پیٹرول ناپید، آٹا، روٹی اور چینی مہنگی

اداریہ
حکومت نے معمول کے مطابق مہینے کی آخری تاریخ کو اوگرا کی سفارش پر پیٹرول اور ڈیزل وغیرہ کی قیمتوں کمی کا اعلان کیا۔نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12بجے سے شروع ہوجاتا ہے۔مگر اس بار 6دن گزرنے کے باوجودپیٹرول پمپس پر بینرز آویزاں ہیںجن پر لکھا ہے کہ سپلائی میں تعطل کی بناء پرپیٹرول دستیاب نہیں ہے۔یہ صورت حال پورے ملک میں دیکھی جا رہی ہے۔اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ ملک میں اصل حکمرانی حکومت کی نہیں بلکہ مافیاز کی ہے اگر قیمتوں اضافہ ہو تو پیٹرول کی سپلائی وقت سے پہلے روک دی جاتی ہے تاکہ سستا خریدا ہوا پیٹرول مہنگے داموں بیچ کر زیادہ منافع کمایا جائے عوام ہر دو صورتوں میں دکھ اٹھاتے ہیں۔دوسری جانب حکومت مسلسل دعویٰ کر رہی ہے کہ پیٹرول کی کوئی قلت نہیں، ضرورت کے مطابق پمپس کو فراہم کر دیا گیا ہے۔لیکن شہری پیٹرول کی تلاش میں جگہ جگہ مارے مارے پھر رہے ہیں ہر پمپ پر بینر لٹکے ہیں اور پمپ بند ہیں۔ایک آدھ دن کی بات ہوتی تو یہ بہانہ مان لیا جاتا کہ سپلائی میں تاخیر ہوگئی ہوگی اور پمپس پر واقعتاً پیٹرول موجود نہیں لیکن 6دن گزرچکے ہیں اصلاح احوال کے لئے مناسب اقدامات نظر نہیں آتے ۔ انتظامیہ اس صورت حال سے مکمل لاتعلقی اختیار کئے ہوئے ہے۔ سوال یہ ہے کہ حکومت خاموش تماشائی کیوںبنی ہوئی ہے؟اپنی رٹ قائم کرنے سے کیوں ہچکچا رہی ہے؟عوام کو کس جرم کی سزا دی جارہی ہے؟ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کمال ہنر مندی سے نہ صرف سیکھ لیا ہے بلکہ معاونین اور مشیروں کا جم غفیر 24گھنٹے ساتوں دن اس پر نگاہیں جمائے بیٹھا ہے پل پل کی خبر سے وزیر اعظم عمران خان کو آگاہ کیا جاتا ہے وہ خود بھی حالات سے باخبر ہیں۔عملاً شہری پیٹرول پمپس پر لمبی قطاریں لگائے غم و غصے کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔
واضح رہے صرف پیٹرول کے معاملے میں بدنظمی نہیں دیکھی جا رہی دوسرے شعبوں میں بھی بدستور جاری ہے۔ گندم کی نئی فصل مارکیٹ میں آجانے کے باوجود مل مالکان کا کہنا ہے کہ مہنگی گندم خرید کر سستا آٹا فراہم نہیں کر سکتے یہ کہہ کر انہوں نے آٹا ایک بار پھر مہنگا کر دیا۔نانبائیوں نے بھی 10 جون سے روٹی 10روپے اور نان 15روپے کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔انڈہ، دودھ اور دیگر اشیاء کے دام بھی تیزی سے اوپر جانا شروع ہو گئے ہیں۔چینی کی قیمت بھی کسی ایک جگہ نہیں ٹھہری ۔ بعض علاقوں میں 95روپے فروخت کی جارہی ہے لوگ میڈیا کے روبرو شکایت کر رہے ہیںکہیں ان کی شنوائی نہیں ہو رہی۔حکمران اپنے حال میں مست ہیں کسی کو خیال نہیں کہ عوام پر مہنگائی کا بوجھ ہر دوسرے روز بلا وجہ بڑھا دیا جاتا ہے۔کم آمدنی والے اور دیہاڑی دار مزدور سخت پریشان ہیں ۔ ان کے لئے بچوں کا پیٹ پالنا دن بدن دشوار تر ہوتا جا رہا ہے۔پہلے مہنگائی بڑھنے کا سبب پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ قرار دیا جاتا مگر اب تو قیمتیں ماضی کے مقابلے میں بہت کم ہو چکی ہیں۔مگرپیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچ رہا۔تاجر برادری کے پاس ہو سکتا ہے کہ کوئی دلیل موجود ہو لیکن یہ وقت مختلف ہے آج ملک کو ایک جانب کورونا نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور دوسری جانب مافیاز اپنی عادت سے باز نہیں آرہے۔انکوائری رپورٹ آنے کے بعد چینی کی قیمتوں میں اضافہ توجہ طلب ہے صاف ظاہر ہے یہ اضافہ حکومت کا منہ چڑانے کے مترادف ہے۔چینی اسکینڈل رپورٹ کے مرکزی کردار وں نے لندن جانا شروع کر دیا ہے۔جہانگیر ترین اور ان کا بیٹا جا چکے ہیں بہانہ وہی پرانا ہے کہ علاج کے لئے جانا ضروری ہوگیا تھا۔ شریف فیملی پہلے ہی لندن میں مقیم ہے ۔ قانون کے ہاتھ لمبے ہونے کے باوجود لندن پہنچنے سے قاصر ہیں۔پاکستان کی عدالتوں میں طویل عرصے تک فرد جرم عائد نہیں ہو سکتی بہانوں کی کمی نہیں۔ منشیات کا ملزم عدالت میں غیر حاضری کی وجہ بتاتا ہے کہ اسمبلی کا اجلاس جاری ہے جو پورا مہینہ چلے گا اور عدالت عذر مان لیتی ہے۔
خرابی پرانی ہے اس کی جڑیں معاشرے میں بہت گہرائی اور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔انہیں اکھاڑنا آسان نہیں مگر انہیں مزید برداشت کرنا بھی ممکن نہیں رہا۔حکومت نے نیب کو ٹارزن بنانے میں دیر کردی ہے۔گربہ کشتن روزِ اول والی بات درست ہے۔جس نے روز اول بلی کو گولی ماردی وہی فائدے میں رہتا ہے جس نے دیر کی وہ دیر کرنے کی قیمت ادا کرتا ہے۔مافیاز نے آٹے ، چینی، اور روٹی کے دام بڑھا کر گیند حکومت کے کورٹ میں پھینک دی ہے۔حکومت کو سمجھنا چاہیئے کہ رپورٹ کی اشاعت بڑی بات سہی لیکن یہی سب کچھ نہیں اصل کام اس کے بعد شروع ہوتا ہے اور لوٹ مار کی ریکوری تک جاتا ہے۔نشان زدہ افراد اس دوران ایک ایک کرکے بیرون ملک چلے جائیں گے تو سزا کسے دی جائے گی؟ریکوری کس سے کی جائے گی؟نشان عبرت کون بنے گا؟پاکستان کا قانون اصلاح طلب ہے موجودہ حالت میں بڑے پیمانے پر لوٹ مار کرنے والوں کو اس سے تھوڑا بہت خطرہ ہو سکتا ہے لیکن کسی لمحے کوئی بھی معجزہ سامنے آسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ چینی اسکینڈل رپورٹ منظر عام پر آنے کے باوجود اکثریت یہی سمجھتی ہے کہ سزا کا مرحلہ نہیں آئے گا۔جہانگیرترین کی لندن روانگی اسی خیال کو تقویت فراہم کرتی ہے۔رپورٹ منظرعام پر لاکر حکومت نے خود کو امتحان میں ڈال دیا ہے۔غیر یقینی صورت حال میں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ آنے والے کل کیسا منظر دیکھنے کو ملے گا؟مافیاز گھٹنے ٹیکیں گے؟ یا حکومت مزید ایک یو ٹرن لے گی؟

اپنا تبصرہ بھیجیں