شہید بی بی اور عوام کا جو تعلق تھا اس کی تاریخ اور دنیا میں مثال ملنا مشکل ہے،شیری رحمن

اسلام آباد:نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ شہید بی بی اور عوام کا جو تعلق تھا اس کی تاریخ اور دنیا میں مثال ملنا مشکل ہے،14 سال بعد ملک کو اسی دہشتگردی اور انتہاپسندی کا سامنا ہے جس کی شہید بی بی نے لیاقت باغ کے خطاب میں نشاندہی کی تھی، قتل کیس روزمرہ کی بنیاد پر سنا جائے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ سیکیورٹی خدشات کے باوجود بی بی کو سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے کہاکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو اس دنیا سے رخصت ہوئے 14 برس گزر چکے مگر وہ آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بی بی شہید تمام صوبوں کی زنجیر اور کروڑوں عوام کے دلوں کی دھڑکن تھیں۔ انہوں نے کہاکہ شہید بی بی اور عوام کا جو تعلق تھا اس کی تاریخ اور دنیا میں مثال ملنا مشکل ہے۔انہوں نے کہاکہ اپنے نام کی طرح بی بی شہید اپنی شخصیت اور سیاسی جدوجہد میں بھی بینظیر تھیں۔ انہوں نے کہاکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے زندگی کی آخری سانسوں تک ہر ظالم و جابر آمر کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔شیری رحمان نے کہاکہ دو مرتبہ پاکستان کی وزیر اعظم رہنے والی محترمہ بینظیر بھٹو انتخابی جلسے سے خطاب کے بعد بیدردی سے شہید کر دیا گیا۔انہوں نے کہاکہ ان کا نظریہ اور فلسفہ آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہے، شہید بی بی نے اپنی آخری تقریر میں پاکستان کے مستقبل کے بارے میں ایک مکمل روڈ میپ پیش کیا تھا۔انہوں نے کہاکہ 14 سال بعد ملک کو اسی دہشتگردی اور انتہاپسندی کا سامنہ ہے جس کی شہید بی بی نے لیاقت باغ کے خطاب میں نشاندہی کی تھی۔ نائب صدر نے کہاکہ سیکیورٹی خدشات کے باوجود بی بی کو سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی تھی، کرائیم سین کو دھویا گیا، جس پرہم نے احتجاج کیا تھا۔انہوں نے کہاکہ قتل میں ملوث لوگوں کو رہائی دی گئی، ہم شہید رانی کی برسی پر مطالبہ کرتے ہیں کے ان کے قتل کیس کو روزمرہ کی بنیاد پر سنا جائے۔ انہوں نے کہاکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو ہمیشہ اپنے والد کے قتل کیس میں انصاف تلاش کرتی رہیں، اب بھٹو خاندان کی تیسری نسل عدالتوں کی طرف دیکھ رہی ہے،14 سال گزرنے کے بعد بھی بھٹو خاندان، پیپلز پارٹی اور کارکنان انصاف کے منتظر ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں