ؓبجٹ منظور کرانے میں حکومت کامیاب

اداریہ
بجٹ کی منظوری عام حالات میں معمول کی کارروائی سمجھی جاتی ہے مگر پی ٹی آئی کو ایوان میں سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں اپوزیشن ہمیشہ اسے مانگی تانگی سیٹوں والی حکومت ہونے کا طعنہ دیتی اس کی اتحادی جماعتوں نے وزیر اعظم کے عشائیہ میں بھی شرکت نہیں کی۔بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے ٹکا سا جواب دیا:”ہم اتحادی نہیں اس لئے عشائیہ میں شرکت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا“۔پی پی پی کے سینئر رہنما اور ماہر قانون بیرسٹر اعتزاز احسن نے اس صورت حال کو حکومت کے لئے تشویشناک قرار دیا تھا۔دوسری طرف 12حکومتی ارکان کی عشائیہ میں غیر حاضری نے منظر کو مزید سنسنی خیز رنگ دے دیا۔ اگر عشائیہ کے آخری لمحات میں قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصرناراض ارکان کو وزیر اعظم کے پاس لانے میں کامیاب نہ ہوتے تو حکومت کے لئے واقعی ایک بڑی پریشانی نے دستک دے دی تھی۔لیکن بجٹ کی منظوری کے وقت اپوزیشن کے 119ارکان ایوان میں موجود ہونے کے باوجود 108 حکومتی ارکان بجٹ برائے 2020-21منظور کرانے میں کامیاب ہو گئے۔ اس کے معنے یہی ہونے چاہیئیں کہ اپوزیشن اس موقعے سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔اب عدم اعتماد والا کارڈ باقی بچا ہے،اس کے بارے میں خوداپوزیشن زیادہ پرامید نظر نہیں آتی۔ان کی جانب سے مائنس ون پر رضامندی کا ا ظہار یہی ظاہر کرتا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت ہٹانے کے لئے ان کے پاس اراکین کی مطلوبہ تعداد دستیاب نہیں۔انہیں ڈر ہے کہ ان کی اپنی صفوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو عدم اعتماد کی تحریک کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کے معاملے میں جو کچھ ہوا تھا اپوزیشن کو ابھی بھولا نہیں۔یہ حالیہ تاریخ کاانوکھا واقعہ ہے جس کے تمام کردار معزز سینیٹرز خود تھے۔انہوں نے زبان سے کچھ کہا اور عمل کچھ اور کیا۔
اس میں شک نہیں کہ دوسال سے کم مدت میں پی ٹی آئی کی حکومت متعدد بحرانوں کا شکار رہی۔ بلکہ ہنوز چینی کی قیمتیں عدالتی حکم کے باوجود 70روپے نہیں کرا سکی۔پیٹرول کی قیمتیں کم کرانے کی بجائے اچانک ان میں اضافہ کر دیا گیا،گندم کی فصل کی خریداری میں کہا جارہا ہے کہ حکومت اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکی۔کسی وقت نیا بحران سر اٹھا سکتا ہے۔ مگر اپوزیشن کسی بھی بحران کو کیش نہیں کرا سکی۔آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری سے حکومت کو سکھ کا سانس لینے کا ایک موقع مل گیا ہے۔ حکومت کے بارے میں ”صبح گئی یا شام گئی“والے دل خوش کن نعرے کچھ عرصے کے لئے اپنی چاشنی اور جاذبیت کھو چکے ہیں۔وزیر اعظم کے تیور بتا رہے نہیں کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کے لئے تیار نہیں۔کورونا وائرس بھی حکومت کے لئے ایک ڈھال کا کام دے رہا ہے۔اپوزیشن چاہے بھی تو عوام کو احتجاج کے لئے اتنی بڑی تعداد میں سڑکوں پر نہیں لا سکتی جتنی تعداد حکومت کو گھر بھیجنے کے لئے درکار ہے اور یہ بات اپوزیشن کے علم میں ہے۔اپوزیشن تو تاحال آل پارٹیز کانفرنس بلانے میں بھی کا میاب نہیں ہو سکی۔ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے علامتی سربراہ اور اپوزیشن لیڈر کورونا کے نام پر نیب اور عدالت میں مچلکوں پر دستخط کرنے سے رخصت کے لئے کوشاں ہیں۔اور دنیا دیکھ چکی ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے میں صرف ان کی اپنی جمیعت کے کارکنان تھے دیگر پارٹیوں کی غیر حاضری سے انکار ممکن نہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی کے فلور پر واضح الفاظ میں کہا ہے کہ مارچ 2021میں پورے ملک میں صرف ایک تعلیمی نظام نافذ ہوگا۔چنانچہ مدارس میں بھی وہی نصاب پڑھایا جائے گا جو ملک کے تمام اسکولوں میں طلباء پڑھیں گے۔اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اب مدارس کے طلباء بھی کمپیوٹر، فزکس، کیمسٹری، بیالوجی، ریاضی اورانگلش پڑھیں گے۔ظاہر ہے یہ مضامین درس نظامی کے فارغ التحصیل علماء نہیں پڑھا سکتے۔ اس تبدیلی کے نتائج کو مولانا حضرات سمجھ رہے ہیں لیکن اس کا راستہ روکنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
اس کے علاوہ برطانیہ کے معروف اقتصادی جریدے فنانشل ٹائمز میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حکومت پاکستان چین سے پاک چین اقتصادی راہداری(سی پیک) کے منصوبوں کی شرائط پر از سرنو مذاکرات کی کوشش کر رہی ہے۔برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق دوبارہ مذاکرات کی گنجائش اس لئے پیدا ہوئی ہے کہ چینی کمپنیوں کے اشتراک سے بنے بجلی گھروں میں اضافی لاگت اور بے ضابطگیوں کاانکشاف ہوا ہے۔پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی اور شین ڈونگ رووی انرجی کے اشتراک سے بنے کول پاور پلانٹ کی لاگت اور قرض کی شرح میں 3ارب ڈالر اضافی ادائیگی کی جا رہی ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ پاکستان وقتاً فوقتاً ایسے معاہدوں میں پھنسا رہا ہے جو اس کی معیشت کو نقصان پہنچاتے رہے ہیں۔فنانشل ٹائمز کی رپورٹ سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ اب دنیا بھی دوسرے لفظوں میں یہ کہنے پر مجبور ہوگئی ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں نے پاکستان کے عوام کے مفادات کا خیال نہیں رکھا انہیں مشکلات میں ڈالااور بیرون ملک اپنے اثاثے بناتے رہے۔فنانشل ٹائمز نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ چین کے دباؤ پر سی پیک منصوبوں میں کی گئی کرپشن پر تحقیقات روک دی گئی ہیں۔ جس کا ایک مقصد مذاکرات میں رعایتیں حاصل کرنا ہے۔اسی قسم کے دباؤ کی خبریں قطر سے کئے گئے ایل این جی کے معاہدے میں 15سال تک مہنگی گیس خریدنے کے حوالے سے بھی میڈیا کی زینت بن چکی ؓبجٹ منظور کرانے میں حکومت کامیاب
اداریہ
بجٹ کی منظوری عام حالات میں معمول کی کارروائی سمجھی جاتی ہے مگر پی ٹی آئی کو ایوان میں سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں اپوزیشن ہمیشہ اسے مانگی تانگی سیٹوں والی حکومت ہونے کا طعنہ دیتی اس کی اتحادی جماعتوں نے وزیر اعظم کے عشائیہ میں بھی شرکت نہیں کی۔بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے ٹکا سا جواب دیا:”ہم اتحادی نہیں اس لئے عشائیہ میں شرکت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا“۔پی پی پی کے سینئر رہنما اور ماہر قانون بیرسٹر اعتزاز احسن نے اس صورت حال کو حکومت کے لئے تشویشناک قرار دیا تھا۔دوسری طرف 12حکومتی ارکان کی عشائیہ میں غیر حاضری نے منظر کو مزید سنسنی خیز رنگ دے دیا۔ اگر عشائیہ کے آخری لمحات میں قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصرناراض ارکان کو وزیر اعظم کے پاس لانے میں کامیاب نہ ہوتے تو حکومت کے لئے واقعی ایک بڑی پریشانی نے دستک دے دی تھی۔لیکن بجٹ کی منظوری کے وقت اپوزیشن کے 119ارکان ایوان میں موجود ہونے کے باوجود 108 حکومتی ارکان بجٹ برائے 2020-21منظور کرانے میں کامیاب ہو گئے۔ اس کے معنے یہی ہونے چاہیئیں کہ اپوزیشن اس موقعے سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔اب عدم اعتماد والا کارڈ باقی بچا ہے،اس کے بارے میں خوداپوزیشن زیادہ پرامید نظر نہیں آتی۔ان کی جانب سے مائنس ون پر رضامندی کا ا ظہار یہی ظاہر کرتا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت ہٹانے کے لئے ان کے پاس اراکین کی مطلوبہ تعداد دستیاب نہیں۔انہیں ڈر ہے کہ ان کی اپنی صفوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو عدم اعتماد کی تحریک کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کے معاملے میں جو کچھ ہوا تھا اپوزیشن کو ابھی بھولا نہیں۔یہ حالیہ تاریخ کاانوکھا واقعہ ہے جس کے تمام کردار معزز سینیٹرز خود تھے۔انہوں نے زبان سے کچھ کہا اور عمل کچھ اور کیا۔
اس میں شک نہیں کہ دوسال سے کم مدت میں پی ٹی آئی کی حکومت متعدد بحرانوں کا شکار رہی۔ بلکہ ہنوز چینی کی قیمتیں عدالتی حکم کے باوجود 70روپے نہیں کرا سکی۔پیٹرول کی قیمتیں کم کرانے کی بجائے اچانک ان میں اضافہ کر دیا گیا،گندم کی فصل کی خریداری میں کہا جارہا ہے کہ حکومت اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکی۔کسی وقت نیا بحران سر اٹھا سکتا ہے۔ مگر اپوزیشن کسی بھی بحران کو کیش نہیں کرا سکی۔آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری سے حکومت کو سکھ کا سانس لینے کا ایک موقع مل گیا ہے۔ حکومت کے بارے میں ”صبح گئی یا شام گئی“والے دل خوش کن نعرے کچھ عرصے کے لئے اپنی چاشنی اور جاذبیت کھو چکے ہیں۔وزیر اعظم کے تیور بتا رہے نہیں کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کے لئے تیار نہیں۔کورونا وائرس بھی حکومت کے لئے ایک ڈھال کا کام دے رہا ہے۔اپوزیشن چاہے بھی تو عوام کو احتجاج کے لئے اتنی بڑی تعداد میں سڑکوں پر نہیں لا سکتی جتنی تعداد حکومت کو گھر بھیجنے کے لئے درکار ہے اور یہ بات اپوزیشن کے علم میں ہے۔اپوزیشن تو تاحال آل پارٹیز کانفرنس بلانے میں بھی کا میاب نہیں ہو سکی۔ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے علامتی سربراہ اور اپوزیشن لیڈر کورونا کے نام پر نیب اور عدالت میں مچلکوں پر دستخط کرنے سے رخصت کے لئے کوشاں ہیں۔اور دنیا دیکھ چکی ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے میں صرف ان کی اپنی جمیعت کے کارکنان تھے دیگر پارٹیوں کی غیر حاضری سے انکار ممکن نہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی کے فلور پر واضح الفاظ میں کہا ہے کہ مارچ 2021میں پورے ملک میں صرف ایک تعلیمی نظام نافذ ہوگا۔چنانچہ مدارس میں بھی وہی نصاب پڑھایا جائے گا جو ملک کے تمام اسکولوں میں طلباء پڑھیں گے۔اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اب مدارس کے طلباء بھی کمپیوٹر، فزکس، کیمسٹری، بیالوجی، ریاضی اورانگلش پڑھیں گے۔ظاہر ہے یہ مضامین درس نظامی کے فارغ التحصیل علماء نہیں پڑھا سکتے۔ اس تبدیلی کے نتائج کو مولانا حضرات سمجھ رہے ہیں لیکن اس کا راستہ روکنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
اس کے علاوہ برطانیہ کے معروف اقتصادی جریدے فنانشل ٹائمز میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حکومت پاکستان چین سے پاک چین اقتصادی راہداری(سی پیک) کے منصوبوں کی شرائط پر از سرنو مذاکرات کی کوشش کر رہی ہے۔برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق دوبارہ مذاکرات کی گنجائش اس لئے پیدا ہوئی ہے کہ چینی کمپنیوں کے اشتراک سے بنے بجلی گھروں میں اضافی لاگت اور بے ضابطگیوں کاانکشاف ہوا ہے۔پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی اور شین ڈونگ رووی انرجی کے اشتراک سے بنے کول پاور پلانٹ کی لاگت اور قرض کی شرح میں 3ارب ڈالر اضافی ادائیگی کی جا رہی ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ پاکستان وقتاً فوقتاً ایسے معاہدوں میں پھنسا رہا ہے جو اس کی معیشت کو نقصان پہنچاتے رہے ہیں۔فنانشل ٹائمز کی رپورٹ سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ اب دنیا بھی دوسرے لفظوں میں یہ کہنے پر مجبور ہوگئی ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں نے پاکستان کے عوام کے مفادات کا خیال نہیں رکھا انہیں مشکلات میں ڈالااور بیرون ملک اپنے اثاثے بناتے رہے۔فنانشل ٹائمز نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ چین کے دباؤ پر سی پیک منصوبوں میں کی گئی کرپشن پر تحقیقات روک دی گئی ہیں۔ جس کا ایک مقصد مذاکرات میں رعایتیں حاصل کرنا ہے۔اسی قسم کے دباؤ کی خبریں قطر سے کئے گئے ایل این جی کے معاہدے میں 15سال تک مہنگی گیس خریدنے کے حوالے سے بھی میڈیا کی زینت بن چکی ہیں۔ ایسی خبروں کے منفی اثرات آج کی اپوزیشن پر پڑیں گے۔اس کی مشکلات میں اضافہ ہوگاجبکہ بجٹ کی منظوری سے حکومت سکھ کا سانس لے گی۔
ہیں۔ ایسی خبروں کے منفی اثرات آج کی اپوزیشن پر پڑیں گے۔اس کی مشکلات میں اضافہ ہوگاجبکہ بجٹ کی منظوری سے حکومت سکھ کا سانس لے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں