مون سون: امسال 10فیصد زیادہ بارشیں متوقع

اداریہ
محکمہ موسمیات نے دوسری مرتبہ خبردار کیا ہے کہ اس سال مون سون کے موسم میں بارشیں معمول سے 10فیصد زیادہ ہوں گی۔سادے لفظوں میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو پیغام دیا ہے کہ سیلا بی ریلے بھی 10فیصد زیادہ ہوں گے۔ گویا تباہی کا گراف معمول کی بارشوں اور سیلاب کے مقابلے میں اونچا ہو گا۔مون سون کا موسم صرف چار دن بعد 25جون سے شرع ہو رہا ہے۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل محمد افضل نے اس ضمن میں کی جانے والی تیاریوں کے حوالے سے بعض اقدامات کا ذکر کیا جن میں شہریوں کو سیلابی ریلے کی آمد کی اطلاع دینا سرفہرست ہے۔ماضی میں بھی اس قسم کے اقدامات کے دعوے پریس کانفرنسوں میں کئے جاتے رہے ہیں مگر ہر سال یہی دیکھنے کو ملا ہے کہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ہی جان بچانے کے لئے کسی محفوظ مقام کی جانب نقل مکانی کی ہے۔سرکار ی طور انہیں ٹرانسپورٹ نہیں فراہم کی گئی انہیں کھلے آسمان تلے بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا۔ اپنے گھر بار چھوڑ کر چھوٹے چھوٹے بچوں کو کندھوں پر بٹھائے گائے بھینسوں کی رسی تھامے گردن تک پانی میں سے گزر کر سیلابی ریلے کو پار کرنا آسان کام نہیں۔یہ مناظر پاکستان کے غریب عوام نے کئی بار دیکھے ہیں۔زیادہ امکان تو یہی ہے کہ ایک بار پھر انہیں یہی کچھ کرنا اور دیکھنا ہوگا۔سیلابی ریلا ہمیشہ نشیبی علاقوں میں ہولناک تباہی مچاتا ہے۔سڑکیں اور پل سیلاب اپنے ساتھ بہا کر لے جاتا ہے۔آمد رفت ممکن نہیں رہتی۔دیہات شہروں سے کٹ کر بیابان ویرانوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ کچے مکان شدید بارشوں میں اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتے،چھتیں اور دیواریں منہدم ہونے کے نتیجے درجنوں معصوم بچے اور بوڑھے ملبے کے نیچے دب کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ایسے مناظر ملک کے چاروں صوبوں میں دیکھے جاتے ہیں۔اس سال بھی یہی کچھ متوقع ہے۔سوال یہ ہے کہ موجودہ این ڈی ایم اے متأثرین کی کیا مدد کرے گی؟
ہمسایہ ملک بھارت مون سون میں اپنے عوام کو تباہی سے بچانے کے لئے دریائے راوی اور چناب پر بناگئے ڈیموں کے اسپل وے پاکستان کی جانب کھول دیتا ہے۔اس سال بھی یہی کرے گا۔ سارا سال خشک رہنے والی راوی اور چناب اچانک بپھر کر کناروں سے امڈ آتے ہیں اور جو کچھ ان کے راستے میں آئے اسے خس و خشاک کی طرح بہا کر اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔غریب شہری نہ صرف اپنی چھت اور چاردیواری سے محروم ہوجاتے ہیں بلکہ اپنی جمع پونجی بھی گنوا بیٹھتے ہیں۔کھیتوں میں لگی فصلیں بھی سیلاب تباہ کر دیتا ہے۔بلوچستان بھی شدید بارشوں سے بری طرح نقصان اٹھاتا ہے۔نشیبی آبادی بمشکل اپنی جان بچا کر کسی محفوظ مقام تک پہنچتی ہے جہاں بھوک پیاس کے ساتھ بارش ان کا ستقبال کرتی ہے۔ملک کی ہر تحصیل اور ضلعی افسر کے پاس سیلابی ریلوں سے پہنچنے کی تمام تفصیلات موجود ہیں۔این ڈی ایم اے کے چیئرمین کو چاہیئے کہ بارشوں اور ان کی لائی جانے والی تباہی کا انتظار نہ کریں جو اقدامات کر سکتے ہیں ان چار دنوں میں کر لیں۔ تاکہ جیسے ہی بارشیں شہریوں کے لئے مصیبت کا سبب بنیں ان لوگوں کی بروقت مدد کی جا سکے۔یاد رہے کہ مون سون کا موسم کوئی زلزلہ یا کورونا جیسی ناگہانی آفت نہیں کہ اس کی آمد کا انتظامیہ کو پیشگی علم ہی نہ ہو۔یہ عید الفطر اور عیدالاضحیٰ کی طرح معمول کے مطابق آتا ہے سب جانتے ہیں کن لوگوں کے لئے یہ باعث رحمت ہے اور کن مجبوروں کے لئے باعث زحمت ہے۔ پاکستان کے عوام اتنے بد نصیب ہیں کہ دوست ممالک کی جانب سے دیئے جانے والے قیمتی سامان کو بھی چھپا کر اپنے گھر لے جاتے ہیں۔ چوری اور لوٹ مار کا سلسلہ ابھی تھما نہیں۔آٹا چور، چینی چور اور پیٹرول چورابھی تک عوام کو لوٹنے اپنی تجوریاں بھرنے میں مصروف ہیں۔کورونا سے بچاؤ کے ماسک بھی ان کی منافع خوری کی بھینٹ چڑھ گئے ادویات اس حکومت کے آتے ہی مہنگی کر دی گئی تھیں۔
ابھی عوام کو عالمی وباء کورونا Covid-19) سے نجات نہیں ملی اسلام آباد سمیت ملک بھر میں سمارٹ لاک ڈاؤن جاری ہے۔متعلقہ علاقوں میں دو دو ہفتے تک لوگ گھروں میں محصور رہیں گے۔مون سون کی شکل میں تازہ مصیبت بھی پاکستانی شہریوں کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ ایک جانب لوگ سیلاب کے ہاتھوں جانی و مالی نقصان اٹھاتے ہیں اور دوسری جانب اس قیمتی قدرتی نعمت کی بہت بڑی مقدار کو وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنے لئے مشکلات پیدا کرنے کی اجازت دیتی ہیں اور ہر سال اربوں ڈالر کا مالی اٹھا کر اسے سمندر میں ڈال دیتے ہیں۔رواں سال بھی یہی کچھ دہرایا جائے گا۔تباہی اور بربادی کے وہی مناظرالیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر دکھا ئے جائیں گے۔ ویسی ہی شکایتیں ہوں گی اور ماضی کے حکمرانوں کی دی گئی تسلیوں سے ملتی جلتی تسلیاں دہرائی جائیں گی۔اور کئی بارکچے مکان اور کچی بستیاں گہرے پانی میں ڈوبیں گی۔ غریب اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے اور دفناتے رہیں گے۔موجودہ حکومتیں پرانی قیمتوں پر آٹا، چینی اور پیٹرول فراہم نہیں کر سکتیں۔اسٹریٹ کرائمز کی روک تھام ان کے بس سے باہر ہے۔بیوروکریٹس ان کی بات نہیں سنتے ان سے کیا گلہ کیا جائے؟یہ خود کہتے ہیں انہیں عوام نے منتخب نہیں کیا انتخابات سے پہلے ہی وزیر اعظم اور کابینہ کے نام (متوقع) حکمران اپنی جیبوں میں ڈالے گھومتے اور اپنے رفقاء کو دکھاتے ہیں۔انہیں شکایت ہے کہ اس مرتبہ ان کی فہرست والا وزیر اعظم نہیں آیا کسی دوسری فہرست پر عمل کیا گیا ہے۔ جب تک عوام کے منتخب نمائندے اقتدار میں نہیں آئیں گے تب تک تباہی اوربربادی کا سلسلہ جاری رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں