ڈیل اورڈھیل کی فضول بحث

سیاست اگر اصولوں سے ہٹ جائے،ماتحت اداروں سے ملاقاتو ں کارخ کر لے تو وہی مناظر دیکھنے میں آتے ہیں جو قیام پاکستان سے آج تک دیکھے جا رہے ہیں۔وقت کے ساتھ اس رویئے کا نام ”ڈیل اور ڈھیل“ پڑ گیا ہے۔مستقبل کا مورخ اس سیاسی بگاڑ پر شدید تنقیدکرے گا۔اس کی کسی سیاست دان سے کوئی ہمدردی نہیں ہوگی،غیر جانبدارانہ طور پر تجزیہ کرے گا، اصولوں کی روشنی میں معاملات کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔یہ سچ ہے کہ ان مبصرین میں 1857جنگ آزادی کو ”غدر“ کہنے والے بھی ملیں گے لیکن یہ زیادہ دیر اپنے مؤقف کا دفاع نہیں کر سکیں گے۔ڈیل اور ڈھیل کو رہنما سیاسی اصول کہنے اور سمجھنے والوں کو زمینی حقائق تسلیم کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرنی پڑے گی۔جتنی جلدی ہو سکے ڈیل اور ڈھیل کی جیسی شرمناک اصطلاح کو ترک کر دینا چاہیئے۔اس راستے پر چلنے سے پہلے دن ہی انکار کر دینا چاہیئے تھا۔اگر مناسب سوچ بچار کے بغیر ہی یہ راہ اختیار کر لی تھی تب بھی جلد اپنی اصلاح کر لی جاتی۔ڈیل اورڈھیل کو اپنے گلے کا ہار نہ بنایا جاتا۔دنیا کے نظام ہائے سیاست مطالعہ کیا جانا چاہیئے تھا۔انگریزوں سے ہی بہت کچھ سیکھا جا سکتا تھا۔انہوں نے اپنے بادشاہ(اور ملکہ) کو بکنگھم پیلس میں بند کردیا، پاکستان میں سیاست دان گیٹ نمبر چار پر حاضری دینے سے باز نہیں آتے۔فخریہ انداز میں میڈیا کے روبرو اعتراف کرتے ہیں۔گزشہ روز ڈیل اور ڈھیل کی شہ سرخیاں اسی حقیقت کی غمازی کر رہی ہیں کہ ابھی سیاست سوچنے سمجھنے کے لئے تیار نہیں، جو کچھ سیاست کے ساتھ ہو چکا آنکھیں کھولنے کے لئے کم ہے،اس سے بھی بڑا دھچکہ درکار ہے۔نہ جانے کیوں مزاحمت سے مفاہمت والی حکمت عملی کو ہی تمام مسائل کا حل سمجھ لیا گیا ہے۔ اس حکمت عملی کی خامیوں پر نگاہ ڈالنے کو تیار نہیں،بضد ہیں کہ منزل تک یہی حکمت عملی پہنچا سکتی ہے۔بار بار کی ناکامی سے بھی سیکھنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔مقننہ ملکی سیاست میں اپنا فعال کردار ادا نہیں کر رہی۔اجلاس میں شرکت کرنے اور غیر حاضر رہنے کا فیصلہ ٹیلیفون کال سن کر کیا جاتا ہے۔ سیاسی تقاضے بوجوہ پورے نہیں کئے جاتے۔اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ بنیادی خرابی کہیں اور ہے۔اسے تلاش کہیں اور کیا جا رہا ہے۔عام آدمی کا کردار ملکی سیاست میں نہ ہونے کے برابر ہے۔الیکشن نتائج جھرلو کے ذریعے تیار ہوتے، انجنیئرڈ ہوتے ہیں، فرشتے ووٹ ڈالتے ہیں،نظرنہ آنے والی مخلوق حکومتیں تشکیل دیتی ہے۔اس شرمناک حقیقت کی نشاندہی پی پی پی کی چیئر پرسن محترمہ بینظیر بھٹو شہید اور مسلم لیگ نون کے سربراہ سابق وزیراعظم ہر ناکامی کے موقع پر کر چکے ہیں۔مگر دونوں نے الیکشن کے طریقہئ کار میں پائی جانے والی دیرینہ خرابی کو دور کرنے میں سنجیدگی نہیں دکھائی۔ملک کی دونوں پارٹیوں کی قیادت نے پرانے طریقہئ کار کی مخالفت نہیں کی۔ اصلاحی اقدامات کی ضرورت تھی،نہیں کئے گئے۔اس کا نتیجہ یہی نکلنا تھا کہ کوئی تیسری سیاسی پارٹی اپنی جگہ بناتی۔پی ٹی آئی نے احتساب کے نعرے سے اس خلاء کو پر کیا، اور آج وفاق اور تین صوبوں کی حکومت اسی کے پاس ہے۔ضمنی انتخابات میں پے درپے شکست کے اسباب پر غور کیا، انتخابی عمل میں موجود دیرینہ خرابی کو درست کرنا ضروری سمجھا،اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین متعارف کرائی۔الیکشن کمیشن نے اپنی بساط بھر مزاحمت کی مگر قانون سازی کے بعد اس نے بھی ای وی ایم مشینیں رکھنے کے لئے مناسب جگہ مانگ لی اور مشینوں کو چلانے کی تربیت کی درخواست کردی ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے کی جانے والی مذکورہ درخواست کے بادیئ النظر میں یہی معنے ہوتے ہیں کہ آئندہ انتخابات 2023میں اپنے شیڈول کے مطابق منعقد ہوں گے۔ اس لئے کہ اتنی بڑی تعداد میں مشینوں کی تیاری میں وقت درکار ہو گا۔الیکشن کمیشن کی درخواست نے تمام صورت حال واضح کر دی ہے اپوزیشن جانتی ہے کہ قانون سازی کے بعد الیکشن کمیشن انکار نہیں کر سکتا، اسے قانون کے مطابق اپنے فرائض ادا کرنے ہیں۔مشین کے استعمال کے حوالے سے اپوزیشن کے خدشات اگر حقیقی ہوئے تو انتخابات میں سامنے آجائیں گے۔ خامیاں چھپی نہیں رہ سکیں گی۔چیک اینڈ بیلنس کا بندوبست ایک سے زائد طریقوں سے ای وی ایم میں موجود نہ ہوتا تو الیکشن کمیشن حکومت کو مذکورہ خط نہ لکھتا۔اس مرتبہ ووٹرز بھی اپنا رد عمل ظاہر کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔یاد رہے انتخابی عمل میں ووٹرز کی شناخت میں رازداری کو یقینی بنایا جاتاہے۔ لیکن جہاں انتخابی دھاندلی کی بو محسوس ہوئی، عدالت کے لئے مشینی ریکارڈ کے مطابق جھوٹ کا کھوج لگانہ ممکن ہو سکے گا۔ اس لئے ووٹرز کے پاس اپنے ووٹ ڈالنے کا وقت اور نمبر کی پرنٹڈ پرچی موجود ہوگی۔ مشین سے تصدیق ہوسکے گی کہ اس نے جو ووٹ دیا تھا وہ مخالف پارٹی کے امیدوار کو تو منتقل نہیں ہوا؟ایک ووٹر ایک سے زائد ووٹ نہیں دے سکے گا۔ دو مہروں سے ووٹ مشکوک بنانا ممکن نہیں ہوگا۔لاکھوں ووٹ ضائع ہونے کا سلسلہ رک سکے گا۔انتخابات ممکنہ حد تک صاف، شفاف، اور آزادانہ ہوں گے۔ ریٹرننگ آفیسرز کا پولنگ اسٹیشنز سے ووٹ پرچیوں کے ڈبے لے کر رات بھر غائب ہونے والا پراسرارکردار ختم ہو جائے گا۔ مشین دھند سے متأثر نہیں ہوگی، ریٹرننگ آفیسرز(آر اوز) کے موبائل سگنل کی خرابی 1913والے انتخابات کوپی پی پی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری نے ”آر اوز“کے مرتب کردہ انتخابات کہاتھا۔یاد رہے کہ آر اوز عدالتوں سے لئے گئے تھے۔ خرابی کسی ایک ادارے میں نہیں بلکہ پورے سسٹم میں ہے۔اس خرابی کو دور کئے بغیر سسٹم درست نہیں ہو سکتا۔قانون ساز ادارے کے اراکین خود غیرقانونی ہتھکنڈے استعمال کر کے ایوان میں پہنچیں تو انہیں عوام کے ووٹوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ عوام کے مسائل حل کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے۔ پہلے گزشتہ اور آئندہ چار سال کے انتخابی اخراجات پورے کرتے ہیں،پانچویں سال اپنے حلقے میں جاتے ہیں اور نالیاں، سڑکیں وغیرہ پختی کرتے ہیں۔بیروزگار نوجوانوں کو ملازمتیں پہلے چار سال میں دلوا چکے ہوتے ہیں۔اب ہر سمجھدار شخص با آسانی جان سکتا ہے کہ دھاندلی زدہ انتخابات معاشرے کو کس سمت لے جاتے ہیں؟ 50سال کوئی ڈیم تعمیر نہیں ہوتا، آئی پی پیز سے بجلی خریدنے کے ایسے معاہدے کئے جاتے ہیں،جن میں نہ خریدی جانے والی بجلی کی قیمت بھی صارفین سے وصول کرنے کی شرط بھی لکھی جاتی ہے۔آج پاکستان کے عوام نہ خریدی گئی بجلی کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔واضح رہے پورے معاشرتی نظام کی اصلاح درکار ہے،عوام کو ووٹ کا حق آر اوز نہیں دے سکے، کبھی نہیں دیں گے،آر اوز سے نتائج مرتب کرنے کا اختیار چھینے بغیر یہ بنیادی کام نہیں کیا جا سکتا۔ ڈیل اور ڈھیل کی بحث بھی ختم ہو جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں