دلیپ کمار ہندوستان اور پاکستان کو اکٹھا کر سکتے تھے،سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری
اسلام آباد:لیجنڈری اداکار دلیپ کمار نے نا صرف برصغیر میں سلور اسکرین پر اپنی غیر معمولی اداکاری کے جوہر دکھائے بلکہ اس خطے کے ہندوں اور مسلمانوں کو اکٹھا کرنے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصور کے مطابق دلیپ کمار نے دو دفعہ پاکستان کو دورہ کیا جبکہ وہ اپنے دورہ بھارت پر اداکار سے ملنے ممبئی گئے تھے۔باندار میں اداکار کی رہائش گاہ کے دورے کے خورشید محمود قصوری سے پوچھا گیا کہ وہ دلیپ کمار کے گھر کیوں رکے تھے جس پر انہوں نے جواب دیا کہ دلیپ کمار صاحب نے ہندوں اور مسلمانوں کو اکٹھا کرنے کے لیے دو دفعہ خفیہ طور پر پاکستان کا دورہ کیا،انہوں نے اپنی کتاب میں بھی اس بات کا انکشاف کیا۔اور کہا تھا کہ دلیپ کمار وہ واحد اسنسان ہیں جو ہندوستان اور پاکستان کو اکٹھا کر سکتے ہیں۔انہوں نے دلیپ کمار کو کتاب بھی تحفے میں دی تھی۔واضح رہے کہ شہنشاہ جذبات کہلائے جانے والے لیجنڈری اداکار دلیپ کمار کے انتقال پر پاکستان اور بھارت کی اہم سیاسی، سماجی و شوبز شخصیات سمیت مداحوں نے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی موت کو ایک دور کا اختتام قرار دیا ہے۔دلیپ کمار 7 جولائی کی صبح 98 برس کی عمر میں طویل عرصے تک علیل رہنے کے بعد ہسپتال میں وفات پاگئے۔انہوں نے سوگواروں میں 75 سالہ بیوہ سائرہ بانو چھوڑی ہیں، ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔بھارتی صدر، وزیر اعظم، وزار سمیت وہاں کی سیاسی، سماجی و شوبز شخصیات نے دلیپ کمار کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی مغفرت کی دعائیں بھی کیں جبکہ پاکستانی سیاسی، سماجی، اسپورٹس و شوبز شخصیات نے بھی ان کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا۔لیجنڈری اداکار امیتابھ بچن نے اپنی ٹوئٹ میں دلیپ کمار کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے انتقال کو ایک دور اور ادارے کے اختتام سے تشبیہ دی۔


