پاک افغان سرحد کی بندش سے چمن شہرمیں ہزاروں خاندان نا ن شبینہ کے محتاج

چمن (نامہ نگار) پاک افغان سرحد کی بندش سے چمن شہرمیں ہزاروں خاندان نا ن شبینہ کے محتاج ہوگئے ہیں پاک افغان سرحد کی بند ش سے ملکی تجارت بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ گیاہیں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اپنا راستہ بدل کر دوسرے راستے اختیار کررہاہیں پیدل آمدورفت کی بندش سے مسافروں کو شدید مشکلات کاسامناہیں پاک افغان سرحد پر کئی ایسے سانحات رونماء ہوچکے ہیں جو بیان کرنے کے بھی قابل نہیں ہے جس سے انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اگریہی صورتحال رہی تو وہ وقت دور نہیں جب چمن شہراور آس پاس کے علاقوں میں بدامنی کی نا روکنے والی لہر جنم لے گی ڈکیتی کی وارداتیں بڑھ جائے گی اب بھی نوجوان نسل منفی سرگرمیوں کی طرف راغب ہورہی ہے کئی ایسے نوجوان جو پہلے اچھا خاصا تجارت اور کاروبار کررہے تھے اب وہ منشیات کے عادی ہوچکے ہیں اور ڈکیتیوں کے وارداتوں میں ملوث ہورہے ہیں ان خیالات کااظہارچمن کے تجارت سے وابستہ افراد اور چھوٹے تاجروں نے تاجر حاجی در محمد، حاجی نعمت اللہ،حاجی عصمت اللہ،حاجی ولی محمداور دیگرنے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزیدکہاکہ عرصہ گزشتہ تین مہینوں سے زیادہ عرصہ ہوچکاہے پاک افغان سرحد کی بندش کو جس کی وجہ سے چمن کے عوام اور تاجران شدید مالی بحران کا شکار ہوچکے ہیں حکومت اور سیکورٹی اداراے چمن پاک افغان سرحد پر ایس او پیز کی عمل درآمد کرائیں اور اس میں کاروباری سرگرمیاں بحال کرائیں کیونکہ پاک افغان سرحد کو کروناء وائرس کے پھیلاؤکو روکنے کیلئے بند کردیاگیا تھا اور تمام تجارتی سرگرمیاں بند کردی گئی تھی جس کے ساتھ ساتھ پیدل آمدورفت بھی مکمل بند کردیاگیاتھا جس کو اب عرصہ ہوچکاہے انہوں نے مزیدکہاکہ چھوٹے تاجروں کی تجارت پر بندش سے وہ نان شبینہ کے محتاج ہوگئے اور پاک افغان سرحدکی بندش سے جہاں شہری شدید کوفت کا شکار ہیں وہی ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کے چولہے بجھ گئے ہیں جبکہ یہ تاجر وہ مصنوعات لاتے تھے جو پاکستان میں نہیں ہو انہوں نے مزیدکہاکہ ہم حکومت اور مقتدر قوتوں سے بھی اپیل کرتے ہیں وہ ان حالات پر پوری ایکشن لیکر تاجروں کی تجارت کو واپس پرانے روٹین پر بحال کریں تاکہ عوام شکر کا سانس لے سکیں پریس کانفرنس میں اس امر پر بھی افسوس کااظہار کیاکہ پاک افغان سرحد پیدل آمدورفت کیلئے بند رکھاگیاہیں جس سے دونوں جانب ہزاروں مسافر پھنس چکے ہیں ہم دونوں حکومتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ عوام کیلئے پیدل آمدورفت کا راستہ بھی کھول دے تاکہ افغانستان کے عوام اپنے ملک اور پاکستان کے عوام اپنے ملک آجا سکے جبکہ سرحدی علاقہ ہونے کے ناطے دونوں جانب آباد قبائل کو پیدل آمدورفت میں پرانہ طریقہ واپس بحال کیاجائے کیونکہ یہاں پر آباد عوام کیلئے روزگار کاکوئی اور مواقع نہیں ہے اس لئے یہاں کے عوام پاک افغان سرحد پر کچھ کماکر اپنے گھروں کے چولہے جلاتے ہیں اس لئے حکومت اورمقتدر حلقوں سے اپیل ہیں کہ وہ پاک افغان سرحدکو پرانہ روٹین پر واپس بحال کریں اور تجارتی سرگرمیاں ایمپورٹ ایکسپور ٹ کو واپس بحال کریں تاکہ جو کچھ بچا کاروبار کو واپس بحا ل کیاجاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں