بلوچ یکجہتی کمیٹی دھرنے کی حمایت کی تھی،بلوچستان میں کوئی صنعت نہیں، بی این پی نے 32 نکاتی منشور پیش کردیا
کوئٹہ (آن لائن) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 263سے نامزد امیدوار صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے پارٹی کے 32 نکاتی انتخابی منشور کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں لا قانونیت، سیاسی عدم استحکام، فرقہ واریت اور وسائل کی لوٹ کھسوٹ قابل تشویش ہے ۔ پولیس اور لیویز کو فرائض کی انجام دہی میں مشکلات درپیش ہیں کرپشن اور اقربا پروری کے باعث ملک بحرانوں کا شکار ہے ان تمام بحرانوں سے نکالنے کے لئے صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات و سابق وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ، سابق رکن صوبائی اسمبلی شکیلہ نوید دہوار، غلام نبی مری، میر غلام رسول مینگل سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی نے ہمیشہ ساحل و وسائل پر دسترس، مسائل کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کیا ہے اور عوام کے دیرینہ مسائل کو یقینی بنانے کے لئے انتخابات سمیت ہر فورم پر آواز بلند کی ہے اس لئے پارٹی نے اپنے 32 نکاتی انتخابی منشور کو پیش کردیا ہے کیونکہ آج جو بھی جماعتیں تنظیمیں یا کمیٹی بلوچستان کے حقوق کے حصول اور مسائل کے حل کیلئے تجاویز دے رہی ہے وہ بلوچستان نیشنل پارٹی نے پہلے ہی حکومت اور متعلقہ حکام سمیت اپنے لوگوں کے سامنے رکھے ہیں۔ اس لئے ہماری جماعت نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دھرنے میں شرکت اور پہلے روز ہی ان کے جائز مطالبات کی حمایت کی تھی بلوچستان میں کوکوئی صنعت نہیں لیکن افغانستان اور ایران سے بارڈر ٹریڈ کو بھی بند کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے صوبے میں بے روزگاری بڑھی ہے اور لوگوں کو روزگار کے ذرائع بروئے کار لانے میں مشکلات پیش آرہی ہے ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو زندگی کے ہر شعبے میں برابری کی بنیاد میں رکھا جائے گوادر پورٹ دنیا کی طاقتور معیشت بن رہا ہے لیکن بلوچستان کو ایک فیصد بھی اس سے فائدہ نہیں پہنچ رہا جس کی وجہ سے سیاسی جماعتوں اور بلوچستان کے باسیوں کے شدید تحفظات اور خدشات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی حمایت کرنے پر 500 لاپتہ افراد بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے 32 نکاتی انتخابی منشور میں تعلیم، صحت، پینے کا صاف پانی، روڈ انفراسٹرکچر، بجلی گیس سمیت لوگوں کو ڈومیسائل شناختی دستاویزات اور تعلیمی اداروں میں داخلوں سمیت مزدوروں کے مسائل پالیسیوں ، منشیات کے خاتمے ، روزگار کی فراہمی، شہر میں سیوریج اور صفائی کے نظام کی بہتری، ٹریفک اور واسا کے مسائل کے حل کے لئے ان تمام ایشوز کو منشور کا حصہ بنایا گیا ہے۔


