اپوزیشن نے عوام کے لیے نہیں اپنے پیٹ کے لیے احتجاج کیا، حکومت ڈرنے والی نہیں، منظور کاکڑ

کوئٹہ:بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری سینیٹر منظور کاکڑ نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے آج عوام کی مفاد کیلئے نہیں اپنے پیٹ کی آگ بجانے کیلئے احتجاج کیا وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے سائے میں جاکر بیٹھ گئے اپوزیشن جتنا بھی شور اور واویلا کریں حکومت ڈرنے والی نہیں ہے کیونکہ یہی جماعتیں ماضی کی حکومتوں میں لوٹ مار میں برابر کے شریک تھے حکومت بلوچستان نے پہلے دن سے یہ تہیہ کررکھا ہے کہ بلوچستان کے غیور عوام کو روزگار،صحت،تعلیم جیسے زیور سے آراستہ کرنا ہے وزیراعلیٰ کی دن رات انتھک محنت اور کوششوں سے وفاقی پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کو زیادہ حصہ ملا ہے جام کمال اتحادی جماعتوں کو ساتھ لیکر صوبے کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پرگامزن کرنے کیلئے کوشاں ہیں ان خیالات کااظہارانہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا احتجاج ڈھونک اور عوام کو بیوقوف بنا نا ہے مگر اپوزیشن جماعتیں یہ نہیں جانتی کہ بلوچستان کے عوام کو مزید قوم پرستی یا مذہب کے نام پر دھوکہ دیا جائے گا عوام با شعور ہوچکی ہے مزید ان کٹھ پتلیوں کے ہاتھوں کھیلنے کیلئے تیار نہیں ہیں سیاسی جماعتیں اگر تنقید بھی کرتے ہیں تو بھی ایک شائستگی اور خوبصورت انداز میں کرتی ہیں مگر جس طرح اپوزیشن جماعتوں کے سینئر رہنماؤں نے وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب احتجاج کیا اور پارٹی کے سربراہ جام کمال کیخلاف جس طرح کے الفاظ ا ستعمال کئے گئے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے کیونکہ جو زبان اپوزیشن نے استعمال کی یہ نہ صوبے کی روایات ہیں اور نہ ہی جمہوریت کا حسن ہم ہماری پارٹی جمہوری لوگوں کی جماعت ہے اور یہاں پر اگر تنقید بھی کسی پر کرتے ہیں تو ایک شائستگی اور خوبصورت انداز میں تنقید کی جاتی ہے اپوزیشن نے جو زبان استعمال کی ہے اس کا جواب دینا تو خوب جانتے ہیں مگر ہمیں ہمارے قائدین نے کبھی بھی اس بات کی تلقین نہیں کی کہ کوئی بھی نا زیبا الفاظ استعمال کی جائیں انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان اسمبلی میں بیٹھی اپوزیشن جماعتوں سے یہ کہتاہوں کے ماضی میں بھی یہی جماعتیں حکومتوں میں اہم وزارتوں پربراجماں رہ چکی ہیں اس وقت صوبے کی تقدیر کیوں نہیں بدلی کہ آج یہ نکلیں ہیں کہ صوبے میں نا انصافی ہورہے وزیراعلیٰ بلوچستان ایک ایماندار وزیراعلیٰ ہے وہ تمام صوبے کو یکساں طور پر دیکھ کر فنڈز ترقیاتی منصوبے دیناچاہتے ہیں کیونکہ ماضی میں اس صوبے کے ساتھ کرپشن کے نام پر جو کلہواڑ اور مذاق کیا ہے اس وجہ سے صوبہ پسماندگی کا شکار ہوا ہے موجودہ حکومت صوبے کو پسماندگی سے نکال کر ترقی ا ور خوشحالی کی جانب گامزن کرنا چاہتے ہے جو اپوزیشن کو برداشت نہیں ہورہا ہے اپوزیشن جماعتوں نے سڑکیں بند کر کے عوام کو مزیدمشکلات میں ڈال دیا یہ کہاں کی خدمت ہوئی اپوزیشن جماعتوں کے ارکان اسمبلی اپنے ا پنے حلقوں میں جا کر وہاں کے عوام کے ساتھ ان کے مسائل کی حل کیلئے کام کریں نہ کہ وہ قوم پرستی اور مذہب کے نام پرعوام کو بیوقوف بنانے کیلئے اپنے سیاسی ساکھ بچانے میں مصروف عمل ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں