کراچی:مکان کا تنازعہ،پولیس کے نشانہ باز نے تین افراد کو قتل کر دیا

اورنگی ٹاؤن کے علاقے پٹھان کالونی میں گزشتہ روز 3 افراد کے قتل کی واردات کو پولیس مقابلہ ظاہر کرنے کی گتھیاں سلجھنا شروع ہوگئی ہیں۔
فائرنگ سے قتل ہونے والے تینوں افراد بروکر کے کہنے پر پولیس کے ساتھ قبضہ چھڑانے گئے تھے، تینوں کو مکان میں رہنے والے خیبر پختوانخوا کے برطرف لیکن ماہر نشانہ باز پولیس اہلکار نے تاک تاک کر قتل کیا، معاملہ گھر خالی کروانے جانے والے ایس ایچ او اور متفرق پارٹی سے تلخ کلامی کے بعد شروع ہوا۔
کراچی: اورنگی ٹاؤن پولیس مقابلے کی اصل کہانی سامنے آگئی
حکام کا بتانا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق جس مکان پر تنازع ہوا وہ ابراہیم شاہ نامی شخص کا تھا جس نے اپنے ایک بیٹے کے نام مکان کیا اور باقی بچوں کو عاق کردیا۔
جس بچے کے نام پر یہ مکان تھا اس نے 60 لاکھ روپے میں اسے فروخت کردیا، خرید و فروخت کے اس معاملے میں سعید تھلے والے نے بروکر کا کام کیا اور جنہیں یہ مکان بیچا گیا ان سے یہ ڈیل بھی ہوئی کہ مکان خالی کرواکر انہیں دیا جائے گا۔
ایس ایچ او جوہر آباد کے ساتھ گھر خالی کروانے کی ڈیل آصف گجا نامی پولیس مخبر کے ذریعے 10 لاکھ روپے میں ہوئی اور تقریباً رقم ادا کردی گئی جس پر ایس ایچ او سمیت دیگر پولیس اہلکار، سعید تھلے والا اور اس کے ساتھی مکان خالی کروانے پہنچے۔
ابراہیم شاہ کے اس پوتے نے دروازے کی کنڈی کھولی جس کے والد کے نام پر مکان تھا۔ سب سے اوپر والی منزل پر ابراہیم شاہ کا دوسرا بیٹا رہتا تھا، جب یہ تمام افراد بالائی منزل پر پہنچے تو وہاں اس سے جھگڑا ہو گیا اور مکان خالی کروائے جانے کے دوران مزاحمت اور پھر جھگڑا ہوا گیا جس میں فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار اور مکین زخمی ہوگئے۔
نچلی منزل پر ابراہیم شاہ کا ایک اور بیٹا نثار شاہ رہتا تھا جو خیبرپختوانخوا کا برطرف سپاہی اور ماہر نشانہ باز ہے، اسی نے جھگڑے کے بعد تاک تاک کر فائرنگ کر کے تین افراد کو مختلف مقامات پر قتل کیا، ایک لاش سیڑھیوں سے، دوسری گھر سے کچھ دور اور تیسری کچرا کنڈی سے ملی تھی۔
معاملہ بگڑنے کے بعد ایس ایچ او فرار ہوگیا تھا تاہم بعد میں اسے اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں