غیر مساوی ترقی؛ملک محفوظ نہیں رہتا

وزیر اعظم عمران خان نے بجا طور درست کہا ہے کہ غیر مساوی ترقی سے ملک محفوظ نہیں رہتا۔ غیر مساوی ترقی سے استحصال کی ناگوار بو آتی ہے۔یہ تیز اور چبھنے والی بو اعصاب میں تناؤ پیدا کرتی ہے اور ذہن سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لیتی ہے۔اس کے نتیجے میں نقصان کی حدت اور شدت سے معاشرہ بے نیاز ہوکرغیر محسوس انداز میں جس سفر پرکاآغاز کرتا ہے اس میں واپسی کی گنجائش اکثر و بیشتر بہت کم ہوا کرتی ہے۔وہ معاشرے خوش قسمت ہوتے ہیں جو اپنی اصلاح کرتے ہیں اور مکمل تباہی سے بچ جاتے ہیں۔تاریخ میں دونوں قسم کی مثالیں موجود ہیں۔پاکستان نے تباہی کی جانب طویل فاصلہ طے کر لیا ہے لیکن ابھی اس مقام تک نہیں پہنچا جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو۔”گوادر کوحق دو“کا نعرہ صدا بصحرا ثابت نہیں ہوا۔تلخی بڑھانے کی غلطی نہیں دہرائی گئی۔ورنہ اسلام آباد والوں نے 126دن تک ڈی چوک پر دیئے گئے دھرنے سے اپنی آنکھیں بند رکھیں اور اپنے میں انگلیاں ڈالنا پسند کیا۔وزیر اعظم نے چار ہفتوں میں ہی اس دھرنے کا نوٹس لے لیا ہے، بعض عملی اقدامات کے اشارے بھی ملے ہیں۔توقع کی جاسکتی ہے کہ تمام جائز شکایات جلد دور کی جائیں گی۔اورہائبرڈ حکومت سازی کی روک تھام بھی اس ایجنڈے میں شامل ہوگی۔ہائبرڈوار کی طرح اس کے بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان کایہ کہنا کہ قانون کی حکمرانی نہ ہو تو انتخابات میں وار لارڈز، طاقتور اور جرائم پیشہ آگے آتے ہیں۔اس سے یہی سمجھا جاسکتا ہے کہ ہائبرڈ حکومت سازی کا راستہ روکنے کے لئے بھی حکومت ذہنی اور عملی طور پر تیار ہے۔بلوچستان کی سمندری حدود میں غیر ملکی ٹرالرز کا غیر قانونی داخلہ اور مچھلیاں پکڑنے کا سلسلہ روز اول سے ہی جاری ہے۔یہ مجرمانہ کام متعلقہ اداروں کی ملی بھگت اور چشم پوشی کے بغیر ممکن نہیں تھا۔بلوچستان کے جفاکش مگر غریب ماہی گیر انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ یہ لوٹ مار دیکھتے رہے۔ اپنی بساط بھر احتجاج بھی ایک سے زائد بار کیا۔ لیکن جواب میں جھوٹے وعدوں کے سوا کچھ نہیں ملا۔چلیں فی الوقت ماضی کو،’مٹی پاؤ‘ فارمولے کے تحت بھول جاتے ہیں۔آج سے مان لیتے ہیں جس طرح دھرتی کو شہری ”ماں“ کہتے ہیں اسی طرح سمندر کو بھی یہی مقام اور مرتبہ حاصل ہے۔اس کامیابی کے بعد دنیا کو علم ہونا چاہیئے کہ بلوچستان کا سمندر لاوارث نہیں،کہ جس ملک جب جی چاہے یہاں چلا آئے،بدمعاشی اور دادا گیری سے یہاں کے سمندری وسائل لُوٹے اورواپس جاتے وقت فاضل ناپسندیدہ مچھلی کی بڑی مقدار، مردہ حالت میں سمندر میں پھینک کر سمندری ماحول کو آلودہ کرتا ہوا لوٹے۔اچھا ہوا موجودہ حکومت نے ماضی کی روش اختیار نہیں کی۔ٹال مٹول اور بہانہ بازی سے کام نہیں لیا۔چوروں اور لٹیروں کا ساتھ نہیں دیا۔عوامی وسائل کی حفاظت کرنا پسند کیا۔سب جانتے ہیں پاکستان کا سیاسی اور سماجی کلچردانستہ کئی دہائیوں سے خراب کیا گیا۔تعلیم، صحت، ریوینیو، کسٹم،حتیٰ کہ عدلیہ میں کالی بھیڑیں پالی گئیں۔پولیس اور لیویز تو بہت چھوٹے محکمے ہیں۔میرٹ کا پورے ملک میں وجود نہیں، ناقص اسلحے کی خریداری اور پیسے لے کر بھرتی کی داستانیں عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔عدل و انصاف کی رینکنگ میں پاکستان130ویں نمبر پر ہے۔یاد رہے جس ملک میں بگاڑ کا یہ عالم ہو کہ سزا یافتہ مجرم ہر دوسرے دن کوئی آڈیو /ویڈیو جاری کرکے عدلیہ کو بلیک میل کرتے ہوں اور عدلیہ انہیں بوجوہ کٹہرے میں لانے سے گریزاں ہو، وہاں وار لارڈز، اور طاقت ور مجرم ہی پارلیمنٹ میں پہنچتے ہیں۔ پانامہ لیکس کا راستہ سرمایہ دار اور ترقی یافتہ ممالک نے مجبوراً اختیار کیا۔جب آف شور کاروبار کی سہولت دینے کے منفی نتائج ان کے سامنے آئے،تب انہیں علم ہوا کہ ان کا معاشی اور معاشرتی نظام مجرموں نے اپنے شکنجوں میں جکڑ لیاہے، تب انہیں ہوش آیا کہ یہ رعایت واپس لی جائے، ورنہ کچھ نہیں بچے گا۔پاکستان کے قانون شکن مگر مٹھی بھرنام نہاد طاقتور شہری دنیا میں رونما ہونے والی نئی صورتِ حال کا اندازہ لگانے میں ناکام رہے، اس کا انہیں دہرانقصان اٹھانا پڑی۔دولت گنوانے کے ساتھ رسوائی کا بوجھ بھی سمیٹنا پڑا۔ان کے فہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کبھی برطانوی قوانین بھی انہیں پناہ دینے کے قابل نہیں رہیں گے۔ ایک سولہ سالہ پاکستانی نژاد بچے نے انہیں ناکوں چنے چبوا دے گا۔لوٹ مار کی دولت سے قائم جعلی جاہ و جلال مصنوعی میک اپ کی طرح پسینے کے ساتھ ہی چہرے سے ڈھلک جائے گی۔سمدھن کو میدان میں اتر کر گالم گلوچ کا مورچہ سنبھالنا پڑے گا۔اسی تناظر کی بدولت گوادر کوحق دو کا طاقت ور نعرہ انجام کار غیرملکی غیر قانونی ٹرالرز کی مجرمانہ طاقت کو غرق کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ کامیابی کا سفر جاری رہے گا۔ساحل اور وسائل جیسی نعمتوں سے بلوچ عوام مستفید ہوں گے۔حکمرانی کا تاج ایک دن بلوچ عوام کے سر پر سجے گا۔ محنت کش طبقہ لٹیروں کو پیچھے دھکیلتا ہوا اسمبلیوں تک ضرور پہنچے گا۔تاریخ شاہد ہے محنت کش مصلحت پسند نہیں ہوتے، موقع پرست نہیں ہوتے۔یہ دونوں خرابیاں درمیانے طبقے کا مقدر ہیں۔۔۔۔آج اگر ”گوادر کو حق دو“ کا نعرہ لگانے والوں کی قیادت موقع پرستوں کے ہاتھ میں ہوتی تو نتائج یقینا مختلف ہوتے۔اس فتحمندی اور کامیابی سے یہ پیغام ملتاہے کہ بلوچ عوام کا مستقبل روشن ہے۔ قدرت کے عطا کردہ قیمتی وسائل بلوچ عوام کی ملکیت ہیں۔عوام کی ملکیت، عوام سے کوئی نہیں چھین سکتا۔مولانا ہدایت الرحمٰن روایتی ”مولانا“ نہیں، ان کی دینی اور سیاسی پرورش مختلف ماحول میں ہوئی ہے۔ وہ دنیا اور آخرت کے بارے میں روایتی مولاناؤں جیسے خیالات نہیں رکھتے۔ان کا مطالعہ انہیں دلائل کی مددسے اپنا مؤقف دوسروں تک پہنچانے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔امید ہے وہ ان لاکھوں حمایتیوں کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے جو ہفتوں ان کے نعرے کے ساتھ کھڑے رہے، اورتاحال کھڑے ہیں۔ اس لئے کہ یہ نعرہ کسی ایک جماعت کا نعرہ نہیں، کروڑوں بلوچ عوام کے دل کی آواز ہے۔دنیا تسلیم کرتی ہے کہ حقدار کو اس کا حق ملنا چاہیئے،اس نعرے کی کامیابی سے سیاست پر چھائی ہوئی دھند چھٹنے لگی ہے، جیسے جیسے مطلع صاف ہوگا، منزل کے نشان اتنے ہی واضح ہوتے چلے جائیں گے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ پہلا پڑاؤکامیاب رہا۔ اس کامیابی سے بلوچ عوام کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔کئی دہائیوں کی پھیلائی گئی مایوسی میں کمی آئے گی۔غیرملکی ٹرالرز کا انخلاء اور ان کی آمد پر پابندی تنہا بہت بڑی کامیابی ہے مگر اس کے ساتھ چیک پوسٹوں پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی تشکیل اور فشریز اور نیو انٹر نیشنل ایئر پورٹ کے مرکزی دفاتر کی گوادر منتقلی بھی ہو رہی ہے۔گوادرکو حق ملے گا تو بلوچ عوام کو ان کا حق مل کر رہے گا۔ اس کامیابی کو گھٹا کر نہ دیکھا جائے،درست مقام دیا جائے، بڑی کامیابی تسلیم کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں