چین کا مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے بااثر بین الاقومی امن کانفرنس کا مطالبہ

اقوام متحدہ (مانیٹرنگ ڈیسک) چین نے مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کے لیے ایک زیادہ بااثر بین الاقوامی امن کانفرنس کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب گینگ شوانگ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو مسئلہ فلسطین سمیت مشرق وسطی کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ”چین ایک وسیع تر، زیادہ بااختیار اور زیادہ بااثر بین الاقوامی امن کانفرنس کا مطالبہ کرتا ہے، جس میں سلامتی کونسل کے مستقل ارکان اور مشرق وسطی کے عمل کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مسئلہ فلسطین کو سیاسی طور پر حل کرنے کے مﺅثر طریقے اور ذرائع تلاش کرنے میں شرکت کی دعوت دی جائے، "۔گینگ نے اس بات پر زور دیا کہ مشرق وسطی کا امن عمل "ابھی بھی تعطل کا شکار ہےاور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر طویل عرصے سے عمل درآمد نہیں کیا گیا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "فلسطین کا سوال مشرق وسطی کے مسئلے کا بنیادی حصہ ہے جس کا تعلق علاقائی امن اور سلامتی سے ہے۔ اسے غیر اہم نہیں کیا جانا چاہیے اور نظر انداز نہیں کرنا چاہیے "۔ گینگ نے زمینی صورت حال کو تبدیل کرنے پر زور دیا اور اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ اسرائیل مقبوضہ علاقوں میں اپنی آباد کاری کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے،اس طرح فلسطینی عوام کے رہنے کی جگہ پرقبضے سے مقبوضہ فلسطینی سرزمین کے تسلسل اور ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے امکانات کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم اسرائیل پر زور دیتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرے، سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 پر عمل درآمد کرے، اور تمام آباد کاری کی سرگرمیاں فوری طور پر بند کرے۔ گینگ نے مشترکہ سلامتی کے حصول کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال کے آغاز سے ہی مقبوضہ علاقوں میں یکے بعد دیگرے پرتشدد واقعات رونما ہو رہے ہیں اور غزہ میں جھڑپوں کا ہونا پریشان کن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں