‎مشترکہ مسائل پر طلبا تنظیموں کی غیر سنجیدگی نہایت ہی تشویشناک ہے,

‎بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں بلوچستان کے متحرک طلبہ تنظیموں کی طلبہ کے مشترکہ مسائل پر غیرسنجیدگی کو باعث تشویش قرار دیتےہوئے کہا کہ عالمی وباء کے پیش نظر جہاں بلوچستان کے طالبعلم آئے روز نت نئے مسائل کا شکار ہو رہے ہیں تو دوسری جانب طلبہ تنظیموں کی جانب سے تسلسل کیساتھ غیر سنجیدہ رویہ اختیار کرنا باعثِ تشویش ہے۔

‎ترجمان نے کہا کہ گزشتہ سال بلوچستان بھر میں طلبہ کو درپیش مسائل کو مدنظر رکھ اکثریت طلبہ تنظیموں نے طلبہ کے مسائل پر مشترکہ جدوجہد کی حامی بھری تھی اور انہی کوششوں کےسبب طلبہ ایجوکیشنل الائنس کاقیام عمل میں لایا گیا۔ طلبہ ایجوکیشنل الائنس کی جانب سے بلوچستان کے جامعات میں طالبعلموں کو درپیش مسائل اور تعلیمی اداروں میں ہونے والے گھناؤنے واقعات کیخلاف آواز اٹھائی گئی۔ الائنس کی جانب سے ہونے والے اجلاسوں میں اعادہ کیا گیا کہ تمام طلبہ تنظیمیں نظریاتی اختلافات کو پس پشت ڈال کر طلبہ کو درپیش مسائل پر مشترکہ جدوجہد کریں گے۔

لیکن گزشتہ چند ماہ سے ہم ایجوکیشنل الائنس کی کارکردگیوں کاانتہائی باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور ہم یہ شدت سے محسوس کررہے تھے کہ ایجوکیشن الائنس کا قیام جس مقصد کے لیے عمل میں لایا گیا تھا اُس مقصد سے انحراف کیا جارہا ہے۔ ہمارے تنظیمی فورم پر الائنس کی کارکردگی کو متعدد مرتبہ زیر بحث لایا گیا اور ان چیزوں کی نشاندہی کی گئی تھی اور انہی مسائل کو ہم الائنس میں شامل دیگر تنظیموں کے سامنے بھی زیر بحث لا چکے ہیں لیکن کوئی خاطر خواہ تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی اور ہم مسلسل صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے رہے لیکن گزشتہ روز ہمارے لیے یہ خبر باعث حیرت رہی کہ الائنس میں شامل ہمارے اتحادی تنظیموں نے بغیر کسی مکالمے یا گفت و شنید کہ ایک نئے الائنس کا اعلان کیا۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی نہایت حوصلہ افزاء امر ہوتے ہیں جس کے سبب جدوجہد میں جدت پیدا ہوتی ہے لیکن سیاسی اتحاد کسی پسند و ناپسند یا خواہشوں کے بنیادوں پر نہیں بنتے ہیں بلکہ سیاسی اصول و معروضی حقائق کے بنیاد پر بنتے ہیں۔

‎ترجمان نے کہا کہ اس وقت پورے ملک بلخصوص بلوچستان کے طلبہ شدید مشکلات کا شکار ہے۔ ایک جانب عالمی وباء کے سبب طلبہ کے تمام تر علمی و سیاسی سرگرمیاں جامد ہوگئے ہیں۔ تعلیمی کیرئیر کو لیکر طلبہ کے درمیان شدید بے چینی پائی جاتی ہے وہی ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے آئن لائن کلاسز کا اعلان کرکے بنیادی سہولیات سے محروم طلبہ کے پریشانیوں میں دوگنا اضافہ کردیا۔ جبکہ اسی صورتحال میں بلوچستان بھر میں طلبہ کی جبری گمشدگیوں کے واقعات بھی رونما ہورئے ہیں جو بلوچستان کے طلبہ کے لیے نہایت ہی تشویشناک صورتحال ہے۔ اِس ضمن میں ضرورت اِس امر کی تھی کہ تمام طلبا تنظیمیں مشترکہ پلیٹ فارم کے تحت مسائل کے حل کیلیے مشترکہ پالیسی ترتیب دے کر عملی اقدامات کرتےلیکن بجائے طلبہ کے درپیش مسائل پر مشترکہ جدوجہد کے چند تنظیموں نے مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو کر الگ الگ ہوکر منتشر آواز اُٹھانے میں عافیت سمجھی جو طلبہ کے مسائل کو حل کرنے میں کسی بھی صورت میں سودمند ثابت نہیں ہوگی۔

‎ترجمان نے مزید کہا کہ بی ایس اے سی طلبہ تنظیموں کا مختلف دھڑوں میں تقسیم اور اس تقسیم کو اتحاد کا نام دیکر طلبہ مسائل کو حل کرنے کے لیے کسی بھی صورت سود مند نہیں سمجھتی ہے۔ موجودہ وقت میں بلوچستان کے طلبہ کو جہاں سب سے زیادہ اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ مشترکہ جدوجہد کی ضرورت تھی لیکن شائد طلبہ تنظیمیں یہ فیصلہ کر چکی ہیں کہ اسی طرح اتحاد کے نام پر مختلف دھڑوں میں تقسیم ہوکر منتشر جدوجہد کی جائے گی لہذا آج ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی طلبہ کو تقسیم در تقسیم کرنے کی کسی بھی عمل کا حصہ نہیں بنیں گی اور تمام الائنسز سے کنارہ کشی اور لاتعلقی کا اعلان کرتی ہے۔

‎اپنے بیان کے آخر میں ترجمان نے مزید کہا کہ اِس بیان کے توسط سے ہم تمام طلبہ تنظیموں سے درخواست کرتے ہیں کہ مشترکہ مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی اختیار کیا جائے اوردھڑوں میں تقسیم ہونے کے بجائے منظم پلیٹ فارم تشکیل دی جائے جو بلوچستان کے طالبعلموں کی ترجمان ہو۔ ایک ایسے موقع پر جہاں آئے روز طالبعلم لاپتہ کیے جارہے ہوں، تعلیمی اداروں میں تربیتی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہو، جامعات میں خوف اور گھٹن کی فضا قائم ہو اور عالمی وبا کے دوران بلوچستان کے سینکڑوں طالبعلموں کے تعلیمی تسلسل میں خلل پیدا ہونے کا خدشہ ہو توتمام طلبہ تنظیموں کے لیے مذکورہ مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی اختیار کرنا ضروری امر بن جاتا ہے جس کا واحد حل تنظیموں کے باہمی کوششوں سے مختلف نظریات رکھنے کے باوجود طلبہ کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے کچھ نکات پر مشترکہ جدوجہد کی سنجیدگی کے ساتھ ضرورت ہے ۔
اگر طلبہ کے مفادات کے لئے تمام قوتیں تقسیم در تقسیم کے عمل کو روک کر کچھ نکات پر مشترکہ جدوجہد کے لئے تیار ہے تو ہم تہہ دل سے خوش آمدید کہتے ہیں اور مشترکہ مفادات کے حصول کے لئے اپنی تمام تر توانائی کو صرف کرنے کے لئے تیار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں