روایتی اثاثوں اور سرمایہ کاری کی فہرست میں بٹ کوائن بھی شامل

لاہور:کوئی ریگولیشن موجود نہ ہونے کے باوجود پاکستان میں روایتی اثاثوں اور سرمایہ کاری کی فہرست میں بٹ کوائن بھی شامل ہوگیا جس نے حیرت انگیز طور پر 2021 میں منافع دینے کی دوڑ میں پراپرٹی، شیئرز اور دیگر شعبوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ۔نجی ٹی وی کے مطابق منافع دینے والے اثاثوں کے حوالے سے ٹاپ لائن سکیورٹیز کی جانب سے ایک تحقیق کی گئی ہے جس کے مطابق سال 2021 میں بٹ کوائن کا منافع 87 فیصد رہا جبکہ دوسرے نمبر پر رئیل اسٹیٹ کا شعبہ رہا جو کسی وقت پہلے نمبر پر ہوتا تھا، رئیل اسٹیٹ کا قیمت بڑھنے کے لحاظ سے سالانہ منافع 23 فیصد رہا یعنی جس پلاٹ کی قیمت ایک کروڑ روپے تھی اب وہ ایک کروڑ 23 لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے۔رپورٹ کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے متعارف کردہ روشن ڈیجیٹل اکاﺅنٹس کے ذریعے نیا پاکستان سرٹیفکیٹ(ڈالر)کا منافع 18 فیصد اور پاکستانی روپے میں سرٹیفکیٹ کا منافع 11 فیصد رہا، اسی طرح جن لوگوں کے اثاثے ڈالر میں تھے ان کی دولت میں پاکستانی روپے کی قدر گرنے کے باعث 11 فیصد اضافہ ہوا اور جن کے اثاثے سونے کی شکل میں تھے انہیں 10 فیصد فائدہ ہوا۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ٹریژری بلز میں سرمایہ رکھنے والے پاکستانیوں کو 8 فیصد اور شیئرز ہولڈرز کو صرف ایک فیصد منافع حاصل ہوا۔واضح رہے کہ فیڈریشن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں بٹ کوائن میں اپنے اثاثے منتقل کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، بٹ کوائن میں پاکستانیوں کے اثاثے 20 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ایف پی سی سی آئی کی اس رپورٹ کو اس لحاظ سے بھی اہم قرار دیا جارہا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 18 ارب ڈالر ہیں جس میں 3 ارب ڈالر سعودی ترقیاتی فنڈز کے بھی ہیں، اس لحاظ سے پاکستانیوں کے پاس بٹ کوائن کے اثاثے اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر سے بھی بڑھ چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں