ڈنک واقعہ میں ملوث ملزمان کا تعلق بی اے پی سے نہیں، لالہ رشید دشتی

تربت: بلوچستان عوامی پارٹی کے رکن اسمبلی لالہ رشیددشتی نے کہاہے کہ ڈنک کے افسوسناک واقعہ پر چند عناصر اپنی سیاسی دوکانداری چمکانے کی خاطر بی اے پی اور اس کی حکومت پر الزام تراشی پراترآئے ہیں، ملوث ملزمان جنہیں گرفتار کیاجاچکاہے ان میں کسی کاتعلق بی اے پی سے نہیں ہے بلکہ ایک گرفتار ملزم جوپنجگور کاہے وہ،اس کے والد اورچچا اس پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں جو واقعہ کوغلط رخ اورغلط رنگ دینے کیلئے آل پارٹیزکے نام پرپریس کانفرنس کرچکے ہیں جبکہ دوسرے گرفتار ملزم جو آبسرکا ہے وہ کس پارٹی کاہے سب جانتے ہیں، البتہ متاثرہ گھر جہاں ڈکیتی کی واردات میں خاتون کو شہید اوربچی کوزخمی کیاگیا اس متاثرہ خاندان جاسم کا تعلق بی اے پی سے ہے وہ ہمارے ایک سنجیدہ اور ذمہ دار ورکر ہیں ان خیالات کااظہار انہوں نے ہفتہ کی صبح اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، ایم پی اے لالہ رشیددشتی نے کہاکہ کچھ لوگوں کو 5دن کے بعد یہ واقعہ یاد آگیا اب وہ مگرمچھ کے آنسوبہارہے ہیں مگر مجھے بحیثیت حلقہ کے ایم پی اے صبح5بجے واقعہ کی اطلاع ملی تو میں نے متعلقہ افسران اور اداروں سے فوری رابطہ کرکے 2گھنٹے کے اندر اندرملزمان کی گرفتاری کویقینی بنایا، اور صبح 7بجے میں نے متاثرہ خاندان کو ملزمان کی گرفتاری کی اطلاع بھی دی اورخودمتاثرہ گھرگیا،جنازہ وتدفین سے تعزیت وپرسہ تک متاثرین کے ساتھ رہا اور آخرلمحہ تک متاثرہ خاندان کے ساتھ رہوں گا انہوں نے کہاکہ آج تک کوئی ایم پی اے اس طرح اپنے لوگوں کے ساتھ ملزمان کی گرفتاری کیلئے تمام تر پراسس میں آن بورڈ اور ساتھ نہیں رہاہے، وہ لوگ جو5دن بعد متاثرہ خاندان کے سب سے بڑے غمخوار وہمدرد کی حیثیت سے خودکو پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں کسی نے جنازہ میں شرکت گوارا نہیں کیا، انہوں نے کہاکہ جنہیں آج چادروچاردیواری کی یاد ستارہی ہے یہ اس وقت کہاں تھے کہ جب دہشت گردعناصر گھروں میں گھس کرخواتین کو قتل کرتے رہے، کیا دشت کی جوانیں ملک بلوچ کی بیٹی اورماں نہیں تھی، کیا شکرو دشت کی ماہل بلوچ عورت نہیں تھی جسے بے دردی اورسفاکانہ طریقہ سے قتل کیاگیا، کیا معصوم زرگل ہماری بہن نہیں تھی، تربت سنگانی سرکی سابق کونسلرفہمیدہ بھی توبلوچ عورت تھی، یہاں سیاست بھی کرتی رہی مگر ان میں سے کسی کیلئے بھی نہ کوئی پریس کانفرنس ہوئی، نہ کسی کو چادروچاردیواری کے تقدس کاخیال آیا، نہ بلوچ قوم پرستی کے غموں میں پریشان کوئی ہمدرد نظر آیا، یہ سب واقعات انہی پارٹیوں کے دورحکومت میں پیش آئے ہیں، مگر بی اے پی ان واقعات کوبھی چادر وچاردیواری کے تقدس کی پامالی سمجھتی ہے اور ڈنک سانحہ کوبھی روایت اور اقدارکے منافی عمل سمجھتی ہے، سابقہ کسی واقعہ کا کوئی ملزم قانون کی گرفت میں نہ آسکا مگرہم نے ڈنک سانحہ کے ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے حوالے کردیاہے اورانشاء اللہ متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کیلئے کوشاں رہیں گے، انہوں نے کہاکہ اس طرح کی سیاسی شعبدہ بازی اب کارگر نہیں ہوں گی، ایک پرانی تصویر کوجواز بناکر کڑیاں ملاکر بی اے پی کے خلاف منفی پروپیگنڈے کامیاب نہیں ہوں گے، یہ حالات انہی پارٹیوں کے پیداکردہ ہیں ملزمان بھی انہیں پارٹیوں سے تعلق رکھتے ہیں،انہوں نے کہاکہ بی اے پی کی حکومت کاعزم ہے کہ اس شہر، ضلع اور صوبہ کو امن کاگہوارہ بناکر دم لے گی، جہاں عوام پر ظلم ہوگا وہاں عوام ہمیں میدان میں پائیں گے، ڈکیتوں کوبتادینا چاہتے ہیں کہ جہاں واردات ہوگی تو لیویز اورپولیس کی گاڑی کے ساتھ میری گاڑی بھی آپ کے تعاقب میں آئے گی، انہوں نے کہاکہ آل پارٹیزکے نام پر اپنی مردہ سیاست کو دوبارہ زندہ کرنے کے خواہش مند پارٹیاں یہ اعلان کریں کہ ان کی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی وکیل ملزمان کے کیس کی پیروی نہیں کرے گا، ہم یہ یقین دلاتے ہیں کہ بی اے پی کا کوئی ہمدرد وحمایتی وکیل اس کیس کی پیروی نہیں کرے گا، ایم پی اے لالہ رشیددشتی نے کہاکہ اس سانحہ میں ملزمان کی گرفتاری اورملزمان تک پہنچنے میں ڈی سی کیچ، ایس پی کیچ اورقانون نافذکرنے والے اداروں کا بھرپورتعاون ہمارے ساتھ رہا جس پر ان کے شکرگزارہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں