متحدہ اپوزیشن کا منی بجٹ روکنے کا اعلان، ارکان کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت

اسلام آباد:قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن نے منی بجٹ کے دوران حکومت کا بھرپور مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔منی بجٹ پر حکمت عملی سے متعلق اپوزیشن کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں شاہد خاقان عباسی، مولانا اسعد محمود، سردار ایاز صادق، خواجہ آصف، مریم اورنگزیب کے علاوہ نوید قمر، شاہدہ اختر علی، حاجی ہدایت اللہ، شفیق ترین نے شرکت کی ۔اجلاس میں منی بجٹ سے متعلق حکمت عملی پر غور کیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میںقومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کرنے کے دوران حکومت کا بھرپور مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے د وران اپوزیشن کے ممبران کی حاضری کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ۔اپوزیشن کا کہنا ہے بل ابھی تک نہیں آیا، مگر بل سے قبل ہماری تیاری مکمل ہے۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن کی بعض جماعتوں کی نوید قمر سے تلخ کلامی بھی ہوئی ۔اپوزیشن کی جانب سے سوال کیا گیا چئیرمین نیب کیلئے پیپلزپارٹی نام کیوں فراہم نہیں کر رہی۔اس پر نوید قمر نے کہا پیپلزپارٹی ابھی ناموں پر غور کر رہی ہے۔ جے یو آئی نے کہا پیپلزپارٹی اگر نام فائنل نہیں کر رہی تو جو نام آئے ہے وہ ایوان صدر کو بھجوادیں۔ سینیٹ میں اپوزیشن نے نیشنل سیکیورٹی پالیسی کوایوان میں پیش نہ کرنے اوربحث کرائے بغیرمنظوری پر ایوان سے علامتی واک آوٹ کیا اور قائدایوان سینیٹرڈاکٹرشہزاد وسیم کی تقریر کے خلاف چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے احتجاج اورشدید نعرے بازی کی ،اپوزیشن نے چینی چورآٹا چور گونیازی گو کے بعرے لگائے جبکہ حکومتی سینیٹرز نے سارے چور کے نعرے لگائے ،چیئرمین سینیٹ اپوزیشن کواپنی نسشتوں پر احتجاج کرنے کی درخواست کرتے رہے ۔اپوزیشن نے کہاکہ نیشنل سیکیورٹی پالیسی ایوان میں نہ پیش کی گئی اور نہ بحث کی گئی مگر اس کی منظوری دے دی گئی ہے ،نیشنل سکیورٹی پالیسی پرپارلیمان کو بائی پاس کیا گیایہ حقیقت پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں ۔پاکستان کے ادارے عالمی سامراج کو جواب دے ہوں گے اس طرح پاکستان کا تحفظ نہیں ہوگا ۔قائدایوان ڈاکٹرشہزادوسیم نے کہاکہ اپوزیشن کونیشنل سکیورٹی پر پارلیمانی کمیٹی میں دعوت دی گئی مگر یہ نہیں آئے کیوں کہ وہاں وردی والے نہیں تھے نیشنل سیکورٹی کے اجلاس میں وزیراعظم نہیںہوتے مگر وردی والے ہوتے ہیں تویہ بھاگ بھاگ کراجلاس میں شرکت کرتے ہیں ،آج تک کسی حکومت نے نیشنل سیکیورٹی پالیسی نہیں بنائی تحریک انصاف نے اب بنائی ہے ،اپوزیشن کایہ مسئلہ ہے کہ یہ وردی والوں کے پیچھے بھاگتے ہیں ۔ قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش ہونے سے قبل ہی اپوزیشن نے مسترد کردیا ۔اپوزیشن کا کہنا ہے کہ منی بجٹ سے ملک کی معاشی خودمختاری کو داو¿ پر لگایا جارہا ہے ۔ بدھ کے روز قومی اسمبلی اجلاس میں نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ اسمبلی کے اندر اور باہر منی بل پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے کہ حکومت منی بجٹ یا منی بل لانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں بیٹھے ہوئے ہر رکن کو منی بجٹ پیش کرنے کے حکومتی قدم کی مزاحمت کرنی چاہیے۔ جس پر ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کا کہنا تھا کہ ابھی تک کوئی منی بل پیش نہیں ہوا ۔ مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی خواجہ آصف نے حکومت کی جانب سے منی بل پیش کرنے کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منی بل اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) بل کی منظوری کے لیے حکومت ایک مرتبہ پھر سہولت کاروں کے ذریعے ووٹ حاصل کرے گی۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ منی بل سے معاشی خودمختاری سرنڈر کر رہے ہیں سٹیٹ بینک آئی ایم ایف کی لوکل برانچ بن چکا ہے گورنر سٹیٹ بینک وائسرائے بن چکے ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن کے نقطہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا آج پاکستان جن مالی مشکلات کا شکار ہے اس کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں آج جو گردشی قرضہ ہے، جو مسائل ہیں اس پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں