موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچنے کیلئے ٹھوس اقدامات ضروری ہیں،وزیر اعظم

اسلام آباد (این این آئی)نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے 2022ءکے تباہ کن سیلاب کے دوران تمام ریاستی اداروں خصوصاً این ڈی ایم اے کی مربوط کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچنے کیلئے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں ،موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقی چیلنج ہے جو ہماری آنے والی نسلوں کو پریشان کرتی رہے گی،این ای او سی قدرتی آفات سے نمٹنے اور خطرے اور نقصانات کو کم کرنے میں مدد دے گی۔جمعرات کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے این ڈی ایم اے ہیڈ کوارٹرز میں نئے قائم کئے گئے جدید ترین ”نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر“ (این ای او سی ) کا افتتاح کردیا۔اس موقع پر وزیر اعظم نے این ای او سی کے قیام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف مستقبل میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے مربوط کوششوں بلکہ قدرتی آفات کے خطرے اور نقصانات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ قدرتی آفات سے محفوظ رہنے والے بنیادی ڈھانچے اور پالیسی فریم ورک کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں سب سے کم حصہ دار ہونے کے باوجود پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے سرفہرست ممالک میں سے ایک ہے ، موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقی چیلنج ہے ،جب تک ہم اس سے نمٹنے کیلئے ایسے ٹھوس اقدامات نہیں کریں گے اس سے ہماری آنے والی نسلیں پریشان ہوں گی۔ وزیر اعظم نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران تمام ریاستی اداروں خصوصاً این ڈی ایم اے کی مربوط کوششوں کی بھی تعریف کی۔ملک کی تقریباً ایک تہائی آبادی 2022 میں سیلاب سے متاثر ہوئی تھی اور 30 ارب ڈالر کے معاشی نقصان کا تخمینہ لگایا گیا تھا،دنیا کو آگے بڑھنے کی ضرورت ہے اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لئے مدد کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نے کوویڈ۔19 اور 2022 کے سیلاب کے دوران این سی او سی کے کردار کی بھی تعریف کی۔بریفنگ میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ این ای او سی موسمیاتی تبدیلی، قدرتی آفات سے نمٹنے اور قومی ہنگامی صورتحال کے لئے پیش گوئی کرنے والے ماڈلنگ سے متعلق تمام تکنیکی معلومات کے مرکز کے طور پر کام کرےگا، پاکستان اور خطے میں یہ اپنی نوعیت کا پہلامرکز ہے جو پاکستان کی مقامی طور پر وضع کردہ صلاحیت ہے جو ممکنہ مقامات، اثرات کے اوقات اور نقصان کی شدت کے بارے میں اعتبار اور درستگی کے ساتھ مستقبل کی آفات کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، یہ مربوط ردعمل کی کوششوں کو تقویت دے گا، صوبائی اور ضلعی سطح کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کی سطح پر رہنمائی فراہم کرے گا۔بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ایک ایسے پلیٹ فارم کی ضرورت محسوس کی گئی تھی جو قدرتی آفات کی نگرانی، اعلیٰ ٹیکنالوجی سے چلنے والی صلاحیت کی قومی اہلیت کی تیاری کے لئے کام کرے، یہ کمزور علاقوں کی ضروریات کا اندازہ لگا سکتا ہے اور حقیقی قومی مشترکہ فعالیت کی صورتحال کے تناظر میں ہمہ وقتی تیار مجموعی قومی منظرنامہ کے ذریعے عالمی شراکت داروں کی جانب سے پہلے سے مربوط تعاون کے خلا ءکا تعین کر سکتا ہے۔چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے وزیراعظم کیلئے بریفنگ سیشن کا انعقاد کیا جس میں مہمان خصوصی کے ساتھ ساتھ سفیروں، اقوام متحدہ کی تنظیموں کے کنٹری ہیڈز، عالمی این جی اوز، پاکستان کے ممتاز تعلیمی اداروں کے دانشوروں اور ماہرین نے شرکت کی۔ انہوں نے ماضی میں قدرتی آفات اور قومی ہنگامی صورتحال میں پاکستان کے وسیع پس منظر سے اہم اسباق پیش کئے اور این ای او سی کے ذریعے قدرتی آفات کے فعال انتظام کے لئے این ڈی ایم اے کے نئے وڑن پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اس وژن کی بنیادی طور پر وزیراعظم آفس اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے تمام متعلقہ قومی فریقوں نے منظوری دی تھی۔ تقریب میں قومی اور بین الاقوامی معززین نے شرکت کی جنہوں نے اعلیٰ نتائج پر مبنی کثیرجہتی افادیت کے این ای او سی کے کم وقت میں قیام اور تیزی سے ترقی پر حکومت پاکستان کی تعریف کی جس میں سٹرٹیجک سرمایہ کاری کے تحفظ اور باہمی ترقی کا وعدہ کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں