وزیر اعظم عمران خان کا عوام سے فون پر مکالمہ

وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر ٹیلی فون پر عوام سے براہ راست گفتگو کی اور ان کے سوالوں کا جواب دیا۔انہوں نے کہا یہ کام میں پارلیمنٹ کے اجلاس میں کرنا چاہتا تھا لیکن وہاں اپوزیشن شور شرابہ کرتی ہے میری بات نہیں سنتی۔اپوزیشن کے پاس سوائے این آر او مانگنے کے اور کچھ نہیں۔ انہوں نے عوامی مسائل کے بارے میں ایک بار پھر اپنا پرانا مؤقف دہرایا کہ ملک اس وقت تباہ ہوتے ہیں جب طاقتور کو جرم کی سزا نہیں دی جاتی،صرف کمزور کو سزادی جاتی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر سے ہاتھ نہ ملانے کی وجہ ایک بار پھر دہرائی کہ وہ اس ملک میں لوٹ مار کے بڑے مجرم ہیں۔وزیر اعظم نے کہا عدالتوں میں ان کے خلاف مقدمات زیر سماعت ہیں عدالتیں سماعت تیزی سے آگے بڑھائیں، فیصلہ سنائیں۔دوسری جانب انہوں نے معاشرے سے بھی اپیل کی ہے کہ مجرموں کو مجرم سمجھیں،ان کامعاشرتی بائیکاٹ کریں۔وزیر اعظم عمران خان نے اعتراف کیا کہ وہ مہنگائی سے واقف ہیں، آج کی تیزرفتار ٹیکنالوجی کے دور میں صبح ایک گھنٹے میں وہ اپنے واٹس ایپ پر ساری معلومات دیکھ لیتے ہیں۔مہنگائی کی وجہ سے راتوں کو پریشان رہتے ہیں۔ لیکن جلد ہی عوام خوشخبری سنیں گے۔ انہوں نے اپنی تین سالہ کارکردگی کے حوالے سے کہا کہ پاکستان کی جی ڈی پی 5.37ہے۔برآمدات31ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر ہیں، اور ترسیلات زر 30ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔یاد رہے یہ اضافہ کورونا کے باوجود ہے۔انہوں نے کورونا کو 100 سال کے بعد آنے والا سب سے بڑا بحران قرار دیا اور کہا کہ کینیڈا جیسے خوشحال ملک میں جہاں پاکستانی بھی کروڑوں روپے خرچ کرکے شہریت لیتے ہیں،وہاں کے 40فیصد لوگوں کو خوراک کے پیسے نہ ہونے کی فکر لاحق ہے۔ دنیا کے امیر ترین ملکوں کا بھی یہی حال ہے۔کارپوریٹ سیکٹر میں 980 ارب روپے کاریکارڈ منافع ہوا ہے،ان سے کہا ہے اپنے مزدور طبقے کی تنخواہوں میں اضافہ کریں۔ اپوزیشن نے وزیر اعظم کے عوام، سے ٹیلی فونک خطاب کے دوران کی گئی تنقید کا ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہاکہ وزیر اعظم دھمکیاں نہ دیں، سامان اٹھائیں، گھر جائیں۔عوام شکرانے کے نوافل پڑھیں گے۔اقتدار سے نکلے تو تنہا ہوں گے۔اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا ہے حکومت کی نااہلی کی سزا کسانوں کو مل رہی ہے، یوریاکی شدیدقلت ہے،کسان بوائی کے وقت پریشان ہیں انہیں بروقت کھاد نہ ملی تو انہیں اچھی فصل نہیں مل سکے گی۔واضح رہے پاکستان پیپلز پارٹی پہلے ہی کسانوں کی حمایت میں سڑکوں پر ٹریکٹرٹرالی ریلی نکال رہی ہے۔مختلف شہروں میں احتجاجی جلسے منعقد کر نے کا پروگرام بنا چکی ہے۔27فروری کو یہ مارچ اسلام آباد پہنچے گا۔مبصرین کی اکثریت وزیر اعظم عمران خان کے اس شکایتی جملے:”مجھے نکالا گیاتو زیادہ خطرناک ہو جاؤں گا“،کے اسباب اور مخاطب کا سراغ لگانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اس لئے کہ بظاہر ملک میں ایسی کوئی ہلچل دکھائی نہیں دے رہی جس سے یہ نتیجہ اخذ کیاجاسکے کہ پی ٹی آئی سے ناراض قوتیں اس ہلچل کے ذریعے ان کی حکومت ختم کرانا چاہتی ہیں۔ابھی وزیراعظم کے ٹیلی فونک خطاب یا سوال جواب پر بحث کا روایتی سلسلہ جاری تھا کہ اچانک وزیر اعظم کے مشیر داخلہ و احتساب شہزاد اکبر کا استعفیٰ دینے کی خبر میڈیا پر گشت کرنے لگی۔کچھ اسے وزیر اعظم کی وکٹ گرنا کہہ رہے ہیں جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ وزیراعظم شہزاد اکبر کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے اور انہیں مستعفی ہونے کی ہدایت دے چکے تھے۔ جو سچ ہوگا سامنے آجائے گا۔ نئے مشیر کی تقرری بھی پس پردہ عوامل کی ایک حد تک چغلی ضرور کھائے گی۔ سیاست میں پردہ داری کا چلن کم کم ہے۔ ویاسے بھی وزیر اعظم اپنی کابینہ کے اراکین کو یہ وارننگ دیتے چلے آرہے ہیں کہ جو بپہتر کارکردگی دکھانے میں ناکامرہے گا اسے گھر جانا ہوگا۔وزیر اعظم عمران خان نہ صرف موجودہ مدت پوری کرنا چاہتے ہیں بلکہ انہیں امید ہے کہ آئندہ پانچ سال بھی انہی کی حکومت ہوگی۔جبکہ اپوزیشن انہیں موجودہ مدت پوری کرتے بھی نہیں دیکھ رہی۔مگر وزیر اعظم کی جانب سے فوجداری قوانین میں 600سے زائد ترامیم اور دور رس نتائج کی حامل اصلاحات نافذ کرنے کا اعلان بھی انہیں نکالے جانے والے اندیشوں کی تائید نہیں کرتا۔بہرحال پاکستان کی سیاست کے بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی۔اسی قومی اسمبلی کے فلور پر ایم این اے خواجہ آصف کہہ چکے ہیں کہ کسی لمحے یہ چھت ہمارے سروں پر گر سکتی ہے۔دیکھیں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اس گفتگو اور استعفے کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ان سے زیادہ دیر تک صبر نہیں کیا جاتا، سب کچا چھٹا بیان کر دیں گے۔ دوسری جانب میڈیا بھی بال کی کھال اتارنے کے فن میں ماہر ہے، پاتال سے بھی خبر نکال لائے گا۔تاہم اس طرح مشیر داخلہ اوراحتساب شہزاد اکبر کا مستعفی ہونا بلا سبب ہرگز نہیں۔جلد ہی تمام پردے ہٹ جائیں گے۔علاوہ ازیں یہ بھی ذہن میں رہے کہ پی ٹی آئی کے پاس کارکردگی دکھانے کے لئے وقت بہت کم رہ گیا ہے۔پی ٹی آئی احتساب اور انصاف کے نعروں پر عمل کرانے میں ایک حد تک بھی کامیاب ہوگئی تو لوگ مہنگائی کے ذمہ داروں کے خلاف گھیراتنگ ہونے سے بھی کافی حد تک مطمئن ہو جائیں گے۔جن دو بڑوں کا نام عمران خان نے عوام کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے بڑی تفصیل کے ساتھ دیر تک لیا ہے، کم از از کم ان میں سے جو پاکستان میں موجود ہیں انہیں تو عدالتیں دستیاب شواہد کی روشنی میں سزا سنا دیں۔ نوکروں کے اکاؤنٹس میں اربوں روپے کی ٹی ٹیزبیرون ملک سے بھیجے جانا کا اقدام تو نظرانداز نہیں کیا جا نا چاہیے۔ اور اگر یہ ثبوت بھی مجرم کو سزا دلوانے کے لئے ناکافی
ہیں تو پھرپاکستان کے عوام کواللہ سے نوح علیہ السلام جیسے بڑے عذاب کی دعامانگنی پڑے گی۔اس لئے کہ ملک کی کروڑوں مائیں اپنے بچوں کو بھوکا سلانے کا دکھ جھیلنے کے قابل نہیں رہیں۔جو حکومت ساڑھے تین سال میں مہنگائی کی ذمہ دار مافیاز کو لگام نہ دے سکے،اس خود ہی سنجیدگیسے سوچنا چاہیئے کہ اس کرسی پر بیٹھنے کا کیا فائدہ ہے؟اگر وزیر اعظم 8 ہزار ارب روپے ٹیکس جمع کرنے میں کامیا ب ہو جاتے ہیں اور عام آدمی کو سرکاری نرخوں پر آٹا نہیں ملتا، اور کسانوں کو بوائی کے وقت کھاد نہیں ملتی تو وہ پی ٹی آئی کے امیدوار کو کیوں ووٹ دے گا؟ ساری خامیاں کرونا کی باسکٹ میں نہیں ڈالی جاسکتیں،کچھ کارکردگی بھی دکھانی پڑے گی،کرونا سے ماضی کو ڈھانپا جا سکتا ہے لیکن اس سے مستقبل کی بد رنگ عمارت پر کشش نہیں بنایا جا سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں