آرمی چیف کی تعیناتی سیاسی بحث کا حصہ نہیں،خواجہ آصف
اسلام آباد(انتخاب نیوز)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی سیاسی بحث کا حصہ نہیں، کسی بھی ملک کیلئے قومی سلامتی سب سے اہم ہوتی ہے،قومی سلامتی کا براہ راست تعلق معیشت سے ہوتا ہے۔ملک میں امن و امان میں استحکام آئے گا تو معیشت بہتر ہو گی،ملک کے معاشی حالات خراب ہوں تو نیشنل سکیورٹی بہتر نہیں ہو سکتی۔ خواجہ آصف نے گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف تعیناتی آئینی فرض ہے اسکو آئین کے مطابق پورا ہونا چاہیے۔اگر آج عمران خان ہوتا تو کیا کسی سے مشاورت کرتا ۔عمران خان خود کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کا نام فلا ں نے دیا تھا اس وقت جو مشاورت ہوتی تھی تو مشورہ ان سے لے لیتے تھے۔عمران خان کا مسئلہ نہ معاشی نہ ملکی سکیورٹی ہے۔عمران خان کا مسئلہ صرف اقتدار میں دوبارہ آنا ہے ۔پاکستانی ریاست عمران خان نہیں آئین و قانون کے تابع ہے۔ آرمی چیف کی تعیناتی سیاسی بحث کا حصہ نہیں،آئین تمام اداروں کو اپنے دائرے میں کام کرنے کا کہتا ہے۔ انہوں نے کہا پنجاب میں دفتروں میں بیٹھ کر گوگی سمیت سارے کیسوں کا مک مکا کر لیا۔ شہباز شریف بطور وزیر اعظم عدالتوں میں پیش ہورہا ہے نواز شریف پیش ہوتا رہا ہے ،یہ ایسی کوئی مثال پیش کریں ۔اس نے اپنے صوبے میں احتساب کمیشن بند کر دیا۔آج عدالتیں ہمیں ریلیف دے رہی ہیں تو انکو تکلیف ہو رہی ہے۔پاکستان کسی کی خو ا ہش کے تابع نہیں پاکستان 22 کروڑ لوگوں کا ملک ہے۔وزیر دفاع نے کہا حکومت موجودہ صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے،خطے کی صورتحال 2010 اور2011 جیسی ہوگئی ہے۔سوشل میڈیا کا غلط استعمال اور فیک نیوز اس وقت سب کا مسئلہ ہے۔نیشنل سکیورٹی میں میڈیا سب سے اہم عنصر ہے، میڈیا ایک حقیقت ہے لیکن انحصار اس پر ہے کہ استعمال کیسے کیا جا سکتا ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ موجودہ حالات میں میڈیا کو مثبت کردار ادار کرنا چاہیے،آج کے دور کی کوئی جنگ میڈیا کے بغیر نہیں لڑی جا سکتی۔ انہوںنے کہا سعودی عرب پرنس محمد بن سلمان کی قیادت میں بہت بنیادی تبدیلیوں سے گزرا ہے، سعودیہ نے روایتی یا بنیادی گورننس سے نئے جدید تقاضوں کی طرف پیراڈیم شفٹ کی ہے، یہ تبدیلی اور میڈیا ساتھ ساتھ آگے بڑہے ہیں،آج دنیا تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، روایتی میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا اور اب سوشل میڈیا اہمیت اختیار کرگئے ہیں،معاشرے میں تیز معاشی تبدیلی آئی ہے، ۔پاکستان میں گزشتہ دہائی میں جو ہوا، میڈیا بہت زیادہ ترقی کرگیا ۔سیاستدان میڈیا خاص طور پر سوشل میڈیا کا استعمال اور ساتھ ساتھ غلط استعمال کررہے ہیں،۔سوشل میڈیا سیاست، معیشت جنگ اسٹیبلشمنٹ سب میں کردار ادا کررہا۔موجودہ چیلنجز سے نمٹنے میں میڈیا کا کردار اہم ہے۔دنیا بھر میں سیاستدانوں کا میڈیا پر انحصار اور کوئی بھی کام یڈیا کے بغیر نامکمل ہے،میڈیا اسٹریٹیجیز کی بہت زیادہ اہمیت ہوگئی ہے وزیر دفاع نے کہا ہمارے خطے میں دہشت گردی کا مسئلہ اب کئی دہائیوں سے ہے، انتہائ پسندوں نے بھی میڈیا کا بہت استعمال کیا، یہ سب آپ پر منحصر ہے کہ آپ میڈیا کیسے استعمال کرتے ہیں ایک سوال پر وزیر دفاع نے کہا سیکیورٹی فورسز بلوچستان میں صورتحال پر نظر رکھی ہوئے ہیں۔پاکستان اور کالعد م تنظیم کے درمیا ن مذاکرات سے کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ انہوں نے بتایا کہ ہرنائی میں کس کو اغوا کیا گیا اور کس سے رہائی کا مطالبہ ہوا میرے علم میں نہیں،سوات کی صورتحال بنیادی طور پر وہاں کی حکومت کی ناکامی ہے۔ سوات میں کسی فوجی آپریشن کے آغاز کے بارے میں کچھ نہیں کہ سکتا،ابھی ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا تاہم کے پی کے میں سوات اور شمالی علاقہ جات میں دوہزار نو دوہزار دس کے حالات واپس پیدا ہورہے ہیں، اس کو کنٹرول کرنے کے لئے اقدامات کیے جارہے ہیں، وزیردفاع نے کہا عوام خود اب اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ساری صورتحال پر دہشت گردی اور انتہا ہسندی کے خلاف عوام کا سڑکوں پر نکل آنا بہت حوصلہ افزا ہے۔


