عالمی بینک کی عالمی معیشت بارے پیش کوئی

اداریہ
عالمی بینک کے صد ر ڈیوڈ میلپاس نے کہا ہے کہ کورونا وباء عالمی معیشت کے لئے تباہ کن ثابت ہوگی۔اربوں افراد اس کے نتیجے میں اپنے روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔6کروڑ افراد شدید غربت کا شکار ہو جائیں گے۔ صدر عالمی بینک نے”شدید غربت“ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یومیہ آمدنی ایک اعشاریہ دو ڈالر(پاکستانی 200روپے)یومیہ تک ہوجائے گی اور انہیں اسی میں گزارا کرنا ہوگا۔ یاد رہے کہ خط افلاس سے نیچے وہ لوگ شمار کئے جاتے ہیں جن کی آمدنی 2ڈالر (330 روپے)یومیہ سے کم ہے۔جبکہ آنے والے دنوں میں مہنگائی بڑھ جائے گی۔عالمی بینک کے صدر نے پاکستان سمیت دنیا بھر کے عوام کوبین السطور یہ پیغام دیا ہے کہ آنے والی دہائی میں شدید غربت میں رہنے کے لئے ذہنی اور جسمانی طور پر تیار رہیں۔دوسری جانب حکمرانوں کے لئے ایک وارننگ ہے کہ اگر اربوں عوام کی زندگی اجیرن ہو گئی تو حکمرانوں کے لئے حکومت کا نظم و ضبط سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر مشتعل ہو کر لوگ سڑکوں پر نکلتے اور توڑ پھوڑ کے ذریعے اپنے غم و غصہ کا اظہار کرتے نظر آئیں گے۔اس کی تازہ مثال امریکہ میں ایک گورے پولیس افسر کے ہاتھوں سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے بعد پھوٹ پڑنے والے ہنگامے ہیں جو کسی پیشگی تیاری کے بغیرشروع ہوئے اور مسلسل جاری ہیں۔لوگوں میں قوت برداشت ختم ہو گئی ہے۔اگر اس قسم کے ہنگامے تمام ملکوں تک پھیل جائیں تو صورت حال کا اندازہ بآسانی لگایا جاسکتا ہے۔یہ بھی دیکھا جائے کورونا اور دیگر وبائی امراض میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ اس کا مریض دو ہفتوں میں صحت یاب ہوگر گھر چلا جاتا ہے یا قبرستان پہنچ جاتا ہے۔ٹی بی ماضی میں ایک خطرناک بیماری رہی ہے مگر اس کا مریض برسوں زندہ رہتا تھااور زندہ رہتا ہے۔فوری موت واقع نہیں ہوتی اس لئے اس کے ساتھ چلنا تھوڑی بہت احتیاط کے ساتھ نسبتاً آسان تھا۔کورونا جس تیزی سے پھیلتا ہے دیگر وبائی امراض کے پھیلنے کی رفتار بھی اس کے مقابلے میں بہت سست تھی۔ٹیکسٹائل ورکرز کی بڑی تعداد اس سے متأثر ہوتی ہے لیکن معاشرے میں اسے تشویشناک نہیں سمجھا جاتا۔حالانکہ اس کے جراثیم بھی مریض کے سانس اور تھوک کے ذریعے ہی اپنے ملاقاتی تک منتقل ہوتے ہیں۔
عالمی بینک کے صدر کا یہ کہنا کہ اس وباء کے معاشی اثرات ایک دہائی تک رہیں گے زیادہ قابل توجہ ہے۔اس کے معنے یہی ہوسکتے ہیں کہ عالمی سطح پر معاشرتی تبدیلیاں رو نما ہونے کے امکانات ہیں۔ سماجی فاصلے کی پابندی نئے کلچر کوجنم دے رہی ہے۔ بتدریج یہ ایک روایت کا درجہ اختیار کر لے گی۔ آج ہاتھ ملانا دوستانہ جذبات کے اظہارکا مہذب انداز سمجھا جاتا ہے کل ہاتھ نہ ملانا مہذب ہونے کی علامت ہوسکتاہے۔گلے ملنے کی روایت صرف والدین اور ان کے بچوں تک محدود ہوسکتی ہے۔معاشی رویئے تبدیل ہونے کے نتیجے میں رہن سہن کے طور طریقوں میں تبدیلی آئے گی۔ پاکستانی عوام کو بھی بہت سی تبدیلیاں اختیار کرنا ہوں گی۔ویسے تبدیلی کا عمل غیر محسوس انداز میں ہماری زندگی میں شروع ہو چکا ہے۔واٹس ایپ بچوں اور نوجوانوں کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔یہ صرف گپ شپ کا آلہ یا سادہ سی مشین نہیں رہا۔ یہ کاروباری معلومات دوسروں تک منتقل کرنے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔تعلیمی سرگرمیوں میں یہ داخل ہوچکا ہے۔ علم و آگہی کے لئے یہ کارآمد مشین جب ہر خاندان کا حصہ بن جائے اور نوجوان نسل اس کی افادت سے آشناہو جائے تو اثرات مرتب ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔حکمرانوں (بالخصوص اپوزیشن)کو اپنی سوچ تبدیل کرنا ہوگی۔ملک کی پوری آبادی کو متحرک کرنے اور قدرتی وسائل سے بھرپور استفادے کی حکمت عملی نہ وضع کی گئی تو صدر عالمی بینک کے خدشات نہ صرف درست ثابت ہوں گے بلکہ پاکستان ان سے متأثر ہونے والے ملکوں کی فہرست میں نمایاں جگہ پرنظر آسکتا ہے۔
وبائیں دنیا میں اس سے پہلے بھی کئی بار آئیں اور معیشت اور معاشرت کو ہلا کر رکھ دیامگراس وقت ذرائع ابلاغ آج جیسے تیز رفتار نہیں تھے۔آج گھریلو ملازمہ بچی پر تشدد کرنے والے میاں بیوی فرار نہیں ہوتے کہ پولیس گرفتار کر لیتی ہے۔سی سی ٹی وی کیمرے ڈاکوؤں کی آمد ورفت ریکارڈ کرلیتے ہیں۔ماضی میں یہ ایجادات پاکستانی معاشرے کا حصہ نہیں بنی تھیں اس لئے لوگ معاملات سے بے خبر اور لا تعلق دکھائی دیتے تھے۔اب عام آدمی نجی محفلوں میں عالمی منظر پر گفتگو کرتاہے،۔مستقل کے بارے میں فکرمند ہے لیکن بہتری آنے کے لئے پر امید ہے حالانکہ اپوزیشن اور حکومت میں مل بیٹھ کر کوئی متفقہ راستہ تلاش کرنے کے لئے آمادہ دکھائی نہیں دیتیں۔پس پردہ کیا ہو رہا ہے؟اس بارے کچھ کہنا مشکل ہے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری آخری مراحل میں ہے۔دو دن بعد پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔بجٹ کی منظوری کے دوران اوراس کے بعد اپوزیشن کہاں کھڑی ہوگی؟ سامنے آچکا ہوگا۔حکومتی لب و لہجے سے بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ ضرورت سے زیادہ پر اعتماد ہے مگر قومی اسمبلی کے فلور پرخواجہ آصف موجودہ حکمرانوں کو خبردار کر چکے ہیں:”کب چھت سر پر آن گرے کسی کو علم نہیں“۔اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے انہوں نے کہا:”ہم بھی اسی طرح یقین کئے بیٹھے تھے کہ اچانک وہ سب ہوگیا جس کا ہم نے کبھی سوچا بھی نہ تھا“۔یہ بجٹ سیشن مختلف، پیچیدہ اور نازک حالات میں منعقد ہو رہا ہے عوام کی نظریں قومی اسمبلی پر لگی ہیں۔مستقبل کے حوالے سے بجٹ سیشن بہت کچھ سامنے لا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں