سندھ پولیس بلوچستانیوں کو بلیک میل کرکے پیسے بٹور رہی ہے، بلوچستان کے سینیٹرز کا اظہار تشویش

کوئٹہ (یو این اے) سینیٹ میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز نے سندھ میں بلوچستانیوں کوبلیک میل کرنے وپیسے لینے پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ پانچ سے 15 سال کے بچوں نے بلوچستان میں کفن باندھ کر دھرنا دیا ہوا ہے، بارڈر کا علاقہ ہے کہیں معاملات گھمبیر نہ ہوجائیںسندھ پولیس ایک ایک کو اتار کر پیسے گنتے ہیں، بلیک میل کیا جاتا ہے کہ پیسے دو نہیں تو افغانی شو کریں گے، رینجرز اور کوسٹ گارڈ بھی مسائل بناتی ہے، بلوچستان سے سندھ آنا دوسرے ملک آنا ہے، روزانہ تذلیل کی جاتی ہے۔گزشتہ روز ایوان بالا میں سینیٹر طاہر بزنجو، سینیٹرشفیق ترین ،سینیٹر دنیش کمار، سینیٹر منظور کاکڑودیگر نے ایوان بالا میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ قرارداد پرقائد حزب اختلاف اور قائد ایوان میں اتفاق نہیں تو پیش کرنے کی اجازت نہ دی جائے، اگر سویلین کورٹس کے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں کرنا تو پھر انہیں بند کر دیں، اس قرارداد کی حمایت اکثریت نے نہیں کی اس لئے اس کو واپس لیا جائے۔سینیٹر شفیق ترین نے اجلاس میں کہا کہ پانچ سے 15 سال کے بچوں نے بلوچستان میں کفن باندھ کر دھرنا دیا ہوا ہے، بارڈر کا علاقہ ہے کہیں معاملات گھمبیر نہ ہوجائیں۔جس پر چئیرمین سینیٹ نے کہا کہ میں وزیر داخلہ سے چیمبر میں بلا کر بات کرتا ہوں۔سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ صدیوں سے لوگ بارڈ کے دونوں جانب رہ رہے ہیں، کراچی کی عوام جب حب سے آتے ہیں تو رل جاتے ہیں وڑ جاتے ہیں، بلوچستان سے جو لوگ آتے ہیں سندھ پولیس ایک ایک کو اتار کر پیسے گنتے ہیں، بلیک میل کیا جاتا ہے کہ پیسے دو نہیں تو افغانی شو کریں گے، رینجرز اور کوسٹ گارڈ بھی مسائل بناتی ہے، بلوچستان سے سندھ آنا دوسرے ملک آنا ہے، روزانہ تذلیل کی جاتی ہے۔ سینیٹر دنیش کمار نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کوسٹ گارڈ اور سندھ پولیس کو قائمہ کمیٹی میں بلایا جائے اور ان سے پوچھا جائے،سینیٹ نے سینیٹر ثنا جمالی کی جانب سے پیش کی گئی معیاری تعلیم تک ہر بچے کی رسائی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔قرارداد میں کہا گیا کہ عالمی یوم خواندگی، صنف، سماجی و اقتصادی حیثیت سے بالاتر ہوکر معیاری تعلیم تک رسائی پر بچے کا بنیادی حق ہے، قرارداد میں حکومت پاکستان سے تعلیم کے لیے موثر اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا، قرارداد میں غیر رسمی تعلیمی نظام ہو تقویت دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ قرارداد کے متن میں فنی اور جدید تعلیم و تربیت کے فروغ کا مطالبہ بھی کیا گیا۔سینیٹر منظور کاکڑ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم جمہوریت کی بات تو کرتے ہیں مگر کچھ چیزوں پر غور کرنا چاہیے، اس روزکورم کی نشاندہی نہیں ہوئی اور قرارداد پاس کرلی گئی، اس سے پہلے بھی عجلت میں بل پاس کئے جاچکے ہیں، نیب سے متعلق بل بھی اسی طرح جلد بازی میں پاس کیا گیا، وہ بل کسی کے فائدے کا تھا اور اس سے کسی کا مفاد وابستہ تھا۔اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں جلد از جلد انتخابات ہوں اور ایوان مکمل ہو۔سرفرازبگٹی نے کہا کہ چمن بارڈر کے معاملے پر تفصیل سے بات کی گئی۔انہوں نے کہا کہ یورپ کا پاکستان کے ساتھ موازنہ نہیں ہو سکتا، ہماری خواہش ہے کہ افغانستان سے آنے والے ویزا لیں، ہم کوشش کریں گےکہ پاک افغان سرحدکو قانونی بنائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں