وندر، لسبیلہ میں مضر صحت گٹکے ماوے کے کارخانوں میں شدت، عوام کا نوٹس لینے کا مطالبہ
وندر:ضلع لسبیلہ میں مضر صحت گٹکے ماوے کے کارخانوں میں شدت آگئی حب،ساکران،ساحلی علاقہ گڈانی،وندر،ساحلی علاقہ سونمیانی ڈام،اوتھل،بیلہ میں مضر صحت زہریلے گٹکے ماوے کی تیاری اور خریدوفروخت کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی محض فوٹو سیشن تک محدود ہو کر رہ گئی محکمہ فوڈ اتھارٹی کی جانب سے مکمل پابندی عائد ہونے کے باوجود ضلع لسبیلہ میں دیدہ دلیری کے ساتھ سرعام مضر صحت گٹکے ماوے کا فروخت ہونا محکمہ فوڈ اتھارٹی کے لیے سوالیہ نشان ہے جبکہ ان کی جانب سے مکمل طور پر چشم پوشی اختیار کرنا جو کہ معنی خیز ہے تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں اس وقت جہاں دیگر سماجی برائیوں منشیات فروشوں نے لسبیلہ کو اپنا مسکن بنا لیا ہے تو دوسری جانب مضر صحت زہریلے گٹکے ماوے کے کارخانوں میں شدت دکھائی دے رہی ہے جس سے نوجوان نسلوں کو سستی موت کے ہاتھوں منہ حلق زبان پھیپھڑوں پیٹ کے کینسر جیسے ناسور امراض میں مبتلا کرکے موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں گٹکے ماوے کا استعمال ہماری نوجوان نسلوں میں مسلسل بڑھتی جا رہی ہے جس کو کنٹرول کرنے میں ضلعی انتظامیہ بری طرح ناکام ہوچکی ہے ان کی جانب سے مضر صحت گٹکے ماوے پر قابو پانے کے دعوے دہرے کے دہرے رہ گئے ہیں مضر صحت گٹکے ماوے تیار کرنے والے کارخانے سرعام ضلع لسبیلہ کے شہروں دیہی علاقوں گلی محلوں میں سرعام چل رہے ہیں زہریلے مضر صحت گٹکے ماوے کی سپلائی کبینوں ہوٹلوں دکانوں میں دن رات جاری ہے انسانی جانوں کی پروا نا کرتے ہوئے مضر صحت گٹکے ماوے کے کارخانوں کے مالکان نے لاکھوں کروڑوں روپے مالیت کمانے کے چکر میں نوجوان نسلوں کو مضر صحت گٹکے ماوے کی فروخت زوروں سے جاری کی ہوئی ہے جس میں بڑی تعداد نوجوان نسلوں کی شامل ہے سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں مضر صحت گٹکے ماوے کا استعمال عام ہوچکا ہے ضلع لسبیلہ میں اس وقت مضر صحت گٹکے ماوے کے کارخانوں میں 70 فیصد اضافہ ہوچکا ہے منہ حلق زبان پھیپھڑوں پیٹ کے کینسر جیسی 99 فیصد بیماریاں مضر صحت گٹکے اور ماوے کے استعمال سے ہو رہی ہیں گٹکے ماوے کے تمام میٹریل میں مختلف قسم کے کیمیکلز مضر صحت رنگ شامل کیے جاتے ہیں نوجوان نسلوں میں گٹکے ماوے کا استعمال ایک فیشن کے طور پر اختیار کر چکا ہے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ گٹکے اور ماوے کے میٹریل میں خشک چھالیہ جو (C) گریڈ یعنی سب سے ناقص قسم کی ہوتی ہے جس میں چونا، کتھا، تیز خوشبو، کھجور کی گٹھلیوں، جانوروں کے خون، تیزاب مضر صحت تمباکو استعمال کیا جاتا ہے ضلع لسبیلہ میں مضر صحت گٹکے ماوے کی تیاری اور خرید و فروخت مکمل طور پر ایک کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مضر صحت گٹکے ماوے کی تیاری اور خریدوفروخت پر پابندی عائد کر رکھی ہے اس کے باوجود سرعام کاروباری جاری ہے ضلع لسبیلہ موجودہ دور میں مضر صحت گٹکے ماوے کی تیاری اور خریدوفروخت کرنے والوں کے لیے گڑھ بن چکا ہے حب وندر اوتھل بیلہ میں مکروہ کاروبار نے زور پکڑ لیا ہے ماہرین کے مطابق جب سے گٹکے ماوے کا استعمال بڑھا ہے اس وقت سے ہی منہ کے کینسر کے مریضوں کی ایک بڑی تعداد میں اچانک اضافہ ہوا ہے گٹکا ماوا جن چھالیوں سے تیار کیا جاتا ہے اس میں فنگس یعنی پھپھوندی آجاتی ہے جسے عام افراد کی زبان میں کیڑے کہا جاتا ہے لسبیلہ کے عوامی حلقوں نے وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو،سینیئر صوبائی وزیر بلدیات بلوچستان سردار محمد صالح بھوتانی،ایم این اے لسبیلہ گوادر سردار محمد اسلم بھوتانی سابق وزیراعلی بلوچستان میر جام کمال خان عالیانی سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ضلع لسبیلہ سے گٹکے ماوے کے مضر صحت مکروہ کاروبار کو جڑھ سے ختم کرکے مستقبل کے نوجوان نسلوں کو سستی موت سے بچایا جائے۔


