حب،تیکسز، مہنگی بجلی اور غیر ملکی سستی ماربل کی در آمد کی وجہ سے ماربل سٹی زبوں حالی کا شکار

حب( رپورٹ/عزیز لاسی) گڈانی ماربل سٹی حب کا قیام اور عروج کے بعد زوال کا شکار ٹیکسسز کی بھر مار مہنگی بجلی اور مارکیٹ میں غیر ملکی سستی ماربل اشیاء کی درآمد سمیت لوکل خام مال کی سپلائی چین میں رکاوٹوں اور انفراسٹکچر کی سہولتوںکے فقدان نے ماربل سٹی کی زبوں حالی میں اہم کردار ادا کیا حکومتی اداروں کی عدم توجہی پالیسی ساز اداروں کی عدم دلچسپی اور مقامی سطح پر بڑھتی ہوئی رکاوٹوں سے سرمایہ کاروں نے ہاتھ کھینچ لیا ماربل سٹی کی زبوں حالی کی وجہ سے لسبیلہ حب دریجی اور سارونہ خضدار کے مائن اونر ز بھی مایوسی کا شکار ہونے لگے تو دوسری طرف بیروزگار ی میں بھی اضافہ ہو نے لگا ماربل سٹی میں سیکورٹی کے انتظامات پربھی ماربل انڈسٹری کے مالکان کے تحفظات ہیں بلوچستان ایک زرعی اور معدنی خطہ ہے لیکن حکومت کی طرف دونوں سیکٹرعدم توجہی کا شکار ہیں لسبیلہ انڈسٹریل اسٹیٹس ڈیولپمنٹ اتھارٹی (لیڈا) کے زیر اہتمام حب شہر کے بالکل قریب کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ N25کے کنارے گڈانی ماربل سٹی کا قیام 2004ء میں عمل میں لایا گیا اور 2006ء میں یہ صنعت فعال ہوئی اور 2006ء سے 2012ء تک گڈانی ماربل سٹی ملک بھر کی واحد ابھرتی ہوئی ماربل صنعت کے طور پر اُبھرکر سامنے آئی بعدازاں اس سیکٹر پر حکومتی اداروں کی عدم توجہی اور بڑھتے ہوئے مسائل نے ماربل سٹی کو زبوں حالی کی دلدل میں ڈال دیا جو کہ ہنوز برقرار ہے جبکہ برآمدات کے حجم میں واضح کمی آئی ہے اس حوالے سے گڈانی ماربل سٹی کے ایک کارخانہ دار اور مائن اونر آل پاکستان ماربل انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین شبیر احمد بلوچ نے ایک ملاقات میں اس صنعت کے عروج وزوال کے بارے میں چشم کشا انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ماربل سٹی انڈسٹری کے فروغ کے کافی مواقع دستیاب ہیں خاص طور پر صوبہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں اور بلوچستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ملک کی پہلی ماربل سٹی کا قیام لیڈا کے زیر اہتمام حب کے قریب عمل میں لایا گیا اور ایک وژن کے ساتھ لوکل مائیننگ سیکٹر کو فروغ دینے پر کام کا آغاز کیا گیا اور یہاں سے ایکسپورٹ کو بڑھایا جائے گا تاکہ اسکے عوض نہ صرف بلوچستان کے مائن اونر بلکہ یہاں پر ہنر مند افراد کو فائدہ مل سکے روزگار کے مواقع پیدا کئے جاسکیں اور بیرون ملک سے زر مبادلہ کمایا جاسکے انھوں نے بتایا کہ اسوقت کی حکومت اور لیڈا انتظامیہ نے اس اندسٹری کو بھر پور طریقے سے آگے بڑھانے کی کوشش کی لیکن بدقسمتی سے بعد میں آنے والی حکومتوں اور لیڈا انتظامیہ نے اس طرف اپنی توجہ کم کردی انھوں نے بتایا کہ ماربل سٹی گڈانی کے قیام اورعروج کے بعد بلوچستان کو یہ اعزاز حاصل رہا کہ ملک بھر سے سب سے زیادہ مال ایکسپورٹ ہونے لگا تھا گڈانی ماربل سٹی کے قیام کے بعد یہاں پر 60کارخانوں نے کام کا آغاز کیا تاہم بعدازاں سپلائی چین کے ایشوز کی وجہ سے 35کارخانے بند ہو چکے ہیں سپلائی چین کے بارے میں شبیر احمد بلوچ کا کہنا تھا کہ جو خام مال ماربل کارخانوں کو درکار ہے اسکی دستیابی میں رکاوٹیں حائل ہوتی گئیں اور یہ سلسلہ اب کافی گھمبیر صورتحال اختیار کر چکا ہے انھوں نے بتایا کہ اُسکی اصل وجہ پراپر مائیننگ ہے اور قانونی مائیننگ کو فروغ دینے کے بجائے دوسرے طریقے استعمال کئے گئے جس سے نہ صرف حکومتی ٹیکسز(ریونیو) میں نقصان ہوتا رہا تو دوسری طرف مائننگ پر سرمایہ کاری کرنے والے اپنے سرمائے کی عدم تحفظ کی وجہ سے نقصان کا سامنا کرتے رہے انہوں ے نے بتایا کہ گڈانی ماربل سٹی کے عروج کے وقت صرف اس انڈسٹری سے برآمدات کا سالانہ حجم 49ہراز ارب تھا جو اسوقت پورے ملک کا ماربل ایکسپورٹ کا حجم 15سے20ارب پر آکر رک گیا ہے جوکہ ملکی معیشت کے لحاظ سے محہ فکریہ ہے مائئیننگ میں جدید سہولتوں جدید مشینری کی عدم دستیابی اور سرمایہ کاری میں عدم دلچسپی کی وجہ سے مینول مائیننگ میں کوالٹی کا فقدان ہے جسکی وجہ سے مقامی اور عالمی مارکیٹ کے معیار پر پورا اُتر نہ سکے اور یہی وجہ تھی کہ ماربل سٹی کا گراف دن بدن گرتا چلا گیا اور اس تمام معاملات کے پیچھے حکومتی پالیسیاں ہیں انھوں نے بتایا کہ اب بھی وقت ہے کہ حکومت پاکستان اور حکومت بلوچستان کوئی سودمند بہتر پالیسی مرتب کرے تو یہاں پر ماربل انڈسٹری کو ایک بار پھر سے عروج مل سکتا ہے او ر اس انڈسٹری اور مائن اونر ز کو اسٹیک ہولڈرز کے طور پر پالیسی ساز اداروں کا حصہ بنایا جائے انھوں نے بتایا کہ بلوچستان کے جتنے بھی اضلاع ہیں معدنی ذخائر میں وہاں پر اگر سمال اسکیل مائیننگ کو فروغ دینے کیلئے مواقع پیدا کئے جائیں اور پراسسر کی خام مال کی ضرورت کو پورا کیا لائے تو بلوچستان کی سطح پر ایکسپورٹ میں بہتری لائی جاسکتی ہے اس سے حکومت کو ریونیو ملے گا اور لوگوں کو روزگار ملے گا جرائم میں کمی ہوگی اور یہ واحد سیکٹر ہے جو کہ ان علاقوں میں جہاں تک حکومتی اداروں کا پہنچنا مشکل ہے وہاں پر انویسٹمنٹ کرنے والوں کی مدد سے اچھے نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں انفراسٹکچر میں بہتری کے ساتھ ساتھ دور دراز علاقوں کے رہنے والے لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری کی امید کی جاسکتی ہے اور حکومت پر مسائل کے حل کے حوالے سے دبائو میں کمی لائی جاسکتی ہے اور اگر ان معاملات کو نظر انداز کیا گیا تو نہ صرف حکومت کے ریونیو میں مزید کمی کا امکان ہو سکتا ہے بلکہ بیروزگار ی اور جرائم کی شرح بھی بڑھنے کا اندیشہ ہے انھوں نے کہا کہ اگر حکومت بلوچستان نے گڈانی ماربل سٹی پر توجہ نہ دی تو حکومت سندھ نے کراچی میں ماربل سٹی کے قیام کا اعلان کیا تو خدشہ ہے کہ یہاں پر قائم باقی ماندہ کارخانے بھی بند ہو سکتے ہیں اور اس انڈسٹری سے وابستہ سرمایہ کار وہاں منتقل ہو جائینگے انھوں نے کہاکہ لاء اینڈ آرڈر سمیت انویسٹرز اور ایڈسٹریز کے تحفظ کی ضمانت کو یقینی بنایا جائے تو امید ہے کہ انویسٹربلوچستان آنے کو تیار ہے شبیر احمد بلوچ کے مطابق گڈانی ماربل سٹی کے قیام کا اعلان 2024ء میں ہوا اور آج2024ء میں بیٹھے ہیں اور چند دنوں میں 2025ء کا آغاز ہونے والاہے لیکن بنیادی سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے سرمایہ کاری کرنے والے لوگ دلبردشتہ ہو چکے ہیں انھوں نے بتایا کہ بلوچستان کے مسئلہ کا حل صنعتی اور زرعی اور معدنی ترقی میں ہے جس قدر ان سیکٹرز پر زیادہ توجہ دی جائے گی بلوچستان کے وسائل میں اضافہ ہو گا بیروزگاری کا خاتمہ ہو گا لوگ اپنے روزگار سے وابستہ ہو نگے انکا معیار زندگی بڑھے گا تو مسائل کم ہونگے اور انارکی کا خاتمہ ہو گا انھوں نے بتایا کہ حکومت کو چاہئے کہ ہنر مند افراد کی تعداد بڑھانے کیلئے مختلف ٹریڈ میں شارٹ ٹرم اسکیل پیدا کر یں انھوں نے کہا کہ اس وقت بلوچستان میں ہنر مند افراد کی کمی ہے جو کہ ایک بڑا المیہ ہے جسکی وجہ سے باہر سے لانے والے ہنر مند افراد کی نہ صرف سیکورٹی کا مسئلہ ہوتا ہے بلکہ اُن پر اخراجات بھی زیادہ آتے ہیں انکا مزید کہنا تھا کہ مہنگی بجلی سے چھٹکارہ پانے کیلئے سولر رائریشن سسٹم کو نصبکرکے سستی بجلی کارخانہ داروں کو دی جائے

اپنا تبصرہ بھیجیں