بلوچستان یونیورسٹی سکینڈل،انکوائری مکمل، سیف اللہ برخاست، جاوید اقبال، طارق جوگیزئی ودیگرکیخلاف سفارشات سینڈیکٹ کو ارسال

کوئٹہ :۔بلوچستان ہائی کورٹ میں یونیورسٹی آف بلوچستان ہراسگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی کیس کی سماعت جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نذیر احمد لانگو پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی اس موقع پر معزز عدالت کو یونیورسٹی آف بلوچستان کے رجسٹرار اور وکیل کی جانب سے بتایا گیا کہ کورٹ کے احکامات کی روشنی میں سی سی ٹی وی فوٹیج سکیم میں ملوث اہلکاروں کے خلاف انکوائری مکمل کر لی گئی ہیں یونیورسٹی کے ایک اہلکار سیف اللہ سیکیورٹی گارڈ کو ملازمت سے برخاست کر دیا گیا ہے جبکہ سابق وائس چانسلر جاوید اقبال سابق رجسٹرار طارق جوگیزئی سابق چیف سکیورٹی آفیسر محمد نعیم اور سابق ٹرانسپورٹ آفیسر محمد شریف کے خلاف انکوائری کمیٹی کی سفارشات سیندیکیٹ جو کہ ان سفارشات پر عمل درآمدکی مجاز اتھارٹی ہے کے آئندہ اجلاس میں رکھی جائیں گی عدالت کی جانب سے استفسار رجسٹرار اور وکیل کا کہنا تھا کہ سنڈیکیٹ کی اگلی میٹنگ جتنی جلدی ممکن ہو طلب کی جائے گی اس موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے نکتہ اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ صوبائی و قومی اسمبلی سے منظور شدہ ہراسگی کے قانون کے باوجود کسی بھی سرکاری محکمے یا یونیورسٹیز نے کمیٹیاں تشکیل نہیں دی ہیں اس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس کیس کے ذریعے کئی ایک مسائل اٹھائے گئے ہیں جن کا حل ہونا ضروری ہے سماعت کے آخر میں معزز عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی آف بلوچستان کے رجسٹرار / سیکرٹری سنڈیکیٹ کا اجلاس 2 ہفتوں کے اندر اندر طلب کرے کرے اور ساتھ ہی درخواست گزار کی جانب سے اٹھائے گئے پیرا نمبر 6 میں موجود اور ہراسمنٹ ایکٹ کے تحت کمیٹی کی تشکیل جیسے ایشوز پر بھی غور کرے عدالت نے رجسٹرار یونیورسٹی آف بلوچستان کو انکوائری آفیسر کی رپورٹ پر سنڈیکیٹ کے فیصلے کے ساتھ اگلی پیشی پر پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی جبکہ کیس کی مزید سماعت کے لئے جولائی 2020 کا تیسرا ہفتہ مقرر کیا گیا.

اپنا تبصرہ بھیجیں