بھارت کشمیر کے انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہورہا ہے، پاکستان

اسلام آباد (انتخاب نیوز) پاکستان نے بھارت کی جانب سے کشمیر میں انتخابات سے قبل دھاندلی اور خفیہ سازباز کی دانستہ کوششوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔یہ بیان وادی میں چیف الیکٹورل آفیسر ہردیش کمار کی جانب سے اس اعلان کے بعد سامنے آیا کہ عام طور پر رہنے والے غیر مقامی افراد ووٹنگ لسٹ میں اپنا نام درج کروا سکتے ہیں۔بھارتی نشریاتی ادارے نے ہردیش کمار کے حوالے سے کہا کہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی سمری پر نظرثانی کے بعد کشمیر کو تقریباً 25 لاکھ اضافی ووٹر ملنے کا امکان ہے، جن میں باہر کے لوگ بھی شامل ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ان کے ریمارکس پر کشمیر کی مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے ناراض ردعمل کا اظہار کیا جس پر ایک بیان میں دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے کہا کہ علاقے میں عارضی رہائشوں کو بطور ووٹرز رجسٹر کرنے کی اجازت دینے کا حالیہ اعلان بھارت کے دھوکا دہی پر مبنی منصوبے کا واضح اظہار ہے جس کے ذریعے وہ کشمیر کے نام نہاد انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ دفتر خارجہ نے بھارت کے ان اقدامات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے جس کا مقصد کشمیر میں مسلمان اکثریت کو اقلیت میں بدلنا ہے۔ترجمان نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کے بعد غیر قانونی اور یکطرفہ مذموم اقدامات کے باوجود بھارت کشمیری عوام کی قوتِ ارادی کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہو گا اور نہ ہی اقوام عالم کو گمراہ کر سکے گا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کو کشمیر میں ایسے تمام اقدامات سے باز رہنا چاہیے جو بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھارت پر یہ بھی زور دیا کہ وہ تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے جنہیں جھوٹے الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا، وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکا جائے، وحشیانہ فوجی محاصرہ ختم کیا جائے اور کشمیریوں کو ان کے حق خودارادیت کا استعمال کرنے دیا جائے جیسا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قرار دادوں میں بیان کیا گیا ہے۔دفتر خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ کشمیر میں ‘غیر قانونی آبادیاتی تبدیلیوں کو متاثر کرنے’ کی صریح کوششوں کا فوری نوٹس لے اور بھارت کو جوابدہ ٹھہرائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں