے سے مہنگا علاج پینل پر موجود ہسپتالوں سے کرا سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ سال2020سے دنیا کو کورونا وائرس کی ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہماری حکومت وبائی یا ہنگامی صورتحال میں پیشگی اقدامات اٹھانے کے لیے بلوچستان کمانڈ و آپریشن سینٹر (BCOC)کا قیام عمل میں لاچکی ہے جو کہ بہترین ربط کاری اور پیشگی اقدامات اٹھانے سمیت دیگر اہم امور میں متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔ ڈویژنل سطح پر کمشنرز کی زیر نگرانی ڈویژنل کمانڈ و کنٹرول سینٹرز (DCOC) ایمرجنسی صورتحال میں ریلیف آپریشنز کی ذمہ داریاں سر انجام دے رہے ہیں۔ صوبائی حکومت معزز ایوان کے توسط سے کورونا وائرس کی وبائی صورتحال میں جن محکموں اور اداروں بالخصوص شعبہ صحت سے منسلک ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکل اسٹاف سمیت قانون نافذکرنے والے اداروں اور سرکاری ملازمین نے ایمرجنسی سروسز فراہم کی ہیں ان سب کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہے۔کورونا وائرس سے بچاؤکے لئے حفاظتی ٹیکہ جات کا پروگرام شروع ہو چکا ہے اور ہمارا عزم ہے کہ وفاقی حکومت (NCOC)کے تعاون سے تمام آبادی کو اس جان لیوا مرض سے بچاؤ کی ویکسین لگائی جائے گی تاکہ ہم اس وبائی مرض سے بچ سکیں اور اپنی اور آئندہ آنے والی نسلوں کو محفوظ بنا سکیں۔ صوبے میں شاہراہوں پر حادثات سے اموات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ہماری حکومت عوامی خواہشات کے تناظر میں 3.921 بلین روپے کی خطیر رقم سے اہم شاہراہوں پر ایمرجنسی رسپانس سینٹرز کا قیام عمل میں لارہی ہے اور اس مد میں اب تک 787 ملین روپے جاری کئے جا چکے ہیں اور اگلے مالی سال 2021-22میں اس کے لئے 717.640ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ہماری حکومت نے محکمہ صحت میں جدید اصلاحات لانے کے لئے اسکو دو محکموں میں تقسیم کر دیا ہے جس میں ایک محکمہ پرائمری وسیکنڈری ہیلتھ کیئر جبکہ دوسرا اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اورمیڈیکل ایجوکیشن شامل ہے۔ جس کا بنیادی مقصد صحت کے شعبے میں مجموعی طور پر بہتری لانا ہے۔مالی سال 2021-22میں بولان میڈیکل کالج میں دو نئے ہاسٹلز کی تعمیر کے لئے 200 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔چلڈرن ہسپتال کوئٹہ کی توسیع کے لئے 500 ملین روپے رکھے گئے ہیں اور آنے والے مالی سال 2021-22 کے لئے 100 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔700ملین روپے کی لاگت سے صوبے کے 7 اضلاع کے ڈاکٹروں کے رہائشی مکانات کی تعمیر کے لئے مالی سال 2021-22 میں 100ملین روپے رکھے گئے ہیں۔صوبے میں میڈیکل کی تعلیم کے لئے 12.104 بلین روپے کی لاگت سے میڈیکل کالجز جن میں تربت، لورالائی اور خضدارمیڈیکل کالجز شامل ہیں جن پر ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہے،اب تک اس مد میں 1.761بلین روپے خرچ کئے جاچکے ہیں۔صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 1.396 بلین روپے کی لاگت سے میڈیکل ڈینٹل کالج کے قیام کے منصوبے پرترقیاتی کام تیزی سے جاری ہے جس کے لئے اب تک 295.00 ملین روپے جاری کئے جا چکے ہیں۔ مالی سال 2021-22کے لئیصوبے میں خدمات سرانجام دینے والے مختلف طبی اداروں کو گرانٹ ان ایڈ کی مد میں 1.450بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ جن میں چلڈرن ہسپتال کوئٹہ، جی ڈی اے ہسپتال گوادر، لیڈی ڈفرن ہسپتال کوئٹہ، پی پی ایل ویلفیئر ہسپتال سوئی، کوئٹہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، سیف بلڈ اتھارٹی، ابراہیم آئی ہسپتال خاران، جام شفا ہسپتال کوئٹہ،نواب غوث بخش رئیسانی میموریل ہسپتال مستونگ،انڈس ہسپتال کراچی شامل ہیں۔نئے مالی سال میں تمام سرکاری ہسپتالوں میں پرچی فیس (OPD Slip Fee) کو ختم کیا جارہا ہے۔موجودہ حکومت 33نئے BHUsکا قیام عمل میں لارہی ہے جو ہر ضلع میں قائم کئے جائیں گے۔اس کے علاوہ صوبے بھر میں 33 موجودہ BHUs کو اپ گریڈ کرکے RHCکا درجہ دیا جائے گا۔جبکہ5اضلاع میں DHQs ہسپتال قائم کئے جارہے ہیں جن میں صحبت پور، شیرانی، بارکھان، دکی اور ڈیرہ اللہ یار شامل ہیں۔نئے مالی سال 22-2021 میں شعبہ صحت کے لئے تقریبا 750 نئی آسامیاں رکھی گئی ہیں۔مجموعی طور پر مالی سال 22-2021 میں صحت کے شعبے کو مزید بہتر بنانے کے لئے حکومت نے غیر ترقیاتی فنڈز میں 44.694 بلین روپے رکھے ہیں جبکہ ترقیاتی مد میں 11.884 بلین روپے مختص کئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں