مرغیوں کی آلائشوں سے کھانے کا آئل تیار ہوٹلوں میں استعمال ہونے کا انکشاف

اسلام آباد:پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں مرغیوں کے ویسٹ(انتڑیوں، سر اور پنجوں) سے بنایا جانے والا تیل کئی ہوٹلوں کے کھانوں میں استعمال ہونے کاانکشاف ہوا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی سید حسین طارق نے کمیٹی کو بتایا کہ آج کل چکن کے ویسٹ سے آئل بنا کر کہا جاتا ہے کہ صابن کے لئے دے رہے ہیں لیکن پھر یہی آئل کھانے میں ہوٹلوں میں استعمال ہو رہا ہے، بہت ساری فیکٹریز چل رہی ہیں، ان پر کوئی کنٹرول نہیں،آئل ٹینکر کے اندر بھرا جارہا ہے،کمیٹی نے پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے)کو معاملے کا جائزہ لے کر کاروائی کرنے کی ہدایت کر دی۔چیئرمین کمیٹی نے آڈیٹر جنرل آفس کے آڈٹ کا طریقہ کار طے کرنے کے لئے ایک میٹنگ کرنے کا فیصلہ کرلیاجبکہ آڈٹ نہ کرانے والے اداروں کی فہرست طلب کرلی۔جمعرات کو پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی رانا تنویر حسین کی صدارت میں ہوا، جس میں وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سال 2019-20 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں