سکیورٹی کونسل میں افغانستان کیلئے انسانی امداد کی قرارداد کی منظور ی ہمارے موقف کی تائید ہے، منیر اکرم

نیویارک : اقوام متحدہ میں پاکستانی مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں افغانستان کیلئے انسانی امداد کی قرارداد کی منظور ی پاکستان کے موقف کی تائید ہے، پاکستان، چین اور روس نے امریکہ کی طرف سے پیش کردہ قرارداد کیلئے رکن ممالک سے رابطے کئے، قرارداد کی منظوری سے افغانستان کو فوری طور پرامداد کیلئے جمع کی گئی رقم ادا کی جا سکے گی۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرارداد پر اقوام متحدہ میں بریفنگ دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے میڈیا نمائندگان کو حالیہ او آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس کے انعقاد سے بھی آگاہ کیا۔ منیراکرم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے افغانستان کیلئے انسانی امداد کی قرارداد منظور کر لی ہے، قرارداد کی منظوری سے پاکستان کے موقف کی تائید ہوئی ہے اور افغانستان کو امداد کے حوالے سے قانونی پیچیدگیاں ختم ہو گئی ہیں، پاکستان کا موقف تھا کہ افغانستان کو اشیائے ضروریہ کی فراہمی عالمی قوانین کی خلاف ورزی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، چین اور روس نے امریکہ کی طرف سے پیش کردہ قرارداد کیلئے رکن ممالک سے رابطے کئے، قرارداد کی منظوری سے افغانستان کو فوری طور پرامداد کیلئے جمع کی گئی رقم ادا کی جا سکے گی، امداد اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کے ذریعے افغانستان کو دی جائے گی، قرارداد کے بعد افغانستان کیلئے فوری طور پر مزید 4.3 ملین ڈالرز کی اپیل کی ہے۔ منیراکرم نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے حالیہ او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں افغانستان پر پابندیوں سے متعلق تشویش کا اظہار کیا تھا، وزیراعظم پاکستان کا ویژن اس قرارداد کی منظوری میں اہم ثابت ہوا ہے، امید ہے کہ قرارداد کے بعد افغانستان کے منجمند شدہ اکاؤنٹس بھی بحال ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں چالیس برس بعد ایسی حکومت آئی ہے جس کا کنٹرول پورے ملک پر ہے، امید کرتے ہیں کہ افغان حکومت اپنے رویے میں مزید بہتری لائے گی، قرارداد کی منظوری افغانستان کے مستقبل کیلئے بہت اہم ہے، افغانستان سے پسے ہوئے طبقے کی ہجرت خطے خصوصا پاکستان کیلئے مشکلات پیدا کر سکتی ہے، اگر فوری امداد افغانستان نہ پہنچ پائی تو افغانستان انسانی المیے کا شکار ہو سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں