خضدارکے قبائل کی اراضیات پر حق ملکیت تسلیم کیا جائے،گرینڈ جرگہ

خضدار: خضدار میں قبائل کی اراضیات کے متعلق سیاسی و قبائلی عمایدین کا مشترکہ جرگہ،جرگہ میں مولانا قمر الدین،سردار محمد اسلم بزنجو،سینیٹرمولانا فیض محمد،سردار حیات خان ساجدی،سردار مراد خان شیخ،نیشنل پارٹی،بی این پی (عوامی) جمعیت علماء اسلام،پاکستان مسلم لیگ (ن)جھالاوان عوامی پینل،جماعت اسلامی،پاکستان پیپلز پارٹی،بلوچستان عوامی پارٹی،جمعیت علماء اسلام نظریاتی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے ضلعی و مرکزی عہدیداروں نے شرکت کی،چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا جبکہ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے ٹیلی فون پر جرگہ کے شرکاء سے خطاب کیا آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام منعقدہ اجلاس کی صدارت چیئرمین مولانا عنایت اللہ رودینی کی زیر صدارت منعقد ہوا اجلاس سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب بلوچستان کا پاکستان سے الحاق ہوا تو اس وقت یہ فیصلہ ہوا ہے کہ قبائل کے اراضیات ان کی ملکیت ہونگے اور تاریخ گواہ ہے کہ قبائلی آج سے نہیں صدیوں سے خضدار کے اراضیات کا مالک ہیں خان آف قلات نے خضدار کے اراضیات کو مختلف اقوام جن میں کرد،گزگی،زنگیجو،نقیب اور دیگر شامل ہیں انہیں بخشش دی تھی 1982 ء کی سٹلمنٹ کے دوران سٹلمنٹ میں حصہ نہ لینے والے قبائل کی اراضیات کو سرکار قرار دے کر قبائل سے ان کی حق ملکیت چھین لی گئی مقررین کا کہنا تھا کہ 1986 میں میر نصیر مینگل اور آغا عبدالظاہر نے حکومتی کمیٹی کی حیثیت سے جو سفارشات مرتب ہوئے وہ سفارشات یہاں کے قبائل کے ساتھ انصاف کے لئے کافی تھے مگر افسوس بیوروکریسی کی داو پیج کی وجہ سے ان سفارشات پر آج تک عمل درآمد نہیں کیا جا سکا اس پربھی وہ تمام سفارشات قابل عمل ہے انہی سفارشات کی بنیاد پر یہاں کے قبائل کی اراضیات پر حق ملکیت تسلیم کیا جائے مقررین نے کہا کہ یہ امر باعث افسوس ہے کہ خضدار کے قبائل نے ڈپٹی کمشنر سیکٹریٹ،کمشنر سیکرٹریٹ،سول کالونی کے لئے اپنی اراضیات عطیہ کیا اب عطیہ کرنے والے قبائل کی اراضیات سے انہیں بے دخل کیا جا رہا ہے مقررین نے کہا کہ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ماضی قریب میں خضدار کینٹ کے لئے جب اراضی کی ضرورت ہوئی،سنٹرل جیل خضدار،انجینئرنگ یونیورسٹی،خضدار ایئرپورٹ،ایف سی کیمپ کے لئے جب اراضی کی ضرورت ہوئی تو انہی قبائل سے اراضی خریدی گئی جو ریکارڈ پر موجود ہے،اس کے علاوہ قومی شاہراہ جہاں سے گزرتی ہے اس کے لئے بھی معاوضہ قبائل کو ادا کیا گیا اب قبائلی اراضیات کیسے سرکار کے ہو گئے؟ صرف خضدار نہیں بلکہ پورے بلوچستان میں کوئی بھی اراضی سرکاری نہیں تمام اراضیات قبائل کے ہیں اس لئے ہم ضلعی انتظامیہ سے گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ وہ سرکار اور عوام کو ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑی کرنے کے بجائے حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے غیر ضروری قبضہ کرنے کے عمل کو روک کر خضدار کے پر امن فضا کو خراب کرنے کی کوشش نہ کریں اور اگر سرکاری کو کسی بھی منصوبے کے لیئے راضی کی ضرورت ہے تو اس کا بہتر و مناسب حل یہی ہے کہ جن قبائل کی اراضیات ہیں انہیں معاوضہ دے کر اراضی حاصل کی جائے مقررین نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کئی دہائیوں سے آباد لوگوں کو گھر خالی کرنے کی نوٹس دینے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عام شہریوں نے اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر جبکہ بیوہ خواتین نے اپنی زیورات بیچ کر اپنے لئے اراضیات چھت خریدے ہیں مگر افسوس اب ان سے ان کی چھتیں بھی چھننے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ایسے اقدامات سے ہی نفرتیں جنم لیتی ہیں جو بعد میں بغاوت تک جا پہنچتی ہے جرگہ کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ یہ مسئلہ سنگین نوعیت کا ہے جس میں عام شہری،بیوائیں،یتیم اور غریب سب متاثر ہو رہے ہیں اس کے لئے ضروری ہے کہ بلوچستان سطح پر لائحہ عمل تشکیل دیا جائے اور اس کے لئے ایک کمیٹی بنائی جائے جو وزیر اعلیٰ بلوچستان،چیف سیکرٹری بلوچستان،گورنر بلوچستان سمیت تمام اختیار داروں سے ملاقات کر کے ان اراضیات کے متعلق ہونے والے نا انصافیوں سے آگاہ کریں جرگہ میں چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری کے پیغام پارٹی رہنماء عید محمد ایڈووکیٹ نے پڑھ کر سنایا نواب ثناء اللہ خان زہری نے اپنے پیغام میں کہا کہ خضدار سمیت جھالاوان کے تمام اراضیات قبائل کے ہیں ان اراضیات میں سرکار کا کوئی حصہ نہیں عوام کو ان کی اراضیات سے بے دخل کرنے کا عمل انتہائی افسوسناک اور نا قابل برداشت ہے یہ عمل جہاں اور جس کے بھی طرف سے ہو میں بحیثیت چیف آف جھالاوان اس کی مذمت کرتا ہوں اور اس حوالے سے میں اپنے لوگوں قبائلی عمائدین اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ کھڑا ہوں سیاسی و قبائلی میدان اور اسمبلی میں اس نا انصافی پر ضرور آواز بلند کرونگا جو قبائل کی اراضیات کو سرکاری سمجھتے ہیں یا سرکاری قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں انہیں تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہئے جرگہ سے ممتاز بلوچ قوم پرست رہنماء ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف خضدار بلکہ بلوچستان بھر میں تمام اراضیات تاریخی طور پر قبائل کے ہیں قبائل نے ایک دوسرے پر فروخت کیا ہے اور جب سرکار کو اراضی کی ضرورت ہوئی ہے تو سرکار نے بھی قبائل سے اراضیات خریدی ہے قبائل کے اراضیات کو سرکاری قرار دینا افسوسناک ہے اس کے لئے بلوچستان سطح پرجد و جہد کی ضرورت ہے اس مسئلے میں مجھ سمیت میری پارٹی بھر پور آواز بلند کرے گی اور خضدار کے عوام و آل پارٹیز جو فیصلہ کرے گی ہم ساتھ ہونگے،جھالاوان عوامی پینل ضلع خضدار کے رہنماء سردار مراد خان شیخ نے جھالاوان عوامی پینل کے سربراہ میر شفیق الرحمن مینگل کا پیغام جرگہ کے شرکاء کوبتاتے ہوئے کہا کہ میر شفیق الرحمن مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان کے قبائلی اراضیات یہاں کے قبائل کی ہے اس کے لئے ہمارے قائد میر محمد نصیر مینگل نے 1986 ء میں کافی جدو جہد کی اور اس کے لئے ایک کمیٹی بنائی گئی جس میں میر محمد نصیر مینگل کے علاوہ اس وقت کے ڈپٹی اسپیکر آغا عبدالظاہر وہ دیگر شامل تھے اس کمیٹی نے قبائل کے حق میں فیصلہ دیا اور سفارشیں مرتب کئے اس حوالے سے جھالاوان عوامی پینل خضدار کے عوام و قبائل کا بھر پور ساتھ ہے اور جہاں ہماری ضرورت ہو گی ہم اس مسئلے کے حل کے لئے پیش پیش رہیں گے جرگہ کے اختام پر مشترکہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ خضدار میں اراضیات کے حوالے سے جو مسائل درپیش ہیں اس کے لئے ایک کمیٹی بنائی جائے اتفاق رائے سے چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری کی قیادت میں ایک کمیٹی بنائی گئی جس کے دیگر ممبران میں سردار محمد اسلم بزنجو، مولانا عنایت اللہ رودینی،سینیٹر مولانا فیض محمد سمانی،رکن صوبائی اسمبلی میر یونس عزیز زہری،آغا لعل جان احمد زئی،آغا شکیل احمد درانی،ڈاکٹر محمد مراد مینگل،انجینئر حبیب قادر زہری،میر عبدالرحمن زہری اودیگر شامل ہیں جرگہ میں پاس کئے گئے قرار دادوں میں صوبائی حکومت اور چیف سیکرٹری بلوچستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ عوام کو ان کی اراضیات سے بے دخل کرنے کے عمل کو روکے اور ڈپٹی کمشنر خضدار کو پابند بنائیں کہ وہ اپنا رویہ عوام کے ساتھ دوستانہ رکھیں عوام کو تنگ نہ کریں اگر ایسا ممکن نہیں تو ڈپٹی کمشنر کا خضدار سے تبادلہ کیا جائے جرگہ سے جمعیت علماء اسلام کے مرکزی نائب و سابق ایم این اے امیر مولانا قمر الدین،سابق ایم پی اے سردار محمد اسلم بزنجو،سینیٹر مولانا فیض محمد،،سردارحیا ت خان ساجدی،سابق ایم پی اے وڈیرہ عبدالخالق موسیانی،عید محمد ایڈووکیٹ،مولانامحمدصدیق مینگل انجینئر حبیب قادر زہری،سردار مراد خان شیخ،میر شہزاد غلامانی،مولانا محمد اسلم گزگی،عبدالرحیم خدرانی،ڈاکٹر محمد مراد گزگی،عبدالوہاب غلامانی،عبدالقادر گزگی،صابر حسین قلندرانی،عبدالحمیدمردوئی۔عبدالحمید کھیازئی سمیت دیگر نے خطاب کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں