پاکستان نے شدت پسندی کو شکست دی، تخریب کاروں کا کوئی مذہب یا نظریاتی حد نہیں ہوتی، آرمی چیف

کراچی (آن لائن) آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ تخریب کاروں کاکوئی مذہب یانظریہ نہیں ،گمراہ کن تصورکولالچ اوردباو¿سے سے مسلط کیاجارہاہے، انسداد تخریب کاری کیلئے اعتماداورفریقین کی مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے ،پاکستانیوں نے تخریب کاری اورانتہاپسندی کوشکست دی ہے۔ خوشحال مستقبل کےلئے ہم متحد ہو کر اس لعنت سے نجات حاصل کرینگے ۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر ہفتے کے روز کراچی پہنچے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور آرمی چیف کو کور ہیڈ کوارٹرز میں کراچی پولیس آفس حملے کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ اس کے بعد انہوں نے کراچی پولیس آفس کا دورہ کیا جہاں گزشتہ رات پاک آرمی اسپیشل سروس گروپ ( ایس ایس جی )، پاکستان رینجرز سندھ اور سندھ پولیس پر مشتمل انسداد تخریب کاری کے کامیاب آپریشن نے تمام حملہ آوروں کو ہلاک کرتے ہوئے اس جگہ کو کلیئر کیا۔ بعدازاں میں آرمی چیف اور مراد علی شاہ نے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کا بھی دورہ کیا اور پولیس اور پاکستان رینجرز سندھ کے زخمی جوانوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے ڈیوٹی کے دوران فوج، پولیس اور پاکستان رینجرز (سندھ) کی بہادری، حوصلے اور قربانیوں کو سراہا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ تخریب کاری کیخلاف پوری قوم کا پختہ عزم ہے۔ اس موقع پر آرمی چیف کا کہناتھا تخریب کاروں کا کوئی مذہب یا نظریاتی حد نہیں ہے، بلکہ صرف گمراہ کن تصور کو زبردستی یا لالچ کے ذریعے مسلط کیا جاتا ہے۔ عوام کو درپیش سیاسی اور دیگر خلفشار کے برعکس، سیکورٹی فورسز کی توجہ پورے ملک میں صرف اور صرف انسد اد تخریب کاری اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز پر مرکوز ہے جوواضح کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ "کوئی بھی قوم صرف حرکیاتی اقدامات سے اس طرح کے چیلنجز پر قابو نہیں پا سکتی۔ اس کےلئے باہمی اعتماد، عوام کی مرضی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ پاکستانیوں نے ہمیشہ ہر قسم کی تخریب کاری اور انتہا پسندی کو مسترد اور شکست دی ہے۔ ہم ایک ساتھ مل کر مشترکہ خوشحال مستقبل کے لیے اس خطرے پر غالب آئیں گے۔ قبل ازیں آمد پر کور کمانڈر کراچی نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں