ٹرمپ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کیلئے بہت اچھے ثابت ہوں گے ، عمران خان
پاکستان اور امریکہ کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدارتی انتخاب کا نتیجہ جو بھی ہو پاکستان کے حوالے سے امریکی پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئے گی۔واشنگٹن میں واقع بروکنگز انسٹٹیوٹ سے منسلک تجزیہ کار مدیحہ افضل کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخاب کے بعد ’ہمیں نہیں معلوم کہ وائٹ ہاؤس کا اگلے مکین پاکستان کے لیے کیا چاہیں گے کیونکہ دونوں ہی امیدواروں کی طرف سے کچھ بھی ایسے اشارے نہیں دیے گئے کہ انھوں نے اپنی پاکستان سے متعلق پالیسی کے بارے میں کچھ سوچا ہے۔‘پاکستان کی سیاسی صورتحال اور پی ٹی آئی کے حامیوں کی توقعات کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں مدیحہ افضل کا کہنا تھا کہ ’انھیں نہیں لگتا کہ امریکی کوششوں کے نتیجے میں عمران خان کی رہائی ممکن ہے کیونکہ اس کے لیے پاکستانی حکومت اور فوج پر شدید دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہو گی۔‘وہ کہتی ہیں کہ ’ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بطور صدر آخری دو برسوں میں ان کے عمران خان سے اچھے ذاتی تعلقات رہے ہیں لیکن عمومی طور پر ٹرمپ جمہوری اصولوں کے لیے نہیں کھڑے ہوتے بلکہ انھوں نے دنیا بھر میں آمرانہ طرزِ حکومت اپنانے والے حکمرانوں کی طرف جھکاؤ ظاہر کیا ہے۔‘صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت پر عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے ایک پوسٹ میں کہا گیا کہ ’صدر ٹرمپ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کے لیے بہت اچھے ثابت ہوں گے اور اس کی بنیاد باہمی احترام اور انسانی حقوق ہوں گے۔‘’ہمیں امید ہے کہ وہ بین الاقوامی امن، انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے کام کریں گے۔
‘دوسری جانب پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ امریکی صدارتی انتخاب میں کسی ایک امیدوار کی حمایت نہیں کر رہے۔برطانیہ میں مقیم پی ٹی آئی کے رہنما زُلفی بخاری نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ ’ہم پالیسیوں کی طرف دیکھتے ہیں، افرد کی طرف نہیں۔‘لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عمران خان اور صدر ٹرمپ میں اچھی دوستی ہے۔‘اسی طرح کے خیالات کا اظہار امریکہ میں مقیم پی ٹی آئی کے رہنما عاطف خان نے بھی کیا۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ابھی پانچ ہفتوں پہلے ٹرمپ کی ملاقات ایک بااثر پاکستانی سے ہوئی اور اس ملاقات میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ میں میں یقینی بناؤں گا کہ میرے دوست عمران خان جیل سے باہر آئیں۔‘جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ ’با اثر پاکستانی‘ کون تھا تو انھوں نے نام بتانے سے انکار کر دیا۔ تاہم یہ ضرور کہا کہ اس شخص کا تعلق پی ٹی آئی سے نہیں۔بی بی سی اردو ان کے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’میں بطور پی ٹی آئی کا رہنما امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کو بالکل یہ نہیں کہوں گا کہ آپ سارے جاؤ اور ٹرمپ کو ووٹ دو۔‘پی ٹی آئی رہنماؤں کے تمام دعوؤں کے باوجود بھی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ اگر ٹرمپ جیت بھی جائیں تب بھی یہ مشکل نظر آتا ہے کہ عمران خان کی حمایت کریں۔ماضی میں پاکستان میں تعینات رہنے والی سابق امریکی سفارتکار اور سٹمسن سینٹر میں ساؤتھ ایشیا پروگرام کی ڈائریکٹر ایلزبیتھ تھریلکلیڈ کہتی ہیں کہ ’سنہ 2019 میں واشنگٹن کے دورے کے دوران ٹرمپ اور عمران خان کی ملاقات بہت اچھی رہی تھی، لیکن مجھے اس بات کی توقع نہیں کہ اس کا نتیجہ عمران خان کے لیے کسی معنی خیز حمایت کی صورت میں میں نکلے گا۔‘وہ سمجھتی ہیں کہ امریکی صدارتی انتخاب کے بعد بھی امریکہ کی پاکستان پالیسی میں کوئی خاص یا بڑی تبدیلی آنے کا امکان نہیں ہے، ’ہاں اب اگر خطے میں کوئی بڑی پیشرفت ہوجائے یا کوئی حیران کُن واقعہ رونما ہوجائے تو وہ الگ بات ہے۔‘تاہم سابق امریکی سفارتکار کے مطابق اگر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر صدر منتخب ہوتے ہیں تو پاکستان کے حوالے سے ’ان کی توجہ ماحولیاتی معاملات کے حوالے سے تعاون پر کم ہوگی اور اس میں اُتار چڑھاؤ کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ چین اور ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی کتنی سخت گیر ہے۔‘


