بلوچستان، کورونا کے ساتھ ساتھ ٹائیفائیڈ کی بیماری کے پھیلائو میں بھی اضافہ

کوئٹہ: بلوچستان کے کئی شہروں میں کورونا کے ساتھ ساتھ ٹائیفائیڈ کی بیماری کے پھیلائو میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور ڈاکٹرز کے مطابق بچے بھی بڑی تعداد میں اس بیماری کا شکار ہو رہے ہیںکوئٹہ کے دو بڑے سرکاری ہسپتالوں سول ہسپتال اور بولان میڈیکل کمپلیکس میں فرائض انجام دینے ولے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں کوئٹہ، پشین، چمن، مستونگ، بولان، سبی، نصیرآباد ،تربت اور دیگر علاقوں میں ملٹی ڈرگ ریزیسٹنٹ یعنی ادویات کے خلاف مزاحمت کرنے والے ٹائیفائیڈ کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے سول ہسپتال کوئٹہ کے شعبہ میڈیسن کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر خالد شاہ نے کہا ہے کہ ٹائیفائیڈ کی یہ قسم خطرناک شکل اختیار کر گئی ہے اور اب بیشتر ادویات اس بیماری کے خلاف مدافعت پیدا کرنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہیں’ٹائیفائیڈ کی یہ جدید شکل اب پھیل رہی ہے اور صرف سول ہسپتال کوئٹہ میں قائم ایک وارڈ میں دو ماہ کے دوران تقریبا 60 سے 70 ایسے مریضوں کو لایا گیا ہے جن میں ملٹی ڈرگ ریزیسٹنٹ یا ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ کی تشخیص ہوئی سول ہسپتال کوئٹہ کے شعبہ اطفال کے ڈاکٹر امین اللہ خلجی نے بتایا کہ حالیہ مہینوں میں ان کے پاس ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ سے متاثرہ بچوں کی بڑی تعداد آئی ہے ہر ہفتے کم از کم بیس سے پچیس کم عمر مریضوں کو لایا جاتا ہے جن پر بیشتر انٹی بائیوٹکس اثر نہیں کرتیں مجبورا انہیں زیادہ طاقتور اینٹی بائیوٹکس دینا پڑتی ہیں ڈاکٹر خلجی نے بتایا کہ ہسپتال پہنچنے والے بیشتر بیمار بچوں کو بچا لیا جاتا ہے مگر علاج نہ ملنے کی صورت میں یہ بیماری جان لیوا بھی ثابت ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ ٹائیفائیڈ مضر صحت کھانوں، آلودہ پانی، ہاتھ نہ دھونے اور دیگر کء وجوہات کی بنا پر پھیلتا ہے۔ اس کے جراثیم منہ کے ذریعے آنتوں میں چلے جاتے ہیں جس کے بعد یہ آنتوں میں زخم کردیتا ہے۔ اس کی علامات میں پیٹ میں درد، بھوک کا نہ لگنا، بخار، قبض یا اسہال وغیرہ شامل ہیںڈاکٹر خلجی کے مطابق بلوچستان میں یہ بیماری ان علاقوں میں زیادہ پھیل رہی ہے جہاں آلودہ پانی پیا جاتا ہے صوبہ بلوچستان کے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر محمد سلیم ابڑو نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ٹائیفائیڈ پھیلنے کے بعد ماہرین نے تحقیق شروع کردی ہے کہ آیا اس کا تعلق کورونا سے تو نہیں؟انہوں نے کہا کہ ہمیں شکایات مل رہی تھیں کہ صوبے کے بعض علاقوں میں لوگوں کو بخار، جسم میں درد اور ان جیسی دوسری علامات ظاہر ہو رہی ہیں اور مقامی لیبارٹریوں سے کرائے گئے ٹیسٹوں کے ذریعے ان میں ٹائیفائیڈ یا ملیریا کی تشخیص ہو رہی ہے محکمہ صحت نے رواں ہفتے خصوصی ٹیم بولان کے علاقے مچھ اور بالا ناڑی بجھوائی۔ ٹیم نے وہاں کم از کم 500 ایسے افراد کے خون کے نمونے لے کر لیبارٹری بھجوائے جنہیں بخار اور جسم میں درد کی شکایات تھیں۔ ان افراد کے کورونا ٹیسٹ بھی کرائے مگر ان میں کورونا کی تشخیص نہیں ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں