عوام اب کسی سرداری پارٹی کے بہکاوے میں نہیں آئینگے، جھالاوان عوامی پینل کے زیر اہتمام خضدار میں ر یلی

خضدار:جھالاوان عوامی پینل کے زیر اہتمام قائدین پر بے جا الزام تراشی کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی میر شہزاد غلامانی، میر نور احمد رئیسانی، میر شہباز خان قلندرانی، رئیس صادق گزگی، میر منیر احمد مینگل،فدا احمد قلندرانی،ابرار الحق گزگی کی قیادت میں فیصل چوک خضدار سے نکالی گئی۔ ریلی جناح روڈ، ہسپتال روڈ، چاکر خان روڈ سے ہوتی ہوئی پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کی شکل اختیار کر لی، ریلی کے شرکاء نعرے بازی کرنے کے علاوہ ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مختلف قسم کے نعرے درج تھے مظاہرین سے جھالاوان عوامی پینل کے رہنماوں سردار زادہ میر شہزاد غلامانی،میر شہباز خان قلندرانی،میر منیر احمد مینگل،بلال احمد راہی،ابرار الحق گزگی مینگل،مجیب نور پندرانی،الفت حسنی،ظفر میروانی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی این پی بنیادی طور پر اس سوچ کی پارٹی ہے جس نے بلوچ نوجوانوں کے ہاتھوں سے قلم چھین کر کلاشنکوف تھمادی، جھالاوان میں جتنے بھی لوگ جن میں ماہرین تعلیم، ماہرین طب، سیکورٹی فورسیز کے اہلکار، نہتے خواتین و بچے، خاص کر توتک میں میر سعید احمد قلندرانی اور اس کے ساتھی،خضدار میں شہید عبدالقدوس محمد زئی، شہید پروفیسر عاشق عثمان،عبدالرشید خدرانی اور ان جیسے ہزاروں افراد کی شہادت میں بی این پی کی مسلح تنظیم برائے راست ملوث تھی اور آج پھر سے اپنی اس تسلسل کو برقرار رکھنے کی خاطر گزشتہ ایک ہفتے سے جھالاوان کے پر امن حالات کو بد امنی کی طرف لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ شفیق الرحمن ساسولی کے گھر پرکفن پھنکنے اور انہیں فون پر دھمکیاں دینے جیسے غلط اور غیر مصدقہ باتیں اسی تسلسل کو آگے بڑھانے کی ناکام کوشش ہے مگر جھالاوان کے عوام اب با شعور ہو چکے ہیں وہ کسی سردار ی پارٹی کی بہکاوے میں نہیں آئیں گے،بی این پی کے قائدین ڈرامہ بازی کرکے جو مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں انہیں ایسے مقاصد میں کامیاب ہونے نہیں دیا جائے گا مقررین نے کہا کہ جب جھالاوان میں کشت و خون ہو رہی تھی آج اسمبلی میں اونچی آواز میں گفتگو کرنے والے جھالاوان کو چھوڑ کر دبئی اور لندن گئے تھے اگر جھالاوان میں عوام کی دکھوں کا مداوء کرنے والا موجود تھا تو وہ صرف جھالاوان عوامی پینل کے قائدین تھے اور غور کرنے کی بات ہے کہ آج وہ لوگ کیسے عوام کو یہ یقین دلائیں گے کہ وہ عوام کی حقوق کے نگہبان ہے جن کا بلوچستان کا دورہ کم لندن و دبئی کے دورے زیادہ لگتے ہوں اگر ہم تاریخی طور پر دیکھیں بی این پی کی خضدار میں ہونے والے جلسوں سے ان کی قائدین کی تقاریر کا مشاہدہ کریں تو یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ آزادی چوک پر کون تقاریر کرکے نوجوانوں کو تبلیغ کر رہا تھا کہ قلم کو چھوڑ کر ہتھیار اپنایا جائے،مقررین نے اپنے خطاب میں سانحہ دھنک تربت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں ہم اس دکھ تکلیف اور پریشانی کی گھڑی میں مرحومہ شہید ملک ناز بلوچ اور معصوم زخمی پرمش بلوچ کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں وہی ہم وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اور وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو کو بھی مبارکباد دیتے ہیں کہ شہید ملک ناز بلوچ کی خون خشک ہونے سے پہلے اس واقعہ میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر کے پابند سلاسل کر دیا اب ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان ملزمان کو ہر صورت کیفر کردار تک پہنچایا جائے

اپنا تبصرہ بھیجیں