فنڈز کی واپسی سے حکومتی نااہلی و غفلت کا رویہ واضح ہو گیا،مولانا عبدالحق ہاشمی

کوئٹہ: جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا کہ جماعت اسلامی عوامی بیداری،سیاسی رہنمائی کے کام کو مزید منظم کرنے کیلئے کوشاں ہے حکومتی کارکردگی پر تنقید اور اسکا محاسبہ اسی عمل کا حصہ ہے ہم عوام کے غصب شدہ اور پامال حقوق کی بازیابی اور بجاآوری تک یہ محاسبہ جاری رکھیں گے 50ارب روپے کے واپس ہوجانے سے حکومتی نااہلی اور غفلت کا رویہ واضح ہے یہ فنڈزترقی کے نام پر وزرا اور ممبران اسمبلی کو دیئے جاتے ہیں یہ حقیقت میں ان کو نوازنے اوربدعنوان ٹھیکیداری سسٹم کوبرقراررکھنے کی ایک کوشش ہے بیوروکریسی اس میں اپنا کمیشن لیکر پوری طرح ملوث ہے یہ صوبے کے عوام کیساتھ ایک ظلم اوران کے حق ہر قانونی ڈاکہ ہے وزیراعلی کو چاہیے تھا کہ وہ اس کرپشن کے نظام میں اصلاحات لاتے عوامی مسائل کے حل میں آسانیاں اورسہولتیں پیداکرتے مگروہ بھی اسی نظام کا حصہ بن گیے ہیں مگراپنے ترجمانوں کے ذریعے روزانہ گڈگورننس کے قصیدے پڑھواتے ہیں۔ان خیالات کااظہارانہوں نے جماعت اسلامی بلوچستان کے امرائے اضلاع وجنرل سیکرٹریزکے ایک روزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیااجلاس میں صوبہ بھر سے امرائے اضلاع،جنرل سیکرٹریزاور صوبائی ذمہ داران ہدایت الرحمان بلوچ،مولانا عبدالکبیر شاکر،ڈاکٹرعطا الرحمان،زاہدا ختر بلو چ سمیت دیگر شریک ہوئے۔اجلاس میں امرائے اضلاع نے نوماہ کی تنظیمی رپورٹ پیش کی۔اجلاس سے صوبائی ذمہ داران وامرائے اضلاع نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت عوامی مسائل کے حل،کرپشن کے خاتمے اور بلوچستان کو حقوق دینے میں دلچسپی نہیں لے رہی آرڈیننسزکے ذریعے لاڈلوں کو آسانی وراہ فرارکا موقع دیکر بدعنوان عناصر کی سرپرستی کی جارہی ہے۔بلوچستان میں پینے کا پانی،بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ سمیت تعلیم وصحت کے بدترین مسائل ہیں۔ماہی گیر،مزدور،طلبا سمیت ہرطبقہ احتجاج پر اور پریشانی کے شکار ہیں۔ بجلی، گیس بحران،بے روزگاری اور بدعنوانی آج بھی عروج پر ہے۔وفاقی صوبائی حکومتوں کی جانب سے عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا جارہا مہنگائی بے روزگاری کا خاتمہ حکومت کی ترجیح نہیں صرف تسلی،وعدے اور خالی خولی بے عمل اعلانات کیے جارہے ہیں۔معیشت کا پہیہ جام،بھاری سودی قرضوں کا حصول کا حصول ہی ہدف رہ گیا ہے۔ناکام حکومتی پالیسیوں اوراپوزیشن کی ناکام حکومت عملی کی وجہ سے مسائل میں کمی کے بجائے روزبروزاضافہ ہورہا ہے۔ تین سال میں حکومت نے عوام کی کوئی خدمت کی نہ اسمبلی میں قانون سازی اور نہ ہی عوامی سلگتے مسائل کو حل کرنے کی کوئی حکمت عملی ومنصوبہ بندی کی گئی اب حکومت کوفوری طور پر عوام کی حقیقی خدمت،بدعنوان عناصر کی گرفتاری وقومی دولت برآمد کرنے مہنگائی وبے روزگاری کم کرنے پرتوجہ دیناچاہیے بلوچستان کی ترقی،مسائل سے نجات کو خصوصی ہدف بنایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں