پارلیمانی کمیٹی نے جبری مذہب تبدیلی کا بل مسترد کردیا

اسلام آباد: پار لیمانی کمیٹی برائے تحفظ اقلیتی امور اور زبردستی مذہب تبدیلی نے جبری مذہب تبدیلی کے بل کو حکومتی اور اقلیتی رہنماؤں کی طویل ترین بحث کے بعد مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ قوانین کے تحت جبری مذہب تبدیلی کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور ریاست تحفظ برائے اقلیتوں کے لیے کوئی بل لانا چاہے تو وہ اقدامات کر سکتی ہے،حکومتی وزرا نے کہا ہے کہ اقلیتوں کے حقوق کی ریاست پاسداری کر رہی ہے اور آئندہ بھی کریگی،موجودہ بل کو پرائیویٹ ممبر نے پیش کیا تھا جس کو وزارت مذہبی امور اور اسلامی نظریاتی کونسل نے 43اعتراضات لگا کر مسترد کر دیا ہے،یہ بل پاس ہونے سے اقلت اور مسلمانوں کے درمیان تفریق پیدا ہونے کے ساتھ منافرت پھیلے گی،جماعت اسلامی نے بل کو پہلے حکومت سے نتھی کرنے کی کوشش کی تاہم حکومت کی جانب سے اعتماد میں لینے کے بعد بل کو مسترد کردیا،تاہم اس موقع پر اقلیتی رہنماؤں میں سے ڈاکٹر رمیش کمار نے جبری ووٹنگ کے ذریعہ بل پاس کرانے کی کوشش کی تاہم وہ ایسا نہ کر سکے،جبکہ دیگر اقلیتی رہنماؤں نے حکومت سے استدعا کی کہ عمر کی حد اور دیگر اعتراضات والے حصوں کو ہذف کر کے پرائیویٹ بل کی بجائے حکومت ایک بل لائے تاکہ اقلیتوں میں احساس محرومی کا خاتمہ ہو،کمیٹی اجلاس میں حکومتی وزرا اور ارکان پارلیمنٹ کے درمیاں گرما گرمی بھی پیدا ہوئی تاہم چیرمین کمیٹی نے معاملہ کو سلجھا دیا،گزشتہ روز سینٹر لیاقت ترکئی کی زیر صدارت کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں سینٹر دانش کمار،مشتاق احمد،مولوی فیض محمد،رکن اسمبلی رمیش کمار،جائی پرکاش،لال چند،کیشو مل،رمیش لال،نوید عامر جیوا کے علاوہ وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری،وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری،وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان و دیگر نے شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں