کون سچا کون جھوٹا؟

حکومت نے مسلم لیگ (نون) کے چار اہم رہنماؤں کے بارے میں میڈیا کو بتایا ہے کہ وہ اپنے تا حیات پارٹی قائد میں محمد نواز شریف کو مائنس کرنے پر راضی ہیں اور مقتدرحلقے ان چار میں سے جسے پسند کریں اسے مسلم لیگ نون اپنا سربراہ مان لے گی۔ مسلم لیگ نون نے ابتدائی ردعمل دیتے ہوئے اس اطلاع کو جھوٹی افواہ ٹھہرایا۔ لیکن پاکستان میں تمام سیاسی پارٹیاں جھوٹ بولنے سے پرہیز نہیں کرتیں،مگر نون لیگ کا ریکارڈ اس میدان میں دوسری پارٹیوں کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہے۔ بالخصوص شریف فیملی کے تقریباً ہر فرد نے ناقابل تردید جھوٹ بولا ہے، الیکٹرانک میڈیا نے پوری دیانت داری سے اسے محفوظ کرلیا بلکہ مختصر وقفوں سے قند مکرر کے طور پر نشر کرکے عوام کی یادداشت اپ ڈیٹ بھی کی جاتی ہے۔بی بی سی نے بھی اس گھرانے پر ایک ڈاکومینٹری بھی تیار کی ہوئی ہے۔اس میں دورائے نہیں کہ جھوٹ سب بولتے ہیں مگر تردیدی شواہد سامنے آجائیں تو اپنی غلط بیانی تسلیم کر لیتے ہیں،نون لیگی قیادت ایسا نہیں کرتی۔پہلے کئے گئے غلط دعوے کو غلط تسلیم کرنے کو تیار نہیں، پریس کانفرنس میں کسی صحافی کی جانب سے ماضی میں کئے گئے غلط دعووں کے بارے میں سوال پوچھا جائے تو جواب ہوتا ہے:”ہمیں آپ سے اسی سوال کی توقع تھی“۔گویا یہ سوال پوچھ کر متعلقہ صحافی نے اخلاقی اقدار کے منافی کوئی حرکت کی ہے، اسے یہ سوال بھرے مجمع میں نہیں پوچھنا چاہیئے تھا،اس لئے کہ جس شخص کا تعلق حکمران خاندان سے ہو اس کے جھوٹ کو بھی میڈیا ہمیشہ سچ مانے، حقیقت سامنے آجائے تب بھی پہلے والے دعوے کے بارے میں کچھ نہ پوچھا جائے۔یورپ اور امریکہ میں جمہوریت ہے، مگر کسی صدر یا وزیر اعظم کو جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں، صدر بل کلنٹن نے جو کچھ نوجوان لڑکی کے ساتھ کیا، اس پر انہیں صدارت سے نہیں ہٹایا گیا، مگر انہوں نے جیسے ہی جھوٹ بولا، صدارت سے ہٹا دیئے گئے۔پاکستان کاآئینی نام ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ہے، یہی پاسپورٹ پر لکھا جاتا ہے۔ یہاں جھوٹ بولنا جہنم میں لے جانے والا عمل سمجھا جانا چاہیئے، مگر یہاں بکثرت جھوٹ بولا جاتا ہے۔پاریمنٹ کے تقدس کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا۔جھوٹ انفرادی سطح تک محدود رہے تو فرد رسوا ہوتا ہے، اور پورا معاشرہ اسے اپنا شعار بنا لے تو پرے معاشرے کو دنیا گھٹیا سمجھنے لگتی ہے اور لین دین میں محتاط ہو جاتی ہے۔ ان سے کئے گئے معاہدے بھی ملک کو فائدہ نہیں پہنچاتے، ریکوڈک معاہدے کی طرح اس کی شرائط میں 10ارب ڈالر جرمانہ موجود ہوتا ہے۔ جو مقدمہ بازی کی صورت میں عالمی عدالت کے حکم پر پاکستان کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ابھی بہت کچھ راز داری کے پردوں میں چھپا ہوا ہے،صرف اتنی خبر میڈیا تک پہنچی ہے کہ 6ارب ڈالرحکومت پاکستان ادا کرے گی جبکہ 4ارب ڈالر کی ادائیگی بلوچستان کو کرنی ہے۔یہ ادائیگی بھی وفاق اپنے ذمہ لی تب بلوچستان کی گردن سے یہ بھاری بوجھ اترا۔ابھی پرانے معاہدے کی جگہ ایک نیا معاہدہ فریقین کے زیر غور ہے۔جب اس کی جزئیات سامنے آئیں گی تب پتہ چلے گا گھپلے کا حجم کتنا تھا؟یہ معاشرے میں رائج جھوٹ کی فراوانی کا نتیجہ ہے۔اَللہ نے جھوٹوں پر اپنی لعنت بھیجی ہے، توبہ کرنے کی ضرورت تھی،یہ مکافات عمل ہے لیکن صحافیوں پر غصہ اتاراجارہا ہے۔پورے معاشرے کو اصلاح درکار ہے، یاد رہے اس کے بغیر رسوائی کا عذاب نہیں ٹلے گا۔ ماضی میں قومیں عذاب کا شکار ہوکر ناپید ہو چکی ہیں، اَللہ کا قانون تبدیل نہیں ہوا، مستقبل میں بھی جھوٹوں پر لعنت بھیجی جائے گی اور قوموں پر اَللہ عذاب نازل ہوگا۔اَللہ کسی دارالعلوم کے فتوے دیکھ کر عذاب نازل نہیں نہیں کرتا اور نہ ہی عذاب کا حکم ٹالا جاتا ہے۔ اسکے قوانین اٹل ہیں،اٹل رہیں گے۔غلطی یونس علیہ السلام سے سرزد ہوئی تو انہیں  مچھلی کے پیٹ میں جانے کی سزا ملی۔نوح علیہ السلام کے بیٹے نے کشتی میں سوار ہونے حکم نہیں مانا، طوفانی ریلا نوح علیہ السلام کی نظروں کے سامنے بہاکر لے گیا، نوح علیہ السلام کی شفاعت کام نہیں آئی بلکہ انہیں اس شفاعت کے جواب میں سخت وعید سننے کو ملی اور انہوں نے فوراً معافی مانگ لی۔محمد (ﷺ)نے ایک زوجہ محترمہ کی ناپسندیدگی کا خیال کرتے ہوئے شہد کی ایک خاص قسم نہ کھانے کا تنہائی میں وعدہ کر لیا۔اَ للہ کی جانب سے فوراً پوچھا گیا:”جن چیزوں کو اَللہ نے حلال قرار دیا ہے، تم انہیں حرام کرنے والے کیسے ہوگئے؟“، اس وارنگ سے یہی اصول سامنے آتا ہے کہ جھوٹوں پر لعنت کا قانون دائمی ہے۔قانون میں تبدیلی کاجو اختیار اَللہ نے اپنے آخری نبی محمد (ﷺ) کو نہیں دیا وہ عام آدمی کو کیسے مل سکتا ہے؟ اسے ہر پاکستانی ہر لمحے یاد رکھے۔جیسے ہی اس کی زبان پر جھوٹ آئے،اَللہ کے خوف سے جھوٹ بولنے سے رک جائے۔ تاکہ دنیا اور آخرت میں رسوائی اور ذلت سے بچ سکیں۔توبہ کے مہلت موت کا فرشتہ آتے ہی ختم ہوجاتی ہے۔فرشتے کے آنے کا انتظار نہ کیا جائے،نہ جانے کب آجائے اور توبہ کا چانس بھی نہ ملے۔یادرہے اَللہ کی طرف سے اجتماعی جرائم کی سزا بھی اجتماعی دی جاتی ہے۔تاریخ میں مذکور متعددقوموں کی تباہی اس کا واضح ثبوت ہے۔ اگر دامن صاف ہو تو ایلچی بھیج کر کوئی درمیانی راستہ تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ کوئی جج پی ٹی آئی کے دور میں بھرتی نہیں کیا گیا۔ ہاں تبادلے کئے جانے کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہ ہر حکومت کرتی رہی ہے، یہ معمول کا کام ہے جاری رہتا ہے، پہلی بار نہیں کیا گیا۔جیسے آئی ایم ایف کے پاس پاکستان 22ویں بار گیاہے، 21بار پہلے جا چکا تھا۔ اگر یہ گناہ تھا تو پی پی پی نے 9بار اور نون لیگ نے 4بار یہ گناہ کیوں کیا؟ البتہ پی ٹی آئی کے سوا کسی پارٹی نے آئی ایم ایف کے پاس جانے خودکشی کو بہتر نہیں کہا۔لیکن پی ٹی آئی نے 10ڈیم تعمیر کرنے کا راستہ اختیار کیااور بھنگ کی حیران کن کاشت سمیت بعض دیگر غیر روایتی اقدامات اٹھائے ہیں، جو ملکی معیشت کو آئی ایم ایف کے پاس جانے کی مجبوری سے نجات دلائیں گے۔اتنے بڑے بگاڑ کو راتوں رات درست نہیں کیا جا سکتا۔ہر شخص جاتا ہے عام آدمی روزانہ کی بنیادوں پرمہنگائی میں ناقابل برداشت اضافے کے باوجوداپوزیشن کی کال پر سڑکوں نہیں آیا، اپوزیشن پریس کانفرنسز میں جو چاہے کہتی رہے، مگر اسے علم ہے عوام میں مطلوب پذیرائی تاحال نہیں مل سکی۔27فروری کے لانگ مارچ میں سچائی سامنے آ جائے گی۔کہ عوام موجودہ حکومت سے کتنے بیزار ہیں، بلدیاتی انتخابات بھی اس راز پر سے مہین ساپردہ اٹھا دیں گے۔دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا، اتنی بے صبری کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں۔بہتر ہوگا پوری دلجمعی سے بلدیاتی انتخابات کی تیاری کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں