ریکوڈیک پر ہونے والے معاہدے کو عوام کے سامنے لایا جائے خفیہ کسی معاہدے کو تسلیم نہیں کریں گے،عبدالمالک بلوچ

تربت: نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے وسائل کو ہر صورت محفوظ بنانا ہماری قومی ذمہ داری ہے ریکوڈیک پر ہونے والے معاہدے کو عوام کے سامنے لایا جائے خفیہ کسی معاہدے کو تسلیم نہیں کریں گے صوبائی حکومت میں اتنی صلاحیت کہاں سے آگئی کہ اپنے قیام کے دوسرے مہینے اتنا بڑا فیصلہ کرڈالا جبکہ اس دوران مشکل سے ایک کابینہ اجلاس منعقد کراسکے ایسا لگ رہا ہے کہ ریکوڈک معاہدے پر عمل درآمد کیلے موجودہ سیٹ اپ کو لایا گیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع کیچ کے سنیر رہنما اور عہداروں کے اجلاس سے بات کرتے ہوئے کیا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ریکودیک کاپر اینڈ گولڈ پروجیکٹ معاہدے کے خلاف 21 جنوری بروز جمعہ آبسر میں احتجاجی جلسہ ہوگا اور 22 جنوری بروز ہفتہ سنگانی سر تربت میں احتجاجی جلسہ منعقد ہوگا اجلاس میں فی لہ کیا گیا کہ ضلع بھر میں ریکودیک کاپر اینڈ گولڈ پروجیکٹ کے مبینہ معاہدے کے خلاف عوام کو اعتماد میں لیا جائے گا اور یہ سلسلہ پورے ملک میں اور خصوصا بلوچستان میں جلد شروع کیا جائے گا۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کھاکہ بلوچستان کے وسائل اور قومی ذخائر کے ساتھ رویہ روز اول سے غیر مناسب اور متعصبانہ رہا ہے بلوچستان سے نکلنے والے نیچرل گیس نے پاکستان کی انڈسٹری اور گھریلو صارفین کو کئی سالوں تک سنبھالا لیکن بلوچستان کو اس کے بدلے بھوک افلاس اور لاچاری کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملا بلوچستان میں قدرتی وسائل کے باوجود غربت سب سے زیادہ ہے لوگوں کو بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں۔ بلوچستان کے حوالے سے جو مائنڈ سیٹ رہا ہے اس میں ابھی تک تبدیلی دیکھنے میں نہیں آرہی ہے بلوچستان کے عوام کو سیاسی نمائندگی دینے کو تیار نہیں طاقتور ادارے بلوچستان میں عوام کی رائے کے بجائے اپنی من مانی کو بلوچستان میں انتخابات کہتے ہیں اگر عوام کے ووٹ اور سیاست کے ساتھ یہی رویہ برقرار رہا تو اس کے انتہائی منفی اور بیانک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں اسلام آباد کو بلوچستان کے حوالے سے اپنی بنیادی پالیسیوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے اب سلسلہ اس طرح ہرگز نہیں چلے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں