لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی کفالت، وفاقی و صوبائی حکومتوں کا انکار

کراچی :سندھ ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد کی بازیابی سے اور اہلخانہ کی کفالت سے متعلق میکنیزم بنانے سے متعلق ایڈوکیٹ جنرل تفصیلی جواب طلب اور سیکریٹری ہیومن رائیٹس آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ہدایت کردی۔ جسٹس صلاح الدین پہنور کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو لاپتہ افراد کی بازیابی سے اور اہلخانہ کی کفالت سے متعلق میکنیزم بنانے سے متعلق سماعت ہوئی۔ وفاقی اور صوبائی حکومت نے لاپتہ افراد کے اہلخانہ کی کفالت سے ہاتھ کھڑے کرلئے۔ ایڈوکیٹ جنرل نے موقف دیا کہ دو چار کو سرکاری ملازمت دی تو کل درجنوں درخواستیں لے کر آجائیں گے۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے موقف دیا کہ سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ کے پاس اگر کوئی گنجائش ہوگی تو وہ مالی معاونت کرسکتے ہیں۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ وزیر اعظم کو لاپتہ افراد کے معاملے پر شدید تشویش ہے۔ وزیر اعظم نے لاپتہ افراد کے معاملے پر نوٹس لے لیا ہے۔ اہل خانہ کی احساس پروگرام یا بیت المال سے معاونت کے لئے کہا ہے۔ معاوضہ دینے سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ نے معطل کردیا تھا۔اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کے حکم نامے کی کاپی عدالت میں پیش کردی۔ عدالت نے سیکریٹری ہیومن رائٹس کو جھاڑ پلاتے ہوئے ریمارکس دیئے آپ کا کام عدالت کو کرنا پڑ رہا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے لاپتہ افراد کا معاملہ انتہائی اہم ہے۔ جسٹس صلاح الدیں پہنور نے ریمارکس میں کہا کہ اہلخانہ 8,8 سال سے عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ کفالت نہیں کرسکتے تو انکے بچوں یا بیویوں کو سرکاری ملازمت دی جائے۔ حکومت کے پاس فنڈز اور الاوئنسز بھی ہوتے ہیں نہ جانے وہ کہاں جاتے ہیں۔ اعلی سطح پر کمیٹی بنائی جائے تاکہ تمام معاملات کا جائزہ لیا جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں