حکومت نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے سستی ایل این جی نہیں خرید سکی، شاہد خاقان عباسی

کراچی :سابق وزیر اعظم و مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت نے اتنا فرنس آئل درآمد کرلیا ہے کہ کراچی پورٹ پر فرنس آئل کے اضافی کنٹینرز بلاوجہ کھڑے ہیں جبکہ وہ اپنی نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے سستی ایل این جی نہیں خرید سکی۔کراچی میں مفتاح اسماعیل اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام حکومت کی نااہلی اور کرپشن کا خمیازہ بھگت رہے ہیں، خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں حکومت کے امیدواروں اور دھاندلی کرنے والوں کا عوام نے جو حشر کیا ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے نئے پلانٹس لگائے تھے جس کے فیول اخراجات فرنس آئل کے پلانٹس سے 6 سے 11 روپے تک کم ہے، یہ کئی سو ارب روپے کی سالانہ بچت فراہم کرتے ہیں، ان پلانٹس کے مالک پاکستان کے عوام ہیں اور اگر ان کی نجکاری کی گئی تو یہ آپ کو اثاثوں کے طور پر اربوں ڈالرز فراہم کریں گے۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کوئلے کے تین پلانٹ چینی سرمایہ کاری سے سی پیک کے لیے لگے ہیں اور آج سی پیک کو یہ کہہ کر بدنام کیا جارہا ہے کہ یہ پلانٹس بہت مہنگے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیپرا کا ٹیرف 6 سال سے تیار تھا لیکن کوئی اس پر پلانٹ لگانے کو تیار نہیں تھا، سی پیک کے ذریعے تین پلانٹ لگے ہیں، اس سے قبل پاکستان میں کوئی بڑا کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والا پلانٹ نہیں تھا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ تین پلانٹ نہ صرف سستی بجلی فراہم کر رہے ہیں بلکہ اتنی بچت فراہم کر رہے ہیں کہ 2030 تک سی پیک کے تحت پاکستان میں جتنے بھی منصوبے بنیں گے ان سب کی ادائیگی کے لیے یہ بچت کافی ہے۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے دوست ممالک پر کیچڑ نہیں اچھالنا چاہیے، مجھے افسوس ہے کہ چین نے یہاں سرمایہ کاری کی ہے اور ہم ان ہی پر کیچڑ اچھال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی پر بچت ایک ہی صورت میں ہوسکتی ہے کہ پرانے پلانٹس کو بند کیا جائے کیونکہ انہیں آپ مہنگا فرنس آئل خرید کر چلا رہے ہیں، آپ اپنی نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے سستی ایل این جی نہیں خرید سکے۔لیگی رہنما نے کہا کہ یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے تھے ملک میں ایل این جی کی کوئی ضرورت نہیں ہے، ہم پر کیس بنائے گئے جو آج بھی چل رہے ہیں، یہ لوگ 13 فیصد کے معاہدوں پر الزام لگاتے تھے آج خود 40 فیصد پر ایل این جی خرید رہے ہیں، ان کے پاس کوئی جواب ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں اتنا فرنس آئل برآمد کرلیا گیا ہے کہ فرنس آئل کے کنٹینرز کراچی پورٹ پر کھڑے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کسی کی کوئی پرواہ نہیں ہے، ہم نے ملک کی خدمت کی ہے۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ میں خود کہتا ہوں کہ عدالتوں میں کیمرے لگائیں اور پاکستان کے عوام کو دکھائیں، میں نے بارہاں چیئرمین نیب کو کہا کہ آئیں سامنے اور بتائیں ہم نے کیا کرپشن کی ہے، پانچ سال میں اگر کوئی بھی کرپشن ہوئی ہے تو میں اور میری جماعت ذمہ دار ہوگی۔انہوں نے کہا کہ نااہلی اور کرپشن کے واضح ثبوت ہونے کے باوجود عدالتیں بھی خاموش ہیں اور نیب بھی خاموش ہیں، لیکن عوام خاموش نہیں ہیں اور ایسا حشر ہوگا جو کل خیبر پختونخوا میں ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ وہی حکومت ہے جس کے وزیر نے کہا تھا کہ عمران خان 200 ارب ڈالرز لے کر آئے گا اور سو ارب قرض دہندگان کے منہ پر مارے گا اور سو ارب پاکستان پر لگائے گا، آج آئی ایم ایف ہمیں نڈھال کر کے 6 ارب ڈالر دینے کو تیار نہیں ہے یہ اس ملک کی حقیقت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پہلے کے الیکٹرک بجلی درآمد کرتا تھا اب کراچی سے بجلی برآمد کی جارہی ہے، ساہیوال کا پلانٹ بھی اتنا ہی اہل ہے، اگر آج بھی ایل این جی درآمد کرنے کے معاہدے کیے جائیں تو وہ فرنس آئل سے سستے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ میں حیران ہوں کہ وفاقی وزرا کہتے ہیں کہ ایل پی جی سستی پڑتی ہے، گھریلو ایندھن کا حل بھی ایل این جی ہے۔ان کہنا تھا کہ کرپشن کے ثبوت ضرور ملیں گے، حکومتی وزرا کو جیلوں میں ڈالیں، ہم یہ سب بھگت چکے ہیں، یہ ایک دن بھی جیلوں میں نہیں گزار سکتے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کابینہ نے فیصلہ کیا تھا کہ پاکستان فرنس آئل درآمد نہیں کرے گا آپ نے فیصلے کی خلاف ورزی کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں