سیاست کی زبان ڈپلومیٹک ہے

دنیابھرمیں سفیر ڈپلومیٹک زبان بولتے ہیں۔پرانی درسی کتب میں ڈپلومیسی سے مراد ایسا انداز گفتگو ہے جس میں سچ شامل نہ ہو۔آجکل اس میں معمولی سی تبدیلی کر لی گئی اور کہا جاتا کہ ڈپلومیٹ ایسا شخص ہے جو اپنے ملک کے مفاد میں جھوٹ بولتا ہے۔ماضی قریب میں امریکہ اور برطانیہ نے دنیا کو یقین دلایا کہ عراق کی صدام حسین حکومت نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والا اسلحہ تیار کر لیاہے اس لئے دنیا کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔اوراگر اس حکومت کا فوری خاتمہ نہ کیا گیا توعراقی صدر صدام حسین عرب ریاستوں کو تباہ و برباد کر دے گا۔اس پروپیگنڈے کی مدد سے امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔عراق کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔صدر صدام حسین کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے پھانسی چڑھ گئے۔برطانیہ کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے عراقی عوام اور دنیا سے اس جھوٹ بولنے کی معافی مانگ لی، امریکی حکومت کو اتنی توفیق بھی نہیں ہوئی۔ امریکی حکمراں صرف امریکی عوام سے جھوٹ بولنا جرم سمجھتے ہیں، بل کلنٹن اپنے عہدے جھوٹ بولنے کی پاداش میں ہٹائے گئے تھے،مونیکا لیونسکی کے ساتھ جو کچھ ہواوہ امریکی معاشرے میں جرم نہیں۔ہمارے ملک میں طویل عرصے تک عدالتوں میں جھوٹی گوائی جرم نہیں تھی،جسٹس(ر)آصف سعید کھوسہ نے اس غیر قانونی رویہ کا نوٹس لیا،تب سے عدالتوں میں جھوٹی گواہی کا نوٹس لیا جانے لگا۔سوال یہ نہیں کہ دنیا کس راہ پر چل رہی ہے، سوال یہ ہے کہ پاکستان کے حکمران جھوٹ بولنے سے باز کیوں نہیں آئے؟سابق حکمرانوں نے پارلیمنٹ میں اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہ:”جنابِ اسپیکر، یہ ہیں وہ دستاویزی ثبوت جن سے ہم نے لندن کے فلیٹ خریدے“۔اورزمینی حقائق ہیں کہ سات سال گزرنے کے باوجودانہوں نے عدالت سمیت کسی فورم پر پیش نہیں کئے۔موجودہ حکمرانوں نے عوام کو یقین دلایا تھا:”قانون سب کے لئے ایک ہوگا“۔مگر مالم جبہ سمیت اپنے دائیں بائیں بیٹھنے والوں کے مقدمات فائلوں میں دبا رکھے ہیں۔گویا عوام سے جھوٹ بولنا ان کے خیال میں بھی جرم نہیں۔عام آدمی اور اپوزیشن کے لئے ایک قانون اور حکومتی ارکان کے لئے دوسراقانون رائج ہے۔یہی رویہ تمام سرکاری اداروں میں نظر آتا ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ جو دین حکمرانوں کا ہو، وہی عوام بھی اختیار کرتے ہیں۔خود وزیراعظم عمران خان کا سیاسی نعرہ ایک پاکستان کی تشکیل ہے۔اگر اس کی ابتدا اپنی پارٹی سے نہ کی جائے تو عامآدمی کا اعتماد دیگر نعروں کے بارے میں میں بھی مجروح ہوگا۔اس کے علاوہ یہ دوغلا پن معاشرے کے لئے نقصان دہ ہے۔اس سے جان چھڑائی جائے۔ یاد رہے کسی مقروض شخص کی معاشرے میں کوئی عزت نہیں ہوا کرتی، اسی طرح مقروض ملک بھی اپنی معاشی کمزوری کے باعث عالمی برادری کی نظر میں ایک بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ اسلامی برادر ملک کی بات نہ مانی تو اس نے کھڑے کھڑے پرائمری اسکول کے بچے کی طرح اپنادیا ہوا قرض واپس لے لیا۔ملائیشیا میں بلائی گئی کانفرنس میں پاکستان کے وزیر اعظم اور وزیرخارجہ شرکت نہ کر سکے۔پاکستان کی معیشت صرف کمزور ہی نہیں، آئی ایم ایف کے پاس جانے کی مجبوری بھی لاحق ہے۔لاقانونیت کا یہ حال ہے کہ پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہے۔ یہ کام سابق حکومت کے دور میں ہواتھا۔36ملکوں میں سے تین ملک اگر پاکستان کی حمایت کرتے تو اس تذلیل سے بچا جا سکتا تھا۔موجودہ حکومت سے پہلے چین اور سعودی عرب بھی ہم سے دور کھڑے تھے۔ لیکن بعد میں معلوم ہواکہ پاکستان کو منی لانڈرنگ، منشیات کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ اور دیگر سماجی خرابیوں سے نکلنے کے لئے ایف اے ٹی ایف کی کڑی شرائط کی اشد ضرورت تھی،40بھاری بھرکم شرائط میں سے پاکستان بیشتر پر عمل درآمد کر چکا ہے۔پاکستان کی جانب سے جمع کرائی گئی آخری رپورٹ کو سراہا گیا ہے۔توقع ہے کہ آئندہ اجلاس میں پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔پاکستان کو گرے لسٹ میں نہ ڈالا جاتا تو جرائم کی روک تھام کے لئے عالمی تقاضوں کے مطابق قانون سازی کبھی ممکن نہ ہوتی۔عمومی تأثر یہ ہے کہ بھارت نے اپنے تعلقات بروئے کار لاتے ہوئے یہ کام کیا لیکن انجام کاریہ اقدام پاکستان کے حق میں فائدہ مند ثابت ہوا۔اس خطے کے مخصوص منظر کی بناء پر پاکستان کے عوام تک اس قانون سازی کے ثمرات نہیں پہنچے، بالخصوص منی لانڈرنگ ابھی تک بے قابو ہے۔اور بعض دیگر عوامل کے ساتھ ڈالر کی کی قدر میں اضافہ مسائل پیدا کر دیتا ہے۔تاہم امید کی جا سکتی ہے جیسے ہی پاکستانی معیشت کو بجلی کے پرانے معاہدوں اورآئی ایم ایف کی کڑی شرائط سے باہر کھلی فضاء میں سانس لینے کا موقع ملے گا،پاکستان کے عوام خود کو ایک نئی دنیا میں پائیں گے۔ یاد رہے معاشی غلامی ہو یا غاصب قوتوں کے پنجہئ استبداد سے گلو خلاصی ایک جہد مسلسل کے بغیر نہیں ملاکرتی۔تمام اشاریئے نیچے نہیں جا رہے، بعض کا رخ اوپر کی جانب بھی ہے۔افغان عوام کی اقتصادی مشکلات میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کااسلام آباد میں انعقاد، اجلاس میں ترکی، ایران کی شرکت،اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی منظوری ا ہم مثبت اشارے سمجھے جا سکتے ہیں۔پر امن اور مستحکم افغانستان کاقیام صرف پاکستان کے لئے نہیں، اس خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ضروری ہے۔ اسلام آباد‘تہران‘ استنبول فریٹ ٹرین کی بحالی ایسا ہی ایک مثبت اشارا ہے۔ایران اور اسلام آباد کے درمیان تجارتی روابط کو فروغ ملے گا۔اس کی عرصہ دراز سے ضرورت تھی مگر امریکی مخالفت کی بناء پر تاخیر ہوئی۔مصیبت اور پریشانی کے بھیس میں رحمت بھی موجود ہوتی ہے۔بعض ماہرین معیشت کا خیال ہے اگر امریکہ چین کی راہ میں اتنی رکاوٹیں نہ کھڑی کرتا تو چین آج عالمی اقتصادی قوت نہ ہوتا۔مشکلات ملکوں اور معاشروں کو توانا بناتی ہیں بشرط یہ کہ مشکلات سے نبرد آزما ہوا جائے،مشکلات کے سامنے ہتھیار نہ ڈالے جائیں۔ چین سے خوفزدہ ہونے کی بجائے چین جیسی ان تھک محنت کی جائے،منزل پر نگاہیں جمی رہیں اور درست راستہ اختیار کیا جائے۔یاد رہے کمزوری تمام بیماریوں کی جڑ ہے۔طاقت ور کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا۔پاکستان کے عوام نڈر، محنتی اور جفاکش ہیں۔قدرت نے انہیں بیشمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے۔750کلومیٹر طویل ساحل عطاکیا ہے۔وسیع و عریض اراضی اور سمندر بہت بڑی دولت ہیں۔آئی ایم ایف سے جان چھڑانے کا عزم کر لیا جائے،معاشی کامیابیاں عوام کی دہلیز پر دستک دیں گی۔آئندہ نسلوں کو قروضوں کا بوجھ منتقل کرنے کی بجائے قرضوں سے نجات دلانا ممکن ہے۔تاریخ یہی سکھاتی ہے:۔۔۔۔۔ ”جس نے لگائی ایڑھ خندق کے پار تھا“

اپنا تبصرہ بھیجیں