کورونا۔ چین سے امریکہ تک

چینی وزارت خارجہ کے مطابق کورونا وائرس امریکی لیبارٹریوں میں تیار کیا گیا اور اسے چین میں منتقل کرنے میں امریکی فوجی ملوث ہیں لیکن شاہد امریکی حکام کو اندازہ نہیں تھا کہ سوشلسٹ چین ان سے اور تمام سرمایہ دار ممالک سے اس حوالے سے قطعی مختلف ہے چینی حکومت خاص طور سے چینی کمیونسٹ پارٹی کے مختلف ادوار میں چینی عوام کو مختلف اقسام کے مصائب سے نکالنے میں عقل و دانش کے ساتھ کامیابی حاصل کی ہے چینی صدر اور کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل ژی جن پنگ نے چین میں کورونا وائرس پھوٹنے پر اعلان کیا تھا کہ کورونا کے خلاف بھی جنگ کریں گے اور اس میں کامیابی حاصل کریں گے اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق چین کورونا کے خلاف جنگ جیت رہا ہے اب تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کورونا کے خلاف چینی حکومت کی کامیابیوں کے معترف ہیں چین میں وائرس پھیلانے والوں نے چینی معیشت کو ضرور نقصان پہنچایا ہوگا لیکن ایک سوشلسٹ معاشرے کے اصولوں کے مطابق حکومت اور عوام نے یک جان ہو کر اس وباء سے نمٹنے کیلئے دن رات کام کیا یہاں تک کہ چین ہی میں دس روز میں 1000بستروں کے ہسپتال کی تعمیر کا معجزہ رونما ہوا معروف فلسفی برتنڈرسل نے ماؤ کے لانگ مارچ کو بیسویں صدی کا معجزہ قرار دیا گیا تھا لیکن صدر ژی جن پنگ کی قیادت کورونا کو شکست دے کر چینی عوام نے ماؤ کی اس بات کو ایک بار پھر درست ثابت کر دیا ہے کہ جب تک چینی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ چین کے عوام کھڑے ہیں وہ کوئی بھی معجزہ کر سکتی ہے چین پر کورونا تھوپنے اور پھر چین ہی کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے مغربی ممالک اب خود کورونا وائرس کے حملے کا بری طرح شکار ہیں کورونا نے دنیا کا نظام مفلوج کر کے رکھ دیا ہے سرمایہ دار دنیا کا بحران کئی گنا بڑھ گیا ہے صرف اٹلی میں ہی تباہی نہیں ہوئی اب یورپ کے دیگر ممالک بھی بری طرح متاثر نظر آ رہے ہیں جن میں برطانیہ اور امریکہ بھی شامل ہیں یہاں تک کے خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں بھی افواہ پھیل گئی ہے کہ وہ بھی کورونا کا شکار ہیں اب دیکھنا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے حامل ممالک اس وباء سے کس طرح نمٹتے ہیں چین کے سوشلسٹ نظام اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے درمیان میدان سج گیا ہے اور یہ فیصلہ جلد ہو جائیگا کہ اس وباء سے نمٹنے میں کس کے پاس کیا صلاحیت ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں