اب وزراء بھی سوال اٹھانے لگے

اداریہ
وزیر اعظم عمران خان کو ایک بار پھر اپنے ایک وزیر کو سمجھانا پڑا:”پہلے بھی روکا تھابیان بازی سے باز آجائیں مگر آپ خبروں میں رہنے کے لئے ابھی تک یہ سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں“۔متعلقہ وزیر اپنے قائد کی ہدایت پر عمل کرتے ہیں یا مشیروں اور معاونین کے نقش قدم پر چلتے ہیں اس کا فیصلہ چند ہفتوں میں ہو جائے گا۔وزیر اعظم عمران خان کو اس بنیادی سوال پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ انہیں اقتدار اس قدر ناپ تول کر کیوں ملا ہے؟اگر وہ اس سوال کا درست جواب تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے تویہ توقع کی جاسکتی وہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے بصورت دیگر کبھی ایک اور کبھی دوسرے وزیر کی سرزنش کرتے رہیں گے وزیر نہیں سدھرے گا۔وزارتِ عظمیٰ کے لئے دعائیں مانگنے والا راز خودعوام کے سامنے بیان کیا تھاصد شکر کہ ابھی تک ان کے کسی وزیر نے کسی نجی محفل میں نہیں کہا کہ اس کے دل میں وزیر اعظم بننے کی خواہش مچل رہی ہے۔البتہ کابینہ کے اجلاس میں بعض وزراء کی جانب سے شکایت کو تقویت دینے کے لئے اس شبہ کا اظہار کیا ہے کہ اپنی اوقات سے بڑھ کر باتیں کرنے والے وزیر شائد ملک کا وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں۔حالانکہ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ وزیر اعظم بننے کے لئے بیان بازی کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔ایک مثال ایسی بھی تاریخ میں درج ہے کہ وزیراعظم کا شناختی کارڈ ان کے حلف اٹھانے کے بعد بناتھا جبکہ چپڑاسی کی پوسٹ کے لئے سی این آئی سی اور ڈومیسائل کی شرط ہے۔شائد کچھ لوگوں کے حافظے میں یہ معلومات بھی محفوظ ہوں کہ اس گمنام شخص کو وزیر اعظم کی کرسی پر بٹھانے کے لئے نواز شریف اور محترمہ بینظیر بھٹو(دونوں) نے با اختیار ادارے کے روبرو رضامندی ظاہر کی تھی۔ اگر صرف میڈیا میں بیان بازی وزیر اعظم بننے کے لئے کافی ہوتی تو شیخ رشید متعدد بار اس کرسی پر بیٹھ چکے ہوتے وزارتیں تبدیل کرتے ان کی ساری زندگی گزر گئی۔
وزیر اعظم عمران کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ وہ بنیادی طور پر ایک ریفارمر ہیں معاشرے کی اصلاح چاہتے ہیں۔ورلڈ کپ جیتنے کے بعد انہوں نے اپنی والدہ کے نام پر معیاری کینسر اسپتال تعمیر کرنے کی ٹھانی کامیاب رہے۔اسی دوران انہوں نے میانوالی جیسے دورافتادہ علاقے میں ایک یونیورسٹی بھی قائم کر لی جس میں 70فیصد غریب بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں اور انہیں گریجوایشن کرتے ہی اچھے اداروں میں اچھی تنخواہ والی ملازمت مل جاتی ہے۔مگر ان کی کابینہ میں شامل وزراء کی خواہشات ان سے مختلف ہیں۔ وہ سیاست دان ہیں اور(ایک دو کے سوا) سیاست کو دولت کمانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔بجلی، پیٹرول اور گیس کے معاملات پر تحقیقات ہونے دیں،مزیدبہت سارے چہرے بے نقاب ہو ں گے۔ابھی صرف جہانگیر ترین ملک سے باہر گئے ہیں تحقیقات کاسلسلہ آگے بڑھ سکا تو یہ فہرست طویل ہوگی۔وزیر اعظم انہیں مافیاز کہتے ہیں۔ مافیاز کو شکست دینے کے لئے ایک صبر آزما جنگ لڑنی پڑتی ہے۔ممکن ہے وزیر اعظم عمران اس جنگ کے لئے پرعزم ہوں پر اعتماد ہوں، مگر ان کی کابینہ میں شامل زیادہ تر لوگ عجلت پسند ہیں، وہ جانتے ہیں، نون لیگ کے خواجہ آصف کی اس اطلاع میں صداقت ہے کہ حکومت کی عمارت بظاہر مضبوط نظر آتی ہے مگر اندر سے اتنی کمزور ہوتی ہے کہ کسی لمحے اچانک سروں پر آن گرتی ہے۔لہٰذا دولت کمانے والے ہوشیار ہو جاتے ہیں اور 60روپے فی کلوسے کم لاگت والی چینی 90 سے100روپے میں بیچنا شروع کر دیتے ہیں۔سستا پیٹرول نایاب ہو جاتا ہے،جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔مان لیا کہ وزیر اعظم کی کوئی شوگر مل نہیں، لیکن وزراء کی شوگر ملوں سے انکار ممکن نہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے شوگر مل مالکان کی مرضی کا فیصلہ نہیں دیا مل مالکان نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی۔یاد رہے مافیاز کو اپنی کامیابی کا اس قدر یقین ہوتا ہے کہ آخری دم تک لڑتی ہیں،مگر وزراء کو ہر لحظہ اپنی کرسی کھسکتی نظر آتی ہے۔ فوادچوہدری نے یہی تو کہاہے کہ پی ٹی آئی کی تین اہم شخصیات آپس میں لڑ رہی ہیں،اس اٹھا پٹخ کے نتیجے میں پی ٹی آئی کی کارکردگی بہت کم رہی ہے۔
اب کہا جارہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی اپنے وزراء سے کہہ دیا ہے: تمہارے پاس 5/ 6 مہینے ہیں۔ پی پی پی کے شریک چیئرمین اورسابق صدرپاکستان آصف علی زرداری یہ سنتے ہی اپنے کارکنوں سے ٹیلی فونک رابطے کرکے ان کا حوصلہ بڑھانے لگے ہیں؛انہوں نے کہا:پنجاب کے جیالے متحد رہیں اچھا وقت آنے والا ہے مقدمات کا کوئی خوف نہیں۔جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمٰن نے بی این پی کے قائد سردار اختر مینگل سے کہا ہے:حکومت کے دیگر اتحادیوں کو سمجھائیں۔سردار اختر مینگل صحافیوں سے کہہ رہے ہیں: ساری باتیں نہیں بتا سکتے۔فی الحال یہی سمجھیں قربتیں بڑھ رہی ہیں۔بعض تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی کی مایوس کن کارکردگی کے پیش نظر متبادل کی تلاش شروع ہو گئی ہے۔ان میں سے کچھ کا خیال ہے اگر ایسا ہو گیا تو یہ ان ووٹرز کی بدقسمتی ہوگی جو تبدیلی کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ بہر حال ابھی ”کچھ رونماہونے“ میں 6مہینے باقی ہیں۔آدھا سال پڑا ہے، پیغام تمام فریق سن چکے ہیں۔ فیصلہ ہواؤں نے کرنا ہے جس دیئے میں جان ہو گی وہ دیا رہ جائے گا۔اچھا ہوا کہ وزیر اعظم نے یہ راز وزراء تک پہنچا دیاکہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا نتیجہ تکلیف دہ ہوگا۔”کارکردگی دکھاؤورنہ گھر جاؤ“کی فیصلہ کن گھڑی قریب ہے۔کارکردگی نہ دکھانے کی صورت میں 5سالہ مدت آدھی کر دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں