ڈپٹی سٹیٹ بینک کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی نے کریپٹو کرنسی پر مکمل پابندی کی سفارش کردی

کراچی:ڈیجیٹل کریپٹو کرنسی کے حوالے سے بڑی پیش رفت، ڈپٹی اسٹیٹ بینک کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی نے کریپٹو کرنسی پر مکمل پابندی کی سفارش کردی، سندھ ہائیکورٹ نے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لئے رپورٹ وزارت خزانہ اور وزارت قانون کو بھیجنے کی ہدایت کردی۔ جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیئے پابندی لگانے کی صورت میں پابندی کی آئینی حیثیت سے بھی عدالت کو آگاہ کیا جائے۔ جسٹس کے کے آغا کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو ڈیجیٹل کریپٹو کرنسی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کی 38 صفحات پر مشتمل رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی۔ کمیٹی نے پاکستان میں کریپٹو کرنسی اور اس کے ساتھ جڑی سرگرمیوں پر پابندی کی سفارش کردی۔ کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ کریپٹو کرنسی کی اجازات دینے سے فارن کرنسی اور غیر قانونی پیسہ باہر منتقل ہوسکتا ہے۔ حال ہی میں ایف آئی اے نے کریپٹو کرنسی اسکینڈل پکڑا ہے۔ چائنہ، بنگلہ دیش، سعودی عرب، مصر، مراکش، ترکی سمیت 11 ممالک نے کریپٹو کرنسی پر پابندی عائد کررکھی ہے۔ ان ممالک نے بیرون منی لانڈرنگ اورغیر ملکی کرنسی باہر جانے کی خدشات کے پیش نظر پابندی عائد کررکھی ہے۔ درخواستگزار نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ ایسا میکنیزیم نہیں ہے جس سے پتہ چلے کہ کاروبار کرنے کی شناخت ہوسکے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ درخواستگزار کے مطابق کاروبار کرنے والے کی شناخت اس وقت ممکن ہوگی جب کریپٹو کاروبار کرنے والے کو لائسنس کا اجرا نہ ہو۔ درخواستگزار کے مطابق وزارت اطلاعات کو لائسنس کے اجرا کے لئے منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔ پیش کی گئی کمیٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ درخواستگزار کا کہنا تھا کہ ریگولیٹیڈ ایکسچینجز کو کریپٹو کے کاروبار کی اجازات ملنی چاہئے۔ درخواست گزار کے مطابق فارن ایکسچینجز کو پاکستان سے کام کی اجازات نہیں ہونی چاہئے۔ درخواست گزار کے مطابق والٹ سے فنڈ ریکوری فارنزک ماہرین کی مدد سے ممکن ہے۔ درخواست گزار نے کمیٹی کی رپورٹ سے اختلاف کیا ہے۔ کریپٹو کرنسی سے پابندی سے پاکستان عالمی مارکیٹ میں مقابلے سے باہر ہوجائے گا۔ عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی بلاک چین صنعت کو معاشی فائد نہیں ہوگا۔ کریپٹو کرنسی پر محض کمیٹی کی سفارشات پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی ہے۔ کریپٹو کرنسی پر پابندی کا فیصلہ آئین سے متصادم ہوگا۔ عدالت نے قانونی پہلوں کا جائزہ لینے کے لئے رپورٹ وزارت خزانہ اور وزارت قانون کو بھیجنے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ وزارت خزانہ اور وزارت قانون 3 ماہ میں حتمی فیصلہ کریں۔ جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیئے پابندی لگانے کی صورت میں پابندی کی آئینی حیثیت سے بھی عدالت کو آگاہ کیا جائے۔ کرنسی میں کاروبار کی اجازت کی صورت میں لیگل فریم ورک تیار کیا جائے۔ کریپٹو کرنسی کا موجودہ اسٹیٹس قانون نافذ کرنے والی ادارے خود طے کریں۔ متعلقہ ادارے قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ جاپان نے کریپٹو کو قانونی شکل دی ہے۔ ایف آئی اے کریپٹو کا کاروبار کرنے والوں کیخلاف مقدمات درج کررہی ہے۔ کریپٹو کو امریکا اور دیگر ممالک کی طرح سوفٹ ویئر کے طور پر تسلیم کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں