عمران خان سکیورٹی رسک بن چکے،احسن اقبال

لاہور:پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ 23مارچ کو تبدیلی کا مارچ ہوگا،اپوزیشن حکومت کے ظلم کے آگے ڈٹی ہوئی ہے،،آئندہ عام انتخابات میں کوئی پی ٹی آئی کی ٹکٹ لینے والا نہیں ہوگا کیونکہ لوگ سیاسی خود کشی سے بچنے کیلئے عمران کی سیاست سے پرہیز کریں گے۔ شیخ رشید کو سنجیدہ نہ لیا کریں پہلے وہ شادی تو کر لیں، چار لوگوں کو مائنس کی بات کا فیصلہ (ن)لیگ نے کرنا ہے، فارن فنڈنگ تحقیقات میں اسٹیٹ بینک کا کلیدی کردار ہوگا، عمران خان نے ممنوعہ فنڈنگ کے کیس میں رعایتیں حاصل کرنے کے لئے گورنر اسٹیٹ بینک کو اس طرز کی خود مختاری دی ہے، عمران خان سکیورٹی رسک بن گئے ہیں،حکومت کوشہباز شریف فوبیا ہوگیاہے،لکھا ہو اہے کہ نواز شریف صحت یاب ہوں گے تب ہی آئیں گے،آج تک حکومت نے قدم نہیں اٹھا یاکہ وہ عدالت جائے اور نوازشریف کو واپس لائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں سردار ایاز صادق او ردیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ 13جنوری کا دن پارلیمانی سال کا سیاہ دن تھا، وزراء تعریف کرتے ہیں کہ حکومت نے ملک کو جنت بنا دیا حالانکہ ملک نالائق وزیروں کی جنت ہے،وہ وزیر جو گیس بحران کے ذمہ دار ہیں آج وہ لیکچر دے رہے تھے کہ کون سی پالیسیاں بہترین ہیں، فیل حکومت کے فیل وزیر چوتھے سال میں گزشتہ حکومت میں کیڑے نکال رہے ہیں، وزیر کہتے ہیں مافیاز ختم کر دئیے ہیں حالانکہ شوگر،آٹا کھاد،فارما،ڈالرز یا سٹاک مارکیٹ کے مافیازاس حکومت میں پیدا ہوئے،وزیر کہتے کسان زیادہ کھاد استعمال کررہے ہیں اس لئے کھاد کی قلت ہو گئی ہے، کسان کو کھاد کی بوری 1400کے بجائے 2800روپے میں قطاروں میں لگ کر بھی نہیں مل رہی کیونکہ کھاد تو حکومت کی سرپرستی میں سمگل ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تو پہلے ہی آٹے گندم اور گیس بحران کی پیشگوئی کر دی تھی، ملک میں ایک بار پھر گندم کا بحران آنے والا ہے اور وزیر کہیں گے پاکستان میں آٹے کا بحران اس لئے آیا ہے کہ لوگوں نے روٹیاں زیادہ کھانی شروع کر دی ہیں، پہلے عوام دو روٹیاں کھاتے تھے اب انہوں نے چار روٹیاں کھانا شروع کر دی ہیں۔ وزراء کہتے ہیں کہ عوام کے دن پھرے ہیں حالانکہ اصل میں عمران خان اور وزیروں کے دن پھرے ہیں جن کا انکم ٹیکس ایک لاکھ سے ایک کروڑ روپے ہوگیاہے۔احسن اقبال نے کہا کہ اس حکومت نے ملک کی کی معاشی آزاد ی خود مختاری کو نیلام کیا ہے، یہ اصلاحات نہیں لائے بلکہ انہوں نے قومی مالیاتی خود مختاری کا سودا ہے، قومی اسمبلی میں کی گئی قانون سازی کا مقصد پاکستان کو دست نگر ریاست بنانا ہے۔ جو بل پاس کیا گیا ہے اس کی ہمارے خطے میں کوئی مثال نہیں ملتی،ہندوستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور ملائیشیاء کے سنٹرل بینکوں کے پاس اس طرح کی خود مختاری نہیں ہے۔یہ ہمیں امریکہ،برطانیہ اورآسٹریلیا کا سنا رہے ہیں،اگر آپ ان ممالک کی مثالیں دے ر ے ہیں تو ان کے مقابلے کی معیشت بھی پیدا کریں، ترقی پذیرملک کا اپنا معاملہ ہوتا ہے اور اس نے اپنے حالات و واقعات کے مطابق قانون سازی کرنی ہوتی ہے، جو قانون بنایا گیا ہے اس کے ذریعے گورنر اسٹیٹ بینک مکمل طور پر مخود مختار ہیں اورآئی ایم ایف کے وائسرائے ہوں گے، وہ ریاست کی سطح پر کسی کو بھی جوابدہ نہیں ہیں اور ان سے کوئی جوابدہی نہیں کر سکے گا۔ حکومت کا کوئی محکمہ یا کوئی بھی ان سے کوئی بات چیت کر سکے گے اور نہ انہیں ہدایات دے سکے گا، قانون سازی کے ذریعے انہیں سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا گیا ہے،آپ بیشک جسے چاہیں سیاہ و سفید کا مالک بنائیں لیکن اس کے احتساب کا کوئی میکنزم تو طے کریں،ان کی کارکردگی کو جانچنے کا کیا طریقہ ہوگا، گورنر اسٹیٹ بینک کو قلم دیدیا گیا کہ وہ اپنے اہداف طے کریں گے اور خود ہی بتائیں گے کہ انہوں نے کس کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، کیا دنیا میں کہیں ایسا ہوتا ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہا جارہا ہے کہ ایک بورڈ اسٹیٹ بینک کی نگرانی کرے گا لیکن بتایا جائے دنیا میں کس جگہ ایسا ہوتا ہے بورڈ کا چیئرمین او رچیف ایگزیکٹو ایک ہی ہو، جو چیف ایگزیکٹو ہے وہی بورڈ آف ڈائریکٹرز کا چیئرمین بھی ہے، اس کی نگرانی میں بورد کام کرے گا وہ کیسے کرے گاکیا یہ سقم اورتضاد نہیں ہے لیکن حکومت کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں۔ قانون سازی میں یہ لکھ دیا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک حکومت کو ایک روپیہ قرض نہیں دے سکے گا، کسی بھی ملک میں سنٹرل بینک کا یہ کردار ہوتا ہے کہ کسی ریاست کو جب کسی ایمر جنسی کی صورتحال کا سامنا ہو، کسی آفت کا سامنا ہو تو وہ تو اپنے مرکزی بینک سے قرض لے سکتی ہے تاکہ مشکل صورتحال سے نمٹ سکے۔ لیکن اسٹیٹ بینک کو خود مختاری دینے کے قانون میں یہ لکھ دیا گیا ہے کہ حکومت کو ایک روپیہ نہیں دیں گے، بتایا جائے اگر اسٹیٹ بینک سے ایک روپیہ قرض نہیں لے سکتے تو کیا بیرون ممالک سے قرضوں پر بھی پابندی لگ گئی ہے۔ اس کے ذریعے یہ کیا گیا ہے کہ حکومت اسٹیٹ بینک سے سستا قرضہ نہیں لے سکتی اور اسے اب جتنا قرضہ لینا ہے وہ کمرشل بینکوں سے لینا ہے جو مہنگا قرضہ دیں گے، اس سے بوجھ مزید بڑھے گا، اس قانون کے ذریعے ملک کو انٹر نیشنل اور پرائیویٹ بینکوں کا یرغمال بنا دیا گیا ہے جو کارٹلائزیشن کر سکتے ہیں اورحکومت کو ضرورت کے وقت من مانے انٹرسٹ ریٹ پر قرضے کی پیشکش کریں گے، اس سے حکومت کے لئے سستا قرضہ لینے کا دروازہ بند ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے ہاتھ اور پاؤں باندھ کے لئے اوربین الاقوامی بینکوں کا غلام بنانے کے لئے یہ قدم اٹھایاگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ تجویز دی تھی کہ گورنر،ڈپٹی گورنر بینک کے لئے یہ شرط ہونی چاہیے کہ وہ دہری شہریت کے حامل نہیں ہوں گے کیونکہ وہ کسی ملک کی قومی مختاری اور مالیاتی خود مختاری کے نگران ہوتے ہیں،حکومت نے اس میں ڈپٹی گورنر کیلئے تو یہ شرط رکھ دی ہے لیکن گورنر کے لئے اسے ختم کر دیا گیا،اسی طرح نان ایگزیکٹو ممبر بھی دوہری شہرتی رکھ سکتے ہیں اور وہ نگران بن کر بیٹھ سکتے ہیں۔ گورنر کے عہدے کی مدت تین سال تھی جسے حکومت نے بڑھا کر پانچ سال کر دیا ہے اور پانچ سال کی توسیع بھی ہو سکتی ہے، اب گورنر اسٹیٹ بینک دس سال کیلئے براجمان رہ سکتا ہے

کراچی:وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیر اعلی سندھ ایک مافیا کے رکن ہیں جس کا گاڈ فادر آصف زرداری ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کی باتیں کرنے والے سی ایم خود اختیارات چھین رہے ہیں، ہفتہ کو کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر بحری امور اور شپنگ علی زیدی نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمیں 18ہویں ترمیم اورجمہوریت کا سبق سکھاتے آئے ہیں اور خود سندھ میں کالا قانون لائی ہے،علی زیدی نے کہا کہ آج ساڑھے تین سال ہوگئے۔ نیشنل اسمبلی میں یہ کئی کمیٹیوں کے ممبر اور چیئرمین ہیں۔ انہوں نے سندھ میں اپوزیشن کے کسی ممبر کو کسی بھی کمیٹی میں نہیں رکھا۔ ان سے بڑا جمہوریت پر ڈاکا ڈالنے والا کوئی نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ یہ حکومتوں میں رہنے کے باوجود بھی بی بی کے قاتلوں کو نہیں پکڑ سکتے۔ یہ بی بی کی برسی پر صرف ناچ گانا کرتے ہیں۔ یہ جمہوریت سے پہلے انسانیت سیکھ لیں،سندھ حکومت سے نالے صاف نہیں ہوئے، کچرا ان سے اٹھایا نہیں جاتا۔ یہ صرف باتیں کرتے ہیں۔ یہ کے سی آر نہیں ٹھیک کرسکے جبکہ کے فور کا منصوبہ وفاق بنا رہا ہے،علی زیدی نے کہا کہ یہ کتے کے کاٹے کی ویکسین نہیں دے سکتے، یہ کورونا کی ویکسین کیا دیں گے۔ بلاول کہتے ہیں کہ میں 27 فروری کو کراچی سے اسلام آباد مارچ کریں گے۔ میں اعلان کرتا ہوں کہ میں سندھ کے عوام کے ساتھ گھوٹکی سے کراچی مارچ کروں گا، میں کراچی نہیں بلکہ پورے سندھ سے مخاطب ہوں۔ یہ سندھ کے لوگوں کے تمام حقوق کھا جائیں گے۔ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ ہرڈویژن کی الگ اتھارٹی بنائیں گے جیسے کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ہے،علی زیدی نے سندھ کی صدارت ملنے پر چیئرمین عمران خان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں