اپوزیشن کا منی بل میں اصل اعتراض ٹیکسوں کے متعلق نہیں،ڈاکومنٹیشن پر ہے،وزیر خزانہ، شوکت ترین

اسلام آباد:وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ اپوزیشن کا منی بل میں اصل اعتراض ٹیکسوں کے متعلق نہیں،ڈاکومنٹیشن پر ہے،343 ارب روپے کے لگائے جانے والے ٹیکس میں سے 280 ارب ریفنڈ ہو جائے گا،صرف 71 ارب کے نئے ٹیکس لگیں گے، ڈبل روٹی، دودھ، لیپ ٹاپ اور سولر سمیت کئی اشیا کو حاصل چھوٹ برقرار ہے۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی جانب سے مالی ضمنی بل 2021 کی شق 2 پر تین ترامیم جمع کرائی گئیں جو شاہد خاقان عباسی، محسن داوڑ اور سید نوید قمر نے ایوان میں پیش کیں۔ شاہد خاقان عباسی نے اپنی ترامیم کے حق میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ آگاہ کریں کہ منی بجٹ پیش کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ ماضی میں کبھی بھی منی بجٹ میں اتنے بڑے ٹیکس نہیں لائے گئے۔ محسن داوڑ نے کہا کہ ہماری ترمیم سابق فاٹا سے کسٹم ہاؤسز کو ضم شدہ اضلاع سے باہر رکھے جانے کے حوالے سے ہیں۔ شوکت ترین نے اس پر بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ بطور وزیر خزانہ جب آئی ایم ایف سے بات چیت کا آغاز ہوا تو انہوں نے ان پٹ اور آؤٹ پٹ کو برابر رکھنے کی بات کی، یہ جو ٹیکسز کا واویلا کیا جارہا ہے دراصل یہ ڈاکومنٹیشن کے خلاف ہے کیونکہ جب بھی ڈاکومنٹیشن کی بات کی جاتی ہے تو اسی طرح شور اٹھتا ہے۔ ڈاکومنٹیشن سے سب بھاگتے ہیں، اس سے ان کی اصل آمدن کا اندازہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکسوں کی گیم نہیں بلکہ یہ جو واویلے کا طوفان ہے اس کی وجہ ڈاکومنٹیشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ منی بجٹ کے ذریعے لگائے جانے والے 343 ارب روپے میں سے 280 ارب ریفنڈ ہو جائیں گے جبکہ صرف 71 ارب روپے کا ٹیکس عائد کیا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈبل روٹی، دودھ، لیپ ٹاپ، سولر سمیت دیگر ضروری اشیا کو حاصل چھوٹ برقرار رکھی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو بھی علم ہے کہ جب تک 18 سے 20 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی نہیں ہوگی توازن نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہاکہ یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ میں جب آئی ایم ایف سے مذاکرات کررہا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ آپ ان پٹ اور آؤٹ پْٹ کو میں توازن لائیں، اگر آپ نہیں کرے گے تو جی ایس ٹی پورا نہیں ہو گا، ہم اس کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ آج ہماری 18 سے 20 ٹریلین کی ریٹیل سیلز ہیں، اس میں سے صرف ساڑھے تین ٹریلین کو دستاویزی شکل دی جاتی ہے، جب بھی دستاویزی شکل دینے کی بات کی جاتی ہے تو شدید واویلا مچ جاتی ہے کیونکہ سب نے بندر بانٹ کی ہوئی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ انہوں نے کیا طوفان مچایا ہوا ہے کہ غریب کو کیا ہو جائے گا، یہ دودھ اور ڈبل کی بات کررہے ہیں لیکن ہم نے ان پر سے ٹیکس ختم کردیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہم ٹیکس کو 18 سے 19 فیصد نہیں کریں گے اس وقت تک چھ سے آٹھ شرح نمو نہیں دکھا سکتے، یہ سب جانتے ہیں لیکن شتر مرغ بنے ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں