ن لیگی رہنما تسنیم حیدر کو ارشد شریف قتل کیس میں تفتیش کیلئے طلب کرلیا گیا

اسلام آباد (انتخاب نیوز) وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے صحافی ارشد شریف کے قتل کے حوالے سے اہم معلومات اور ثبوت کا دعویٰ کرنے والے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مبینہ رہنما تسنیم حیدر کو طلب کرلیا۔ ایف آئی اے کی دو رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن میں تسنیم حیدر کو صحافی ارشد شریف کے قتل کے حوالے سے تفتیش میں شامل ہونے کے لیے طلب کیا ہے۔ ایف آئی اے کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے مبینہ رہنما کو 29 نومبر کو طلب کیا گیا ہے۔ نوٹی فکیشن میں لکھا گیا ہے کہ ’آپ (تسنیم حیدر) نے میڈیا پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ارشد شریف کے قتل سے متعلق آپ کے پاس اہم معلومات اور ثبوت ہیں، لہٰذا آپ کو 29 نومبر کو فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی گزارش کی جاتی ہے۔‘ خیال رہے کہ21 نومبر کو تسنیم حیدر نے صحافی ارشد شریف کے قتل سے متعلق لندن میں پریس کانفرنس کی تھی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ صحافی کے قتل سے متعلق ان کے پاس اہم معلومات اور ثبوت موجود ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش گرتی تسنیم حیدر کی پریس کانفرنس کے ویڈیو کلپس کو تحریک انصاف کے متعدد رہنماؤں کی جانب سے شیئر کیا گیا تھا۔ پریس کانفرنس میں تسنیم حیدر نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ لندن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ترجمان ہیں، انہوں نے الزام عائد کیا کہ (ن) لیگ کے قائد نواز شریف سینئر صحافی ارشد شریف کے قتل اور سابق وزیراعظم عمران خان پر قاتلانہ حملے کی سازش کا حصہ تھے۔ بعدازاں، وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے وضاحت کی کہ تسنیم حیدر نامی شخص پاکستان مسلم لیگ (ن) لندن کا ترجمان نہیں ہے اور اس کی جانب سے لگائے جانے والے سنگین الزامات کو مسترد کر دیا۔ الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا تھا کہ تسنیم حیدر نامی شخص پاکستان مسلم لیگ (ن) لندن کا ترجمان نہیں، اور اس کا ان کی جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔ مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ تسنیم حیدر کے پاس ثبوت ہیں تو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے قانونی فورم پر پیش کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں